حدیث نمبر: 16588
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: دَنَوْتُ إِلَى قِدْرٍ لِأُمِّي فَأَكْفَأْتُهَا عَلِيَّ وَأَنَا غُلَامٌ، فَجَلَبَتْنِي أُمِّي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَقَانِي، فَقَالَ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ» ، قَالَ: فَلَمْ أَحْفَظِ الْكَلِمَاتِ، فَسَأَلْتُ أُمِّي عَنْهُنَّ، فَأَخْبَرَتْنِي فِي زَمَنِ عُثْمَانَ
ترجمہ

سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنی والدہ کی ہانڈی کے قریب گیا اور وہ مجھ پر الٹ گئی جبکہ میں چھوٹا لڑکا تھا، تو میری والدہ مجھے نبی کریم ﷺ کے پاس لے آئیں تو آپ ﷺ نے مجھ پر دم کیا اور فرمایا: ”تکلیف کو دور فرما، اے لوگوں کے رب! اور شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں۔“ کہتے ہیں: مجھے یہ کلمات یاد نہ رہے تو میں نے اپنی والدہ سے ان کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں بتائے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16588
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 240، حدیث 539