حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَحْرٍ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ بَيَانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا كَانَ " يَوْمُ الْقِيَامَةِ قِيلَ: يَا أَهْلَ الْجَمْعِ، غُضُّوا أَبْصَارَكُمْ حَتَّى تَمُرَّ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ فَتَمُرُّ وَعَلَيْهَا رَيْطَتَانِ خَضْرَاوَانِ أَوْ حَمْرَاوَانِ "
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب قیامت کا دن ہوگا تو کہا جائے گا: اے جمع ہونے والو! اپنی نگاہیں نیچی کر لو یہاں تک کہ فاطمہ بنت محمد گزر جائیں۔ تو وہ گزریں گی، اور ان پر دو سبز، یا دو سرخ چادریں ہوں گی۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَحْيَى الرَّقِّيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الرَّهَاوِيُّ، ثنا أَبُو قَتَادَةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ فَاطِمَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَرَاكَ تَفْعَلُ شَيْئًا مَا كُنْتُ أَرَاكَ تَفْعَلُهُ مِنْ قَبْلُ فَقَالَ لِي: «يَا حُمَيْرَاءُ، إِنَّهُ لَمَّا كَانَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي إِلَى السَّمَاءِ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَوَقَفْتُ عَلَى شَجَرَةٍ مِنْ شَجَرِ الْجَنَّةِ لَمْ أَرَى فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً هِيَ أَحْسَنُ مِنْهَا حُسْنًا، وَلَا أَبْيَضَ مِنْهَا وَرَقَةً، وَلَا أَطْيَبَ مِنْهَا ثَمَرَةً فَتَنَاوَلْتُ ثَمَرَةً مِنْ ثَمَرَتِهَا فَأَكَلْتُهَا فَصَارَتْ نُطْفَةً فِي صُلْبِي، فَلَمَّا هَبَطْتُ الْأَرْضَ وَاقَعْتُ خَدِيجَةَ فَحَمَلَتْ بِفَاطِمَةَ، فَإِذَا أَنَا اشْتَقْتُ إِلَى رَائِحَةِ الْجَنَّةِ شَمَمْتُ رِيحَ فَاطِمَةَ، يَا حُمَيْرَاءُ، إِنَّ فَاطِمَةَ لَيْسَتْ كَنِسَاءِ الْآدَمِيِّينَ وَلَا تَعْتَلُّ كَمَا يَعْتَلُّونَ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بوسہ لیتے دیکھتی تھی، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو ایسا کام کرتے دیکھ رہی ہوں جو پہلے نہیں دیکھتی تھی۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے حمیراء! جب مجھے معراج کی رات آسمان کی طرف لے جایا گیا تو مجھے جنت میں داخل کیا گیا، تو میں جنت کے ایک درخت کے پاس رکا، میں نے جنت میں اس سے زیادہ خوبصورت کوئی درخت نہیں دیکھا، نہ اس سے زیادہ سفید پتے والا، نہ اس سے زیادہ عمدہ پھل والا۔ تو میں نے اس کا ایک پھل توڑا اور کھایا، تو وہ میری پشت میں نطفہ بن گیا۔ جب میں زمین پر اترا تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، تو وہ فاطمہ کے ساتھ حاملہ ہوئیں۔ چنانچہ جب بھی مجھے جنت کی خوشبو کی طلب ہوتی ہے تو میں فاطمہ کی خوشبو سونگھ لیتا ہوں۔ اے حمیراء! فاطمہ عام آدمی زاد عورتوں کی طرح نہیں ہے، اور نہ اسے ان کی طرح تکلیف ہوتی ہے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ومُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ الْقَزَّازُ، قَالَ: ثنا حُسَيْنُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، وَعَلِيُّ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ: «إِنَّ اللهَ يَغْضَبُ لِغَضَبِكِ وَيَرْضَى لِرَضَاكِ»
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”بے شک اللہ تمہارے غصے کی وجہ سے ناراض ہوتا ہے اور تمہاری رضا کی وجہ سے راضی ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمُرُّ بِبَيْتِ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ إِذَا خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ وَيَقُولُ: " الصَّلَاةُ، {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] "
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب فجر کی نماز کے لیے نکلتے تو چھ ماہ تک سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پاس سے گزرتے اور فرماتے: ”نماز کا وقت ہے“، اور یہ آیت پڑھتے: ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ناپاکی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ [سورۃ الاحزاب: 33]۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ابْنَا مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے جہان کی عورتوں میں سے یہی کافی ہیں: مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، آسیہ بنت مزاحم (فرعون کی بیوی)، اور فاطمہ بنت محمد ﷺ۔“
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُطَرَّزُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ثنا تَمِيمُ بْنُ الْجَعْدِ، قَالُوا: ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ»
