کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا محمد بن حاطب بن حارث بن معمر بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح بن عمرو بن ہصص بن کعب بن لؤی جمحی رضی اللہ عنہ، ان کی والدہ فاطمہ بنت مجلل بن عبداللہ بن ابی قیس بن عبد ود بن نصر بن مالک بن حسل تھیں، ان کی والدہ انہیں لے کر سرزمینِ حبشہ کی طرف ہجرت کر گئیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ حَاطِبٍ، يَقُولُ: «وُلِدْتُ فِي الْحَبَشَةِ»
ترجمہ
سماک بن حرب کہتے ہیں: میں نے محمد بن حاطب جمحی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میں حبشہ میں پیدا ہوا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16583
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 239، حدیث 534
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَتْ بِي أُمِّي مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حِينَ مَاتَ حَاطِبٌ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَصَابَتْ إِحْدَى يَدَيَّ حَرِيقٌ مِنْ نَارٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ وَقَدْ أَصَابَهُ هَذَا الْحَرْقُ مِنَ النَّارِ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ: فَلَا أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَدْرِي أَنَفَثَ أَوْ مَسَحَ عَلَى رَأْسِي، وَدَعَا فِيَّ بِالْبَرَكَةِ وَفِي ذُرِّيَّتِي "
ترجمہ
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میری والدہ حبشہ کی سرزمین سے مجھے لے کر آئیں، اور یہ اس وقت کی بات ہے جب حاطب کا انتقال ہو چکا تھا، تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں، جبکہ میرے ایک ہاتھ پر آگ کا جھلسا ہوا زخم تھا، تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ محمد بن حاطب ہے، اسے آگ سے یہ جھلسن لگی ہے۔ محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ نہیں باندھوں گا، مجھے یاد نہیں کہ آپ ﷺ نے پھونکا یا میرے سر پر ہاتھ پھیرا، اور میرے اور میری اولاد کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16584
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 239، حدیث 535
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ حَاطِبٍ الْجُمَحِيَّ، قَالَ: انْصَبَّ عَلَى يَدِي شَيْءٌ مِنْ قِدْرٍ، فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ فِيهِ كَلَامًا: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ» ، وَأَحْسَبُهُ قَالَ: «اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي»
ترجمہ
سیدنا محمد بن حاطب جمحی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے ہاتھ پر ہانڈی سے کچھ گرم چیز گر گئی، تو میری والدہ مجھے نبی کریم ﷺ کے پاس لے گئیں، تو آپ ﷺ نے اس پر کچھ کلمات فرمائے: ”تکلیف کو دور فرما، اے لوگوں کے رب!“ اور میرا خیال ہے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16585
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 240، حدیث 536
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: وَقَعَتِ الْقِدْرُ عَلَى يَدِي فَاحْتَرَقَتْ، فَانْطُلِقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَتْفُلُ عَلَيْهَا وَيَقُولُ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ» ، وَأَحْسَبُهُ قَالَ: «وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي»
ترجمہ
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہانڈی میرے ہاتھ پر گر گئی اور وہ جل گیا، تو مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جایا گیا، آپ ﷺ اس پر پھونک مارتے اور فرماتے: ”تکلیف کو دور فرما، اے لوگوں کے رب!“ اور میرا خیال ہے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”اور شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16586
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 240، حدیث 537
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: دَنَيْتُ إِلَى قِدْرٍ لَنَا وَأَنَا غُلَامٌ صَغِيرٌ فَاحْتَرَقَتْ يَدِي، فَتَدَرَّكَتْنِي أُمِّي فَأَتَتْ بِي رَجُلًا بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ احْتَرَقَتْ يَدُ مُحَمَّدٍ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْفُلُ عَلَيْهَا "
ترجمہ
