المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ومن مناقب فاطمة رضي الله عنها باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مزید فضائل
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَحْيَى الرَّقِّيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الرَّهَاوِيُّ، ثنا أَبُو قَتَادَةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ فَاطِمَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَرَاكَ تَفْعَلُ شَيْئًا مَا كُنْتُ أَرَاكَ تَفْعَلُهُ مِنْ قَبْلُ فَقَالَ لِي: «يَا حُمَيْرَاءُ، إِنَّهُ لَمَّا كَانَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي إِلَى السَّمَاءِ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَوَقَفْتُ عَلَى شَجَرَةٍ مِنْ شَجَرِ الْجَنَّةِ لَمْ أَرَى فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً هِيَ أَحْسَنُ مِنْهَا حُسْنًا، وَلَا أَبْيَضَ مِنْهَا وَرَقَةً، وَلَا أَطْيَبَ مِنْهَا ثَمَرَةً فَتَنَاوَلْتُ ثَمَرَةً مِنْ ثَمَرَتِهَا فَأَكَلْتُهَا فَصَارَتْ نُطْفَةً فِي صُلْبِي، فَلَمَّا هَبَطْتُ الْأَرْضَ وَاقَعْتُ خَدِيجَةَ فَحَمَلَتْ بِفَاطِمَةَ، فَإِذَا أَنَا اشْتَقْتُ إِلَى رَائِحَةِ الْجَنَّةِ شَمَمْتُ رِيحَ فَاطِمَةَ، يَا حُمَيْرَاءُ، إِنَّ فَاطِمَةَ لَيْسَتْ كَنِسَاءِ الْآدَمِيِّينَ وَلَا تَعْتَلُّ كَمَا يَعْتَلُّونَ»سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بوسہ لیتے دیکھتی تھی، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو ایسا کام کرتے دیکھ رہی ہوں جو پہلے نہیں دیکھتی تھی۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے حمیراء! جب مجھے معراج کی رات آسمان کی طرف لے جایا گیا تو مجھے جنت میں داخل کیا گیا، تو میں جنت کے ایک درخت کے پاس رکا، میں نے جنت میں اس سے زیادہ خوبصورت کوئی درخت نہیں دیکھا، نہ اس سے زیادہ سفید پتے والا، نہ اس سے زیادہ عمدہ پھل والا۔ تو میں نے اس کا ایک پھل توڑا اور کھایا، تو وہ میری پشت میں نطفہ بن گیا۔ جب میں زمین پر اترا تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، تو وہ فاطمہ کے ساتھ حاملہ ہوئیں۔ چنانچہ جب بھی مجھے جنت کی خوشبو کی طلب ہوتی ہے تو میں فاطمہ کی خوشبو سونگھ لیتا ہوں۔ اے حمیراء! فاطمہ عام آدمی زاد عورتوں کی طرح نہیں ہے، اور نہ اسے ان کی طرح تکلیف ہوتی ہے۔“