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہان کی عورتوں میں سب سے بہتر: مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم، خدیجہ بنت خویلد، اور فاطمہ بنت محمد علیہ السلام ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَذَا مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ لِيُسَلِّمَ عَلَيَّ وَلِيَزُورَنِي، لَمْ يَهْبِطْ إِلَى الْأَرْضِ قَبْلَهَا، وَبَشَّرَنِي أَنَّ حَسَنًا وَحُسَيْنًا سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأُمَّهَمَا سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ»
ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے جس نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرے اور میری زیارت کرے، وہ اس سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا تھا، اس نے مجھے خوشخبری دی کہ حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان کی ماں جنتی عورتوں کی سردار ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مَلَكًا مِنَ السَّمَاءِ لَمْ يَكُنْ زَارَنِي، فَاسْتَأْذَنَ اللهَ فِي زِيَارَتِي فَبَشَّرَنِي، أَوْ أَخْبَرَنِي أَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أُمَّتِي»
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آسمان کا ایک فرشتہ جو پہلے کبھی میری زیارت کو نہیں آیا تھا، اس نے میری زیارت کی اجازت مانگی، تو اس نے مجھے خوشخبری دی، یا بتایا کہ فاطمہ میری امت کی عورتوں کی سردار ہے۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ السَّمْتِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ أَهْلِ بَيْتِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «أَحَبُّ أَهْلِي إِلَيَّ فَاطِمَةُ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: آپ کے اہل بیت میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے اہل میں سب سے زیادہ محبوب مجھے فاطمہ ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَمَّتِي عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: «فَاطِمَةُ»
ترجمہ
جمیع بن عمیر کہتے ہیں: میں اپنی پھوپھی کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور عرض کیا: اے ام المومنین! رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ انہوں نے کہا: ”فاطمہ۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَخَالَتِي، عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ لَهَا خَالَتِي: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مِنْ كَانَ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ»
ترجمہ
جمیع بن عمیر کہتے ہیں: میں اور میری خالہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، تو میری خالہ نے ان سے پوچھا: اے ام المومنین! رسول اللہ ﷺ کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ انہوں نے کہا: ”آپ ﷺ کی بیٹی فاطمہ۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ: أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: «إِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا»
ترجمہ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو منبر پر یہ فرماتے سنا: ”میری بیٹی مجھ سے ایک ٹکڑا ہے، جو چیز اسے پریشان کرے وہ مجھے پریشان کرتی ہے، اور جو چیز اسے تکلیف دے وہ مجھے تکلیف دیتی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّمَا ابْنَتِي، يَعْنِي فَاطِمَةَ، بَضْعَةٌ مِنِّي يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا»
ترجمہ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر چڑھے، اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”میری بیٹی، یعنی فاطمہ، مجھ سے ایک ٹکڑا ہے، جو چیز اسے پریشان کرے وہ مجھے پریشان کرتی ہے، اور جو چیز اسے تکلیف دے وہ مجھے تکلیف دیتی ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي مَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي»
ترجمہ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ مجھ سے ایک ٹکڑا ہے، جو اسے ناراض کرے وہ مجھے ناراض کرتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا، خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّ فَاطِمَةَ بَضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا وَيُغْضِبُنِي مَا أَغْضَبَهَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام بھیجا، تو یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ مجھ سے ایک ٹکڑا ہے، جو چیز اسے تکلیف دے وہ مجھے تکلیف دیتی ہے، اور جو چیز اسے ناراض کرے وہ مجھے ناراض کرتی ہے۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ هَارُونَ النَّوْفَلِيُّ الْمَدَنِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأُوَيْسِيُّ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، عَنْ أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ، عَنْ أَبِيهَا: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ فَاطِمَةَ شُجْنَةٌ مِنِّي وَيُغْضِبُنِي مَا أَغْضَبَهَا وَيُبْسِطُنِي مَا يُبْسِطُهَا»
