المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ومن مناقب فاطمة رضي الله عنها باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مزید فضائل
حدیث نمبر: 19218
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَرْمٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ حُرَّةَ، عَنْ أَسْمَاءِ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: خَطَبَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ فَاطِمَةَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ أَسْمَاءَ مُتَزَوِّجَةٌ عَلِيًّا فَقَالَ: «مَا كَانَ لَهَا أَنْ تُؤْذِيَ اللهَ وَرَسُولَهُ»ترجمہ
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا، تو یہ بات سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پہنچی، تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اسماء علی سے نکاح کرنے لگی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے یہ زیبا نہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دے۔“