المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب من يعرف من النساء بالكنى لمن لم ينته إلينا أسماؤهن ممن لهن صحبة فمنهن أم كلثوم بنت عقبة بن أبي معيط امرأة عبد الرحمن بن عوف — ما أسندت أم سليم باب: وہ خواتین جو کنیتوں سے معروف ہیں اور جن کے اصل نام ہم تک نہیں پہنچے، صحابیات میں سے تھیں؛ انہی میں سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زوجہ، بھی شامل ہیں — سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ ابْنٌ لِي وَزَوْجِي غَائِبٌ فَقُمْتُ فَسَجَّيْتُهُ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَدِمَ زَوْجِي فَقُمْتُ فَتَطَيَّبْتُ لَهُ فَوَقَعَ عَلَيَّ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِطَعَامٍ فَجَعَلَ يَأْكُلُ فَقُلْتُ: إِلَّا أُعْجِبُكَ مِنْ جِيرَانِنَا؟ قَالَ: وَمَا لَهُمْ؟ قُلْتُ: أُعِيرُوا عَارِيَةً فَلَمَّا طُلِبَتْ مِنْهُمْ جَزَعُوا. قَالَ: بِئْسَ مَا صَنَعُوا، فَقُلْتُ: هَذَا ابْنُكَ، قَالَ: لَا جَرَمَ لَا تَغْلِبِينِي عَلَى الصَّبْرِ اللَّيْلَةَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدًا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: «اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي لَيْلَتِهِمْ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْمَسْجِدِ سَبْعَةً كُلُّهُمْ قَدْ قَرَأُوا الْقُرْآنَ»سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرا ایک بیٹا فوت ہو گیا جبکہ میرے شوہر (سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ) موجود نہیں تھے، تو میں نے اٹھ کر اسے گھر کے ایک گوشے میں ڈھانپ دیا۔ پھر میرے شوہر آئے، تو میں نے اٹھ کر ان کے لیے خوشبو لگائی، اور وہ میرے پاس آئے۔ پھر میں ان کے لیے کھانا لائی تو وہ کھانے لگے، میں نے کہا: کیا آپ کو ہمارے پڑوسیوں کی بات تعجب انگیز نہیں لگتی؟ انہوں نے پوچھا: انہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا: انہیں کوئی چیز عاریتاً دی گئی تھی، پھر جب ان سے واپس مانگی گئی تو وہ پریشان ہو گئے۔ انہوں نے کہا: انہوں نے برا کیا۔ میں نے کہا: یہ آپ کا بیٹا ہے (جو فوت ہو گیا ہے)۔ انہوں نے کہا: یقیناً تم آج رات صبر میں مجھ پر غالب نہیں آؤ گی۔ جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور انہیں بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! انہیں ان کی اس رات میں برکت دے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے اس کے بعد ان کی اولاد میں سے سات افراد مسجد میں دیکھے، وہ سب کے سب قرآن پڑھ چکے تھے۔