کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ، جو کوفہ میں رہائش رکھتے تھے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: كُنْتُ فِيمَنْ أُخِذَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَكَانُوا «يَقْتُلُونَ مَنْ أَنَبْتَ وَيَتْرُكُونَ مَنْ لَمْ يُنْبِتْ، فَكُنْتُ فِيمَنْ تُرِكَ»
ترجمہ
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بھی ان میں سے تھا جو بنو قریظہ کے دن پکڑے گئے، وہ لوگ (بلوغت کی علامت) دیکھتے تھے، جس کے زیرِ ناف بال اگ آئے ہوتے اسے قتل کر دیتے اور جس کے نہ اگے ہوتے اسے چھوڑ دیتے، تو میں انہی میں سے تھا جنہیں چھوڑ دیا گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14500
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 163، حدیث 428
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: قَالَ عَطِيَّةُ: كُنْتُ فِي سَبْيِ بَنِي قُرَيْظَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَكُنْ أَنَبْتَ فَدَعُوهُ، فَنَظَرُوا فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا فَخَلَّوْا سَبِيلِي»
ترجمہ
سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بنو قریظہ کے قیدیوں میں تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے زیرِ ناف بال نہ اگے ہوں اسے چھوڑ دو۔“ چنانچہ انہوں نے دیکھا تو مجھ میں کچھ نہ پایا اور مجھے چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14501
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 163، حدیث 429
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ صَاحِبُ الْمَغَازِي، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِ كُلِّ مَنْ أَنَبْتَ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَكُنْتُ غُلَامًا فَوَجَدُونِي لَمْ أُنْبِتْ فَخَلَّوْا سَبِيلِي»
ترجمہ
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے بنو قریظہ میں سے ہر اس شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا جس کے زیرِ ناف بال اگ آئے ہوں، اور میں ایک لڑکا تھا، انہوں نے مجھے دیکھا تو میرے بال نہیں اگے تھے، چنانچہ مجھے چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14502
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 163، حدیث 430
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14503
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 163، حدیث 431
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، يَقُولُ: «كُنْتُ يَوْمَ حَكَمَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ غُلَامًا فَنَظَرُوا إِلَى مُؤْتَزَرِي فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ، فَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ»
ترجمہ
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جس دن سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے بارے میں فیصلہ کیا، میں ایک لڑکا تھا، انہوں نے میرا تہبند دیکھا تو میرے بال نہیں اگے تھے، چنانچہ آج میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14504
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 164، حدیث 432
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: كُنْتُ فِيمَنْ حَكَمَ فِيهِ سَعْدٌ، أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ «يَقْتُلَ مُقَاتِلُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ» قَالَ: فَجِيءَ بِي وَلَا أُرَانِي إِلَّا سَيَقْتُلُنِي، قَالَ: فَكَشَفَ عَنْ عَانَتِي فَنَظَرُوا إِلَيْهَا فَوَجَدُوهَا لَمْ تَخْرُجْ فَجَعَلُونِي فِي السَّبْيِ "
ترجمہ
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں انہی میں سے تھا جن کے بارے میں سعد رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا، رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا کہ ان کے لڑنے والوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا جائے۔ کہتے ہیں: مجھے لایا گیا تو میں سمجھا کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا، پھر میرا زیرِ ناف حصہ دیکھا گیا تو انہوں نے پایا کہ وہاں بال نہیں نکلے، چنانچہ مجھے قیدیوں میں شامل کر دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14505
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 164، حدیث 433
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا زُهَيْرٌ، ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ قَالَ: «كُنْتُ فِيمَنْ حَكَمَ عَلَيْهِ سَعْدٌ فَشَكُّوا فِيَّ، أَمِنَ الْمُقَاتِلَةِ أَنَا أَمْ مِنَ الذُّرِّيَّةِ، فَنَظَرُوا إِلَى عَانَتِي فَوَجَدُوهَا لَمْ تَطْلُعْ فَأَلْقُونِي فِي الذُّرِّيَّةِ»
ترجمہ
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بارے میں سعد رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا تھا، انہیں میرے بارے میں شک ہوا کہ آیا میں لڑنے والوں میں سے ہوں یا بچوں میں سے، چنانچہ انہوں نے میرا زیرِ ناف حصہ دیکھا تو وہاں بال نہیں نکلے تھے، اس لیے مجھے بچوں میں شمار کر لیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14506
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 164، حدیث 434
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ الْقُرَظِيُّ قَالَ: «عُرِضَتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ قُرَيْظَةَ، فَمَنْ كَانَ مِنَّا مُحْتَلِمًا أَوْ نَبَتَتْ عَانَتُهُ قُتِلَ، فَنَظَرُوا إِلَيَّ فَلَمْ أَكُنْ نَبَتَتْ عَانَتِي فَتُرِكْتُ»
ترجمہ
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بنو قریظہ کے واقعے کے موقع پر مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، اور حکم یہ تھا کہ ہم میں سے جو بالغ ہو چکا ہو یا جس کے زیرِ ناف بال اگ آئے ہوں اسے قتل کر دیا جائے، چنانچہ انہوں نے مجھے دیکھا تو میرے زیرِ ناف بال نہیں اگے تھے، اس لیے مجھے چھوڑ دیا گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14507
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 164، حدیث 435
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ الرُّؤَاسِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، وَأَبُو حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ قَالَا: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ الْأَهْوَازِيُّ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: «كُنْتُ فِي السَّبْيِ عُرِضْتُ فِيمَنْ عُرِضَ مِنَ السَّبْيِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ فَأُرْسِلْتُ»
ترجمہ
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں قیدیوں میں تھا، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قیدیوں کے ساتھ مجھے بھی پیش کیا گیا، تو انہوں نے دیکھا کہ میرے زیرِ ناف بال نہیں اگے تھے، چنانچہ مجھے چھوڑ دیا گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14508
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 165، حدیث 436
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: «عُرِضْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ فَخَلَّوْنِي»
ترجمہ
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بنو قریظہ کے دن مجھے نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، تو انہوں نے دیکھا کہ میرے بال نہیں اگے تھے، چنانچہ مجھے چھوڑ دیا گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14509
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 165، حدیث 437
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ قَالَ: «كُنْتُ فِيمَنْ عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَشَكُّوا فِيَّ فَنَظَرُوا إِلَى عَانَتِي لَمْ تَنْبُتْ، فَخُلِّيَ سَبِيلِي»
ترجمہ
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بنو قریظہ کے دن جن لوگوں کو نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا میں انہی میں تھا، انہیں میرے بارے میں شک ہوا تو میرا زیرِ ناف حصہ دیکھا، بال نہیں اگے تھے، چنانچہ مجھے چھوڑ دیا گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14510
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 165، حدیث 438
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا، فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ يَقُولُ: «كُنْتُ يَوْمَ حَكَمَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ غُلَامًا فَشَكُّوا بِي فَلَمْ يَجِدُوا الْمُوسَى جَرَتْ عَلَيَّ فَاسْتُبْقِيتُ»
ترجمہ
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے کوفہ کی مسجد میں ایک شخص کو یہ کہتے سنا: ”جس دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے بارے میں فیصلہ کیا، میں ایک لڑکا تھا، انہیں میرے بارے میں شک ہوا تو انہوں نے پایا کہ استرا مجھ پر نہیں چلا (یعنی ابھی بال نہیں اگے تھے)، چنانچہ مجھے زندہ رکھا گیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14511
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 165، حدیث 439