حدیث نمبر: 14511
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا، فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ يَقُولُ: «كُنْتُ يَوْمