حدیث نمبر: 18841
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيّ، ثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةَ وَاسْمُهُ حِطَّانُ بْنُ خُفَافٍ، حَدَّثَنِي مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: كَانَ أَبِي يَزِيدَ خَرَج بِدَنَانِيرَ لَيَتَصَدَّقَ بِهَا فَدَفَعَهَا إِلَيَّ فَقَالَ: ادْفَعْهَا إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ فَدَفَعْتُهَا إِلَى غَيْرِهِ، ثُمَّ أَتَيْتُ أَبِي فَأَخْبَرْتُه، فَقَالَ: لَيْسَ ذَاكَ أَرَدْتُ فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَكَ يَا مَعْنُ مَا أَخَذْتَ وَقَالَ لِأَبِي لَكَ يَا يَزِيدُ مَا نَوَيْتَ»
ترجمہ

سیدنا معن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے والد نے صدقہ کی کچھ رقم مجھے دی اور کہا: اسے مسجد کے کسی آدمی کو دے دو۔ میں نے وہ کسی اور کو دے دی۔ پھر میں اپنے والد کے پاس آیا اور انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: میرا یہ مقصد نہیں تھا۔ چنانچہ میں نے اس معاملے میں رسول اللہ ﷺ سے ان کا مقدمہ لڑا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے معن! جو تُو نے لیا وہ تیرا ہے۔“ اور میرے والد سے فرمایا: ”اے یزید! جو تُو نے نیت کی وہ تیرا اجر ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18841
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 237، حدیث 621