حدیث نمبر: 16589
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: تَنَاوَلْتُ قِدْرًا كَانَتْ لَنَا فَاحْتَرَقَتْ يَدِي، فَانْطَلَقَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ فِي الْجَبَّانَةِ فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «لَبَّيْكِ وَسَعْدَيْكِ» ، ثُمَّ أَدْنَتْنِي مِنْهُ فَجَعَلَ يَنْفُثُ وَيَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَسَأَلْتُ أُمِّي بَعْدَ ذَلِكَ مَا كَانَ يَقُولُ: فَقَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ»
ترجمہ

سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ہماری ایک ہانڈی اٹھائی تو میرا ہاتھ جل گیا، تو میری والدہ مجھے جبانہ میں ایک شخص کے پاس لے گئیں اور اس سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! تو انہوں نے فرمایا: ”لبیک وسعدیک۔“ پھر انہوں نے مجھے آپ ﷺ کے قریب کیا تو آپ ﷺ پھونک مارنے لگے اور کچھ کلمات کہنے لگے جو مجھے سمجھ نہیں آئے، تو بعد میں میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ وہ کیا کہہ رہے تھے، تو انہوں نے بتایا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”تکلیف کو دور فرما، اے لوگوں کے رب! اور شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16589
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 241، حدیث 540