المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ومن مناقب فاطمة رضي الله عنها باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مزید فضائل
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ سَلِيطٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ، فَقَامَ إِلَى مَسْحَةٍ لَنَا نكيهِ فِيضَ مِنْهَا، ثُمَّ جَاءَ بِالْإِنَاءِ فَقَامَ إِلَيْهِ الْحُسَيْنُ يَسْتَسْقِيهِ، فَقَالَ: «أَخُوكَ اسْتَسْقَى قَبْلَكَ يَشْرَبُ ثُمَّ تَشْرَبُ» ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: كَأَنَّهُ أَحَبُّهُمَا إِلَيْكَ فَقَالَ: «مَا هُوَ بِأَحَبِّهِمَا إِلَيَّ وَإِنَّهُمَا عِنْدِي لَبِمَكانٍ وَاحِدٍ فَإِنِّي وَإِيَّاكَ وَهُمَا وَهَذَا الرَّاقِدُ لَفِي مَكَانٍ وَاحِدٍ»سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ میں سویا ہوا تھا، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا، تو رسول اللہ ﷺ ہماری ایک دودھ دینے والی جانور کی طرف اٹھے، پھر برتن لے کر آئے، تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بھی اس سے پانی مانگنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بھائی نے تم سے پہلے مانگا ہے، وہ پیے پھر تم پیو۔“ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: گویا وہ آپ کو ان دونوں میں زیادہ محبوب ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مجھے ان دونوں میں زیادہ محبوب نہیں، اور یہ دونوں میرے نزدیک ایک ہی مقام پر ہیں، اور میں، تم، یہ دونوں اور یہ سونے والا ایک ہی مقام پر ہیں۔“