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں چھوٹا لڑکا تھا، ہماری ایک ہانڈی کے قریب گیا تو میرا ہاتھ جل گیا، تو میری والدہ نے مجھے سنبھالا اور بطحاء میں ایک شخص کے پاس لے آئیں، اور عرض کیا: اے محمد! محمد کا ہاتھ جل گیا ہے۔ تو نبی کریم ﷺ اس پر پھونک مارنے لگے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16587
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 240، حدیث 538
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: دَنَوْتُ إِلَى قِدْرٍ لِأُمِّي فَأَكْفَأْتُهَا عَلِيَّ وَأَنَا غُلَامٌ، فَجَلَبَتْنِي أُمِّي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَقَانِي، فَقَالَ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ» ، قَالَ: فَلَمْ أَحْفَظِ الْكَلِمَاتِ، فَسَأَلْتُ أُمِّي عَنْهُنَّ، فَأَخْبَرَتْنِي فِي زَمَنِ عُثْمَانَ
ترجمہ
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنی والدہ کی ہانڈی کے قریب گیا اور وہ مجھ پر الٹ گئی جبکہ میں چھوٹا لڑکا تھا، تو میری والدہ مجھے نبی کریم ﷺ کے پاس لے آئیں تو آپ ﷺ نے مجھ پر دم کیا اور فرمایا: ”تکلیف کو دور فرما، اے لوگوں کے رب! اور شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں۔“ کہتے ہیں: مجھے یہ کلمات یاد نہ رہے تو میں نے اپنی والدہ سے ان کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں بتائے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16588
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 240، حدیث 539
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: تَنَاوَلْتُ قِدْرًا كَانَتْ لَنَا فَاحْتَرَقَتْ يَدِي، فَانْطَلَقَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ فِي الْجَبَّانَةِ فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «لَبَّيْكِ وَسَعْدَيْكِ» ، ثُمَّ أَدْنَتْنِي مِنْهُ فَجَعَلَ يَنْفُثُ وَيَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَسَأَلْتُ أُمِّي بَعْدَ ذَلِكَ مَا كَانَ يَقُولُ: فَقَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ»
ترجمہ
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ہماری ایک ہانڈی اٹھائی تو میرا ہاتھ جل گیا، تو میری والدہ مجھے جبانہ میں ایک شخص کے پاس لے گئیں اور اس سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! تو انہوں نے فرمایا: ”لبیک وسعدیک۔“ پھر انہوں نے مجھے آپ ﷺ کے قریب کیا تو آپ ﷺ پھونک مارنے لگے اور کچھ کلمات کہنے لگے جو مجھے سمجھ نہیں آئے، تو بعد میں میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ وہ کیا کہہ رہے تھے، تو انہوں نے بتایا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”تکلیف کو دور فرما، اے لوگوں کے رب! اور شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16589
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 241، حدیث 540
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا إِسْحَاقُ الْفَزَارِيُّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَرْضًا ذَاتَ نَخْلٍ فَاخْرُجُوا» ، قَالَ: فَخَرَجَ حَاطِبٌ، وَجَعْفَرٌ فِي الْبَحْرِ قِبَلَ النَّجَاشِيِّ، فَوُلِدْتُ أَنَا فِي السَّفِينَةِ
ترجمہ
ابو مالک اشجعی کہتے ہیں: میں محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا تھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے کھجوروں والی ایک سرزمین دیکھی ہے، تم نکل جاؤ۔“ تو حاطب اور جعفر (بن ابی طالب) سمندر کے راستے نجاشی کی طرف نکلے، اور میں کشتی ہی میں پیدا ہوا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16590
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 241، حدیث 541
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الصَّوْتُ وَضَرْبُ الدُّفِّ»
ترجمہ
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حلال اور حرام کے درمیان فرق آواز اور دف بجانا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16591
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 242، حدیث 542
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا حُرِمَ أَحَدُكُمُ الزَّوْجَةَ وَالْوَلَدَ فَعَلَيْهِ بِالْجِهَادِ»
ترجمہ
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کے بیٹے موسیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی بیوی اور اولاد سے محروم ہو جائے تو اسے جہاد اختیار کرنا چاہیے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16592
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 242، حدیث 543