حدیث نمبر: 18830
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ شُعْبَةَ، ثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ إِذَا هُو بِرَجُلَيْنِ فِي مُؤَخَّرِ النَّاسِ فَأَمَرَ بِهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ: «مَا حَمَلَكُمَا عَلَى أَنْ لَمْ تُصَلِّيَا مَعَنَا» قَالَا: يَا نَبِيَّ اللهِ صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ ثُمَّ أَقْبَلْنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَدْرَكْتُمَا الصَّلَاةَ فَصَلِّيَا فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ»
ترجمہ

سیدنا یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے فرمایا: نبی کریم ﷺ نے ایک نماز پڑھائی، جب اپنی نماز پوری کر چکے تو دیکھا کہ دو آدمی لوگوں کے پیچھے کھڑے ہیں، آپ ﷺ نے انہیں بلوایا، وہ کانپتے ہوئے لائے گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کس چیز نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا؟“ انہوں نے کہا: یا نبی اللہ! ہم نے اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ لی تھی، پھر ہم آ گئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر جماعت کی نماز پاؤ، تو پڑھ لو، یہ تمہارے لیے نفل ہو گی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18830
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 232، حدیث 610