حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح، وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالُوا: ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَكْثَرُ مُنَافِقِي أُمَّتِي قُرَّاؤُهَا»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”میری امت کے اکثر منافق اس کے قاری ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا تَطَهَّرَ الْعَبْدُ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ يَرْعَى الصَّلَاةَ كُتِبَ لَهُ كِتَابٌ بِكُلِّ خَطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الْمَسْجِدِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَالْقَاعِدُ فِيهِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ كَالْقَانِتِ وَيُكْتَبُ مِنَ الْمُصَلِّينِ مِنْ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب بندہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے، پھر نماز کی نگرانی کرتے ہوئے مسجد آتا ہے تو مسجد کی طرف اٹھائے گئے ہر قدم پر اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اور جو وہاں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا ہے وہ قانت کی طرح ہے، اور اپنے گھر سے نکلنے سے لے کر واپسی تک اسے نمازیوں میں لکھا جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا خَيْرُ بْنُ عَرَفَةَ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ قَالَ: عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَقُولُ: لَا نَقُولُ مَا لَمْ يَقُلْ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ»
سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رِجَالٌ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ أَحَدُهُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَيُعَالِجُ نَفْسَهُ بِالطُّهُورِ وَعَلَيْهِ عُقْدَةٌ، فَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي يُعَالِجُ نَفْسَهُ لِيَسْأَلَنِي، مَا سَأَلَ عَبْدِي فَهُوَ لَهُ "
سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رِجَالٌ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ أَحَدُهُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَيُعَالِجُ نَفْسَهُ بِالطُّهُورِ وَعَلَيْهِ عُقْدَةٌ، فَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي يُعَالِجُ نَفْسَهُ لِيَسْأَلَنِي، مَا سَأَلَ عَبْدِي فَهُوَ لَهُ "
ترجمہ
ابوعشانہ کہتے ہیں: سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ہم وہ بات نہیں کہتے جو آپ ﷺ نے نہیں فرمائی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مجھ پر ایسی بات کہی جو میں نے نہیں کہی، وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔“
سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن میں سے کوئی رات کو اٹھتا ہے اور طہارت کے ذریعے اپنے نفس کا علاج کرتا ہے، اس پر ایک گرہ ہوتی ہے، جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے کو دیکھو، یہ مجھ سے مانگنے کے لیے اپنے نفس کا علاج کر رہا ہے، میرے بندے نے جو مانگا وہ اسی کا ہے۔“
سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن میں سے کوئی رات کو اٹھتا ہے اور طہارت کے ذریعے اپنے نفس کا علاج کرتا ہے، اس پر ایک گرہ ہوتی ہے، جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے کو دیکھو، یہ مجھ سے مانگنے کے لیے اپنے نفس کا علاج کر رہا ہے، میرے بندے نے جو مانگا وہ اسی کا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْباعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَدْنُو الشَّمْسُ مِنَ الْأَرْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَعْرَقُ النَّاسُ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَبْلُغُ الْعَرَقُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ - أُرَاهُ قَالَ - إِلَى العَجُزَيْنِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ مَنْكِبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلَغُ عَاتِقَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ وَسَطَ فِيهِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ فَأَلْجَمَهَا فَاهُ» قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْشُرُهَا هَكَذَا «وَمِنْهُمْ مَنْ يُغَطِّيهُ عَرَقُهُ» وَضَرَبَ بِيَدِهِ رَأْسَهُ
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن سورج زمین کے قریب ہو جائے گا تو لوگوں کو پسینہ آئے گا، کچھ لوگوں کا پسینہ گھٹنوں تک پہنچے گا، کچھ کا — راوی کہتے ہیں شاید فرمایا — سرینوں تک، کچھ کا کندھوں تک، کچھ کا مونڈھوں تک، کچھ کا منہ کے درمیان تک پہنچے گا“ اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اسے اپنے منہ پر لگام کی طرح رکھا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح پھیلایا: ”اور کچھ لوگوں کو ان کا پسینہ مکمل طور پر ڈھانپ لے گا“ اور آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ کر اشارہ کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ النَّاجِيُّ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمَ النَّاسُ وَآمَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں نے بس اسلام قبول کیا، جبکہ عمرو بن العاص نے دل سے ایمان لایا۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَا: ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفُضِّلَتِ الْحَجُّ بِسَجْدَتَيْنِ؟ قَالَ: «نَعَمْ، فَمَنْ لَمْ يَسْجُدْ فِيهِمَا فَلَا يَقْرَأْهُمَا»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا سورۃ الحج کو دو سجدوں کی فضیلت دی گئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، پس جو ان دونوں میں سجدہ نہ کرے وہ انہیں (تلاوت میں) نہ پڑھے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ النُّفَيْلِيُّ، ثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ؟ قَالَ: «نَعَمْ، فَإِنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا فَلَا يَقْرَأْهُمَا»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا سورۃ الحج میں دو سجدے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، پس جو ان دونوں میں سجدہ نہ کرے وہ انہیں نہ پڑھے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ح، وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، قَالُوا: ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مَيِّتٍ إِذَا مَاتَ خُتِمَ عَلَى عَمَلِهِ إلَّا الْمُرَابِطَ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَإِنَّهُ يَجْرِي عَلَيْهِ حَتَّى يُبْعَثَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر مرنے والے کے مرتے ہی اس کے عمل پر مہر لگا دی جاتی ہے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کی راہ میں سرحد کی نگہبانی کرتے ہوئے فوت ہو، اس کا عمل قیامت تک جاری رہتا ہے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَا: ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فَإِنَّكَ لَا تَقْرَأُ بِمِثْلِهِمَا»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”معوذتین پڑھا کرو، تم ان جیسی کوئی اور چیز نہیں پڑھو گے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ النَّاجِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَا: ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَو كَانَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ مَا أَكَلَتْهُ النَّارُ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر قرآن کسی چمڑے میں لپیٹ کر رکھا ہوتا تو آگ اسے نہ کھاتی۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْقَسْوَةُ وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ عِنْدَ أَذْنَابِ الْإِبِلِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایمان یمن کی طرف سے ہے، اور سخت دلی اور دلوں کی سختی ربیعہ اور مضر قبائل میں، اونٹوں کی دُموں کے پاس ہے۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَوَّلُ خَصْمَيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جَارَانِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے جھگڑنے والے دو پڑوسی ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبَّادَانِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا: ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْجَبُ مِنَ الشَّابِّ لَيْسَتْ لَهُ صَبْوَةٌ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل اس نوجوان سے خوش ہوتا ہے جس میں گناہوں کی طرف کوئی رغبت نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كُنَّ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ فَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان پر صبر کرے، وہ اس کے لیے آگ سے پردہ بن جائیں گی۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَعْجَبُ رَبُّكُمْ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي شَظِيَّةٍ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُقِيمُ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا رب اس چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چٹان پر اذان اور اقامت کہتا ہے۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُكْرِهُوا الْبَنَاتِ فَإِنَّهُنَّ الْمُؤْنِسَاتُ الْغَالِيَاتُ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹیوں کو ناپسند نہ کرو، وہ تو قیمتی، دل بہلانے والی ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ النَّاجِيُّ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَو كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ كَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْفَيَّاضِ الرَّقِّيُّ، ثَنَا أَشْهَبُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَأَنَّى أَصَابَ أَوْ كَادَ، وَمَنْ عَجِلَ أَخْطَأَ أَوْ كَادَ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو ٹھہر ٹھہر کر کام کرے وہ درست کر لیتا ہے یا اس کے قریب پہنچ جاتا ہے، اور جو جلد بازی کرے وہ غلطی کر بیٹھتا ہے یا اس کے قریب پہنچ جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ نَجِيحٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِ بِنِعْمَةٍ فَأَرَادَ بَقَاءَهَا فَلْيُكْثِرْ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ "، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ} [الكهف: ٣٩]
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت عطا کی ہو اور وہ چاہتا ہو کہ وہ باقی رہے تو اسے کثرت سے ’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ‘ کہنا چاہیے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے کیوں نہ کہا: جو اللہ چاہے، اللہ کی مدد کے بغیر کوئی طاقت نہیں“ [الکہف: 39]۔