المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن حاطب بن الحارث بن معمر بن حبيب بن وهب بن حذافة بن جمح بن عمرو بن هصص بن كعب بن لؤي الجمحي، وأمه فاطمة بنت المجلل بن عبد الله بن أبي قيس بن عبد ود بن نصر بن مالك بن حسل، هاجرت به أمه إلى أرض الحبشة باب: سیدنا محمد بن حاطب بن حارث بن معمر بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح بن عمرو بن ہصص بن کعب بن لؤی جمحی رضی اللہ عنہ، ان کی والدہ فاطمہ بنت مجلل بن عبداللہ بن ابی قیس بن عبد ود بن نصر بن مالک بن حسل تھیں، ان کی والدہ انہیں لے کر سرزمینِ حبشہ کی طرف ہجرت کر گئیں
حدیث نمبر: 16588
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: دَنَوْتُ إِلَى قِدْرٍ لِأُمِّي فَأَكْفَأْتُهَا عَلِيَّ وَأَنَا غُلَامٌ، فَجَلَبَتْنِي أُمِّي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَقَانِي، فَقَالَ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ» ، قَالَ: فَلَمْ أَحْفَظِ الْكَلِمَاتِ، فَسَأَلْتُ أُمِّي عَنْهُنَّ، فَأَخْبَرَتْنِي فِي زَمَنِ عُثْمَانَترجمہ
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنی والدہ کی ہانڈی کے قریب گیا اور وہ مجھ پر الٹ گئی جبکہ میں چھوٹا لڑکا تھا، تو میری والدہ مجھے نبی کریم ﷺ کے پاس لے آئیں تو آپ ﷺ نے مجھ پر دم کیا اور فرمایا: ”تکلیف کو دور فرما، اے لوگوں کے رب! اور شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں۔“ کہتے ہیں: مجھے یہ کلمات یاد نہ رہے تو میں نے اپنی والدہ سے ان کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں بتائے۔