کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: اسلم ابوعمران تجیبی کی سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: اتَّبَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِبٌ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى قَدَمِهِ فَقُلْتُ: أَقْرِئْنِي مِنْ سُورَةِ هُودٍ، أَو سُورَةِ يُوسُفَ قَالَ: «لَنْ تَقْرَأَ بِشَيْءٍ أَبْلَغَ عِنْدَ اللهِ مِنْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے چلا، آپ اس وقت سوار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ کے قدم پر رکھا اور عرض کیا: مجھے سورۃ ہود یا سورۃ یوسف میں سے کچھ پڑھائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اللہ کے نزدیک سورۃ الفلق سے زیادہ بلیغ کوئی چیز نہیں پڑھو گے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ رَاكِبٌ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى قَدَمِهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقْرِئْنِي مِنْ سُورَةِ هُودٍ وَإِمَّا مِنْ سُورَةِ يُوسُفَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ، إِنَّكَ لَنْ تَقْرَأَ بِسُورَةٍ أَحَبَّ إِلَى اللهِ وَأَبْلَغَ عِنْدَهُ مِنْ أَنْ تَقْرَأَ بِقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَفُوتَكَ فِي صَلَاةٍ فَافْعَلْ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، آپ سوار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ کے قدم پر رکھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے سورۃ ہود یا سورۃ یوسف میں سے کچھ پڑھائیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عقبہ بن عامر! تم اللہ کے نزدیک سورۃ الفلق سے زیادہ محبوب اور بلیغ کوئی سورت نہیں پڑھو گے، پس اگر تم سے ہو سکے کہ یہ کسی نماز میں تم سے نہ چھوٹے تو ایسا ہی کرو۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، قَالَا: سَمِعْنَا يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، يَقُولُ، حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: تَعَلَّقْتُ بِقَدَمِ رَسُولِ اللهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقْرِئْنِي سُورَةَ هُودٍ، وَسُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عُقْبَةُ، إِنَّكَ لَنْ تَقْرَأَ بِسُورَةٍ أَحَبَّ إِلَى اللهِ وَلَا أَبْلَغَ مِنْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے قدم مبارک کو تھام لیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے سورۃ ہود اور سورۃ یوسف پڑھائیے۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے عقبہ! تم اللہ کے نزدیک سورۃ الفلق سے زیادہ محبوب اور بلیغ کوئی سورت نہیں پڑھو گے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، وَحِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَا: ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ: صَلَّى بِنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْمَغْرِبَ فَأَخَّرَهَا وَنَحْنُ بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَمَعَنَا أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ لَهُ أَبُو أَيُّوبَ: لِمَ تُؤَخِّرُ هَذِهِ الصَّلَاةَ وَأَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَاكَ مَنْ لَمْ يَصْحَبْهُ فَيَظُنَّ أَنَّهُ وَقْتُهَا؟ فَقُلْنَا: يَا أَبَا أَيُّوبَ كَيْفَ كُنْتُمْ تُصَلُّونَهَا؟ قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّيهَا حِينَ تَجِبُ الشَّمْسُ يُبَادِرُونَها النُّجُومَ» ، كَذَاكَ يَا عُقْبَةُ؟ قَالَ: «نَعَمْ»
ترجمہ
اسلم ابوعمران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور اسے مؤخر کر دیا، ہم اس وقت قسطنطنیہ میں تھے اور ہمارے ساتھ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اس نماز میں تاخیر کیوں کرتے ہیں جبکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں؟ جس نے آپ ﷺ کی صحبت نہیں پائی وہ آپ کو دیکھ کر یہی سمجھے گا کہ یہی اس کا وقت ہے۔ ہم نے عرض کیا: اے ابوایوب! آپ لوگ اسے کس طرح پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہم اسے اس وقت پڑھتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا، ستاروں (کے نکلنے) سے پہلے جلدی کرتے ہوئے۔“ (پھر پوچھا:) اے عقبہ! کیا ایسا ہی ہے؟ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“