المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن حاطب بن الحارث بن معمر بن حبيب بن وهب بن حذافة بن جمح بن عمرو بن هصص بن كعب بن لؤي الجمحي، وأمه فاطمة بنت المجلل بن عبد الله بن أبي قيس بن عبد ود بن نصر بن مالك بن حسل، هاجرت به أمه إلى أرض الحبشة باب: سیدنا محمد بن حاطب بن حارث بن معمر بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح بن عمرو بن ہصص بن کعب بن لؤی جمحی رضی اللہ عنہ، ان کی والدہ فاطمہ بنت مجلل بن عبداللہ بن ابی قیس بن عبد ود بن نصر بن مالک بن حسل تھیں، ان کی والدہ انہیں لے کر سرزمینِ حبشہ کی طرف ہجرت کر گئیں
حدیث نمبر: 16586
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: وَقَعَتِ الْقِدْرُ عَلَى يَدِي فَاحْتَرَقَتْ، فَانْطُلِقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَتْفُلُ عَلَيْهَا وَيَقُولُ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ» ، وَأَحْسَبُهُ قَالَ: «وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي»ترجمہ
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہانڈی میرے ہاتھ پر گر گئی اور وہ جل گیا، تو مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جایا گیا، آپ ﷺ اس پر پھونک مارتے اور فرماتے: ”تکلیف کو دور فرما، اے لوگوں کے رب!“ اور میرا خیال ہے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”اور شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے۔“