حدیث نمبر: 18828
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، وَالثَّوْرِيِّ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ الطَّائِفِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ فَانْحَرَفَ فَرَأَى رَجُلَيْنِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ فَدَعَى بِهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا يَرْتَعِدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ؟» فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُ فَإِنَّهَا نَافِلَةٌ»
ترجمہ

سیدنا یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی، تو آپ ﷺ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو لوگوں کے پیچھے دو آدمی نظر آئے، آپ ﷺ نے انہیں بلوایا، وہ کانپتے ہوئے لائے گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم دونوں نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، جب تم میں سے کوئی اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ چکا ہو، پھر امام کے ساتھ نماز پائے، تو اس کے ساتھ بھی نماز پڑھے، کیونکہ وہ اس کے لیے نفل ہو گی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18828
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 232، حدیث 608