المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد بن الأسود السوائي أبو جابر باب: سیدنا یزید بن اسود سوائی ابوجابر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو الدَّرْدَاءِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ الْأَنْطَرْطُوسِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ ذِي حِمَايَةَ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِمِنًى فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ رَأَى رَجُلَيْنِ خَلْفَ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ فَقَالَ عَلَيَّ بِالرَّجُلَيْنِ فَجِيءَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ: «أَلَا صَلَّيْتُمَا مَعَنَا؟» فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا كُنَّا صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا وَظَنَنَّا أَنَا لَا نُدْرِكُ الصَّلَاةَ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَدْرَكْتُمَا الصَّلَاةَ فَصَلِّيَا فَتَكُونُ لَكُمَا نَافِلَةً» فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ»سیدنا یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حجۃ الوداع میں منیٰ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کے پیچھے دو آدمی دیکھے جنہوں نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں کو میرے پاس لاؤ۔“ انہیں لایا گیا جبکہ ان کے جسم کانپ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ لی تھی اور ہمارا خیال تھا کہ ہم جماعت کی نماز نہیں پا سکیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، جب تم اپنے پڑاؤ میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر نماز پاؤ، تو پڑھ لو، یہ تمہارے لیے نفل ہو گی۔“ اس پر ان میں سے ایک نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے دعائے مغفرت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے بخش دے۔“