ترجمہ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ مجھ سے ایک قریبی رشتہ ہے، جو چیز اسے ناراض کرے وہ مجھے ناراض کرتی ہے، اور جو چیز اسے خوش کرے وہ مجھے خوش کرتی ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَرْمٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ حُرَّةَ، عَنْ أَسْمَاءِ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: خَطَبَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ فَاطِمَةَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ أَسْمَاءَ مُتَزَوِّجَةٌ عَلِيًّا فَقَالَ: «مَا كَانَ لَهَا أَنْ تُؤْذِيَ اللهَ وَرَسُولَهُ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا، تو یہ بات سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پہنچی، تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اسماء علی سے نکاح کرنے لگی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے یہ زیبا نہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ سَلِيطٍ، وأَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَوْفٍ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي زِنَادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ يَقُولُ: ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَلِيٌّ قَائِمٌ، وَهِيَ مُضْطَجِعَةٌ وَأَبْنَاؤُهَا إِلَى جَنْبِهَا، فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى لِقْحَةٍ فَحَلَبَ لَهُمْ فَأَتَى بِهِ فَاسْتَيْقَظَ الْحُسَيْنُ، فَجَعَلَ يُعَالِجُ أَنْ يَشْرَبَ قَبْلَهُ حَتَّى بَكَى فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَخَاكَ اسْتَسْقَى قَبْلَكَ» ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: كَأَنَّ الْحَسَنَ آثَرُ عِنْدَكَ، قَالَ: «مَا هُوَ بِآثَرَ عِنْدِي مِنْهُ، وَإِنَّمَا هُمَا عِنْدِي بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ، وَإِنِّي وَإِيَّاكَ وَهُمَا وَهَذَا النَّائِمُ لَفِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
…رسول اللہ ﷺ ایک دودھ دینے والی اونٹنی کے پاس گئے اور ان کے لیے دودھ دوہا، پھر اسے لے آئے، تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ جاگ گئے اور اسے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے پہلے پینے کی کوشش کرنے لگے، یہاں تک کہ رو پڑے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بھائی نے تم سے پہلے پانی مانگا تھا۔“ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: گویا حسن آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں، بلکہ میرے نزدیک دونوں ایک ہی درجے پر ہیں، اور میں، تم، یہ دونوں اور یہ سویا ہوا بچہ بھی قیامت کے دن ایک ہی مقام پر ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ سَلِيطٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ، فَقَامَ إِلَى مَسْحَةٍ لَنَا نكيهِ فِيضَ مِنْهَا، ثُمَّ جَاءَ بِالْإِنَاءِ فَقَامَ إِلَيْهِ الْحُسَيْنُ يَسْتَسْقِيهِ، فَقَالَ: «أَخُوكَ اسْتَسْقَى قَبْلَكَ يَشْرَبُ ثُمَّ تَشْرَبُ» ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: كَأَنَّهُ أَحَبُّهُمَا إِلَيْكَ فَقَالَ: «مَا هُوَ بِأَحَبِّهِمَا إِلَيَّ وَإِنَّهُمَا عِنْدِي لَبِمَكانٍ وَاحِدٍ فَإِنِّي وَإِيَّاكَ وَهُمَا وَهَذَا الرَّاقِدُ لَفِي مَكَانٍ وَاحِدٍ»
ترجمہ
…اور میں سو رہا تھا، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا، تو رسول اللہ ﷺ ہماری ایک دودھ دینے والی جانور کی طرف اٹھے، پھر برتن لے کر آئے، تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بھی اس سے پانی مانگنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بھائی نے تم سے پہلے مانگا ہے، وہ پیے پھر تم پیو۔“ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: گویا وہ آپ کو ان دونوں میں زیادہ محبوب ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مجھے ان دونوں میں زیادہ محبوب نہیں، اور یہ دونوں میرے نزدیک ایک ہی مقام پر ہیں، اور میں، تم، یہ دونوں اور یہ سویا ہوا بچہ ایک ہی مقام پر ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فَاطِمَةَ حَصَّنَتْ فَرْجَهَا فَحَرَّمَهَا اللهُ وَذُرِّيَّتَهَا عَلَى النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ نے اپنی عصمت کی حفاظت کی، تو اللہ نے اسے اور اس کی اولاد کو جہنم پر حرام کر دیا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، ثنا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ، فَقَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟» ، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہیں؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنتی عورتوں میں سب سے افضل: مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم، خدیجہ بنت خویلد، اور فاطمہ بنت محمد ﷺ ہیں۔“