حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، وَالثَّوْرِيِّ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ الطَّائِفِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ فَانْحَرَفَ فَرَأَى رَجُلَيْنِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ فَدَعَى بِهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا يَرْتَعِدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ؟» فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُ فَإِنَّهَا نَافِلَةٌ»
ترجمہ
سیدنا یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی، تو آپ ﷺ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو لوگوں کے پیچھے دو آدمی نظر آئے، آپ ﷺ نے انہیں بلوایا، وہ کانپتے ہوئے لائے گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم دونوں نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، جب تم میں سے کوئی اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ چکا ہو، پھر امام کے ساتھ نماز پائے، تو اس کے ساتھ بھی نماز پڑھے، کیونکہ وہ اس کے لیے نفل ہو گی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْغَدَاةَ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَرَأَى رَجُلَيْنِ بَعْدَمَا انْصَرَفَ فِي مُؤَخَّرِ الْمَسْجِدِ فَبَعَثَ إِلَيْهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا يُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ: «مَا شَأْنُكُمَا لَمْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟» فَقَالَا: قَد صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا فَقَالَ: «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْجَمِيعَ وَقَدْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ فَلْيُصَلِّ مَعَهُمْ فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ»
ترجمہ
سیدنا یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد خیف میں صبح کی نماز پڑھی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ نے مسجد کے پچھلے حصے میں دو آدمی دیکھے، آپ ﷺ نے انہیں بلوایا، وہ کانپتے ہوئے لائے گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟“ انہوں نے کہا: ہم نے اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں نماز پڑھ چکا ہو اور پھر جماعت میں آئے تو ان کے ساتھ بھی نماز پڑھے، کیونکہ یہ اس کے لیے نفل ہو گی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ شُعْبَةَ، ثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ إِذَا هُو بِرَجُلَيْنِ فِي مُؤَخَّرِ النَّاسِ فَأَمَرَ بِهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ: «مَا حَمَلَكُمَا عَلَى أَنْ لَمْ تُصَلِّيَا مَعَنَا» قَالَا: يَا نَبِيَّ اللهِ صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ ثُمَّ أَقْبَلْنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَدْرَكْتُمَا الصَّلَاةَ فَصَلِّيَا فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ»
ترجمہ
سیدنا یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے فرمایا: نبی کریم ﷺ نے ایک نماز پڑھائی، جب اپنی نماز پوری کر چکے تو دیکھا کہ دو آدمی لوگوں کے پیچھے کھڑے ہیں، آپ ﷺ نے انہیں بلوایا، وہ کانپتے ہوئے لائے گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کس چیز نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا؟“ انہوں نے کہا: یا نبی اللہ! ہم نے اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ لی تھی، پھر ہم آ گئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر جماعت کی نماز پاؤ، تو پڑھ لو، یہ تمہارے لیے نفل ہو گی۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِمِنًى، فَإِذَا رَجُلَانِ فِي مُؤَخَّرِ الْمَسْجِدِ لَمْ يُصَلِّيَا فَدَعَا بِهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟» قَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا قَالَ: «فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَتَيْتُمَا الْإِمَامَ وَلَمْ يُصَلِّ فَصَلَّيَا مَعَهُ فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ»
ترجمہ
سیدنا یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے فرمایا: ہم نے منیٰ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، تو مسجد کے پچھلے حصے میں دو آدمی نظر آئے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی تھی، آپ ﷺ نے انہیں بلوایا، وہ کانپتے ہوئے لائے گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، جب تم اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر امام کے پاس آؤ اور اس نے ابھی نماز نہ پڑھی ہو تو اس کے ساتھ نماز پڑھو، یہ تمہارے لیے نفل ہو گی۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، أَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَصَلَّى الْفَجْرَ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ إِذَا رَجُلَانِ فِي مُؤَخَّرِ الْمَسْجِدِ فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا قَالَ: «مَا لَكُمَا لَمْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا ثُمَّ جِئْنَا وَأَنْتَ تُصَلِّي فَجَلَسْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُم فِي رَحْلِهِ ثُمَّ جَاءَ وَالْإِمَامُ يُصَلِّي فَلْيُصَلِّ مَعَهُ فَإِنَّهَا لَه نَافِلَةٌ»
ترجمہ
سیدنا یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حجۃ الوداع میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے، آپ ﷺ نے مسجد خیف میں فجر کی نماز پڑھائی، جب نماز پوری کر چکے تو مسجد کے پچھلے حصے میں دو آدمی نظر آئے، انہیں لایا گیا جبکہ ان کے جسم کانپ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ لی تھی، پھر آئے تو آپ نماز پڑھا رہے تھے، تو ہم بیٹھ گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ چکا ہو، پھر آئے اور امام نماز پڑھا رہا ہو تو اس کے ساتھ بھی نماز پڑھے، یہ اس کے لیے نفل ہو گی۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَاةَ بِمِنًى فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَلَمَّا سَلَّمَ اسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْهِهِ فَإِذَا هُو بِرَجُلَيْنِ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ فَقَالَ: " ائْتُونِي بِهَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ؟» قَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ قَد كُنَّا صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ قَالَ لَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ وَأَدْرَكَ الصَّلَاةَ مَعَ النَّاسِ فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُمْ فَإِنَّهَا لَه نَافِلَةٌ "
