حدیث نمبر: 19219
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ سَلِيطٍ، وأَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَوْفٍ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي زِنَادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ يَقُولُ: ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَلِيٌّ قَائِمٌ، وَهِيَ مُضْطَجِعَةٌ وَأَبْنَاؤُهَا إِلَى جَنْبِهَا، فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى لِقْحَةٍ فَحَلَبَ لَهُمْ فَأَتَى بِهِ فَاسْتَيْقَظَ الْحُسَيْنُ، فَجَعَلَ يُعَالِجُ أَنْ يَشْرَبَ قَبْلَهُ حَتَّى بَكَى فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَخَاكَ اسْتَسْقَى قَبْلَكَ» ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: كَأَنَّ الْحَسَنَ آثَرُ عِنْدَكَ، قَالَ: «مَا هُوَ بِآثَرَ عِنْدِي مِنْهُ، وَإِنَّمَا هُمَا عِنْدِي بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ، وَإِنِّي وَإِيَّاكَ وَهُمَا وَهَذَا النَّائِمُ لَفِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ

…رسول اللہ ﷺ ایک دودھ دینے والی اونٹنی کے پاس گئے اور ان کے لیے دودھ دوہا، پھر اسے لے آئے، تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ جاگ گئے اور اسے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے پہلے پینے کی کوشش کرنے لگے، یہاں تک کہ رو پڑے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بھائی نے تم سے پہلے پانی مانگا تھا۔“ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: گویا حسن آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں، بلکہ میرے نزدیک دونوں ایک ہی درجے پر ہیں، اور میں، تم، یہ دونوں اور یہ سویا ہوا بچہ بھی قیامت کے دن ایک ہی مقام پر ہوں گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19219
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 405، حدیث 1016