حدیث نمبر: 21757
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ فَرُّوخَ التَّمِيمِيُّ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: كُنْتُ فِي بَعْضِ حُجَرِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ عِنْدَهُ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَشَكَا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ، فَقَالَ: «اصْبِرْ فَوَاللهِ مَا فِي آلِ مُحَمَّدٍ شَيْءٌ مُنْذُ سَبْعٍ، وَلَا أُوَقِدَ تَحْتَ بُرْمَةٍ لَهُمْ مُنْذُ ثَلَاثٍ، وَاللهِ لَوْ سَأَلْتُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَ جِبَالَ تِهَامَةَ كُلَّهَا ذَهَبًا لَفَعَلَ»
ترجمہ

… سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی ازواج کے کچھ حجروں میں سے ایک میں تھی، اور آپ ﷺ وہاں موجود تھے، کہ ایک آدمی آپ ﷺ کے پاس آیا اور اپنی ضرورت کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبر کرو، اللہ کی قسم! آلِ محمد کے پاس سات دن سے کچھ نہیں، اور تین دن سے ان کے لیے کسی ہانڈی کے نیچے آگ نہیں جلائی گئی۔ اللہ کی قسم! اگر میں اللہ سے سوال کروں کہ وہ تہامہ کے تمام پہاڑوں کو سونا بنا دے تو وہ ضرور ایسا کر دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21757
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 121، حدیث 295