ترجمہ
سیدنا یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مسجد خیف میں نماز پڑھائی، جب سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف رخ کیا، دیکھا کہ دو آدمی لوگوں کے پیچھے ہیں جنہوں نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں کو میرے پاس لاؤ۔“ انہیں لایا گیا جبکہ ان کے جسم کانپ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ چکے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، جب تم میں سے کوئی اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ چکا ہو اور لوگوں کے ساتھ نماز پائے تو ان کے ساتھ بھی پڑھے، یہ اس کے لیے نفل ہو گی۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمَقْدِسِيُّ، ثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، ثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ إِذَا هُو بِرَجُلَيْنِ جَالِسَيْنِ نَاحِيَةً، فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَنَعَكُمَا مِنَ الصَّلَاةِ؟» قَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ، صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، قَالَ: «إِذَا صَلَّيْتُمْ فِي رِحَالِكُمْ وَأَدْرَكْتُمُ الصَّلَاةَ مَعَ النَّاسِ فَصَلُّوهَا مَعَهُمْ، وَالَّذِي صَلَّيْتُمْ فِي رِحَالِكُمْ هِي الْفَرِيضَةُ»
ترجمہ
سیدنا یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ دو آدمی الگ بیٹھے ہیں، انہیں لایا گیا جبکہ ان کے جسم کانپ رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں نماز سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ چکے ہو اور لوگوں کے ساتھ نماز پاؤ تو ان کے ساتھ بھی پڑھو، اور جو تم نے اپنے پڑاؤ میں پڑھی وہی فرض ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ بِمِنًى فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الدَّرْدَاءِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ الْأَنْطَرْطُوسِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ ذِي حِمَايَةَ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِمِنًى فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ رَأَى رَجُلَيْنِ خَلْفَ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ فَقَالَ عَلَيَّ بِالرَّجُلَيْنِ فَجِيءَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ: «أَلَا صَلَّيْتُمَا مَعَنَا؟» فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا كُنَّا صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا وَظَنَنَّا أَنَا لَا نُدْرِكُ الصَّلَاةَ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَدْرَكْتُمَا الصَّلَاةَ فَصَلِّيَا فَتَكُونُ لَكُمَا نَافِلَةً» فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حجۃ الوداع میں منیٰ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کے پیچھے دو آدمی دیکھے جنہوں نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں کو میرے پاس لاؤ۔“ انہیں لایا گیا جبکہ ان کے جسم کانپ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ لی تھی اور ہمارا خیال تھا کہ ہم جماعت کی نماز نہیں پا سکیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، جب تم اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر نماز پاؤ، تو پڑھ لو، یہ تمہارے لیے نفل ہو گی۔“ اس پر ان میں سے ایک نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے دعائے مغفرت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے بخش دے۔“
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ثَنَا الْحَكَمُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ،، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْحَارِثِ الْعَدَوِيِّ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللهِ، نَاوِلْنِي يَدَكَ، فَنَاوَلَنِي، فَإِذَا هِي أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنَ المِسْكِ»
ترجمہ
سیدنا یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے فرمایا: میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اپنا ہاتھ دیجیے۔ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مجھے دیا تو وہ برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے بھی زیادہ خوشبودار تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الدَّرْدَاءِ عَبْدُ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ الْأَنْطَرْطُوسِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ ذِي حِمَايَةَ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ كَأَشَبِّ الرِّجَالِ وَأَقْوَاهُمْ فَدُسْتُ النَّاسَ حَتَّى أَخَذْتُ بِيَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهَا عَلَى صَدْرِي، فَلَمْ أَرَ شَيْئًا كَانَ أَبْرَدَ وَلَا أَطْيَبَ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا، لوگوں کا رسول اللہ ﷺ پر بہت ہجوم تھا، اور میں ان دنوں جوانوں میں سب سے جوان اور طاقتور تھا، تو میں لوگوں کو دھکیلتے ہوئے آگے بڑھا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے اپنے سینے پر رکھ لیا، تو میں نے کوئی چیز رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ سے زیادہ ٹھنڈی اور خوشبودار نہیں پائی۔
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ الْعَلَّافُ، ثَنَا خَالِدُ بْن عَمْرٍو الْأُمَوِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَنْشَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ مِائَةَ قَافِيَةٍ كُلَّمَا مَرَرْتُ بِبَيْتٍ، قَالَ: «هِيهِ» وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ: «الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ»
ترجمہ
سیدنا یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو امیہ بن ابی الصلت کے کلام میں سے سو اشعار سنائے، جب بھی میں کسی شعر پر پہنچتا تو آپ ﷺ فرماتے: ”اور آگے سناؤ۔“ اور میں نے آپ ﷺ کو اسی مجلس میں یہ فرماتے سنا: ”پڑوسی اپنے قریب کی جگہ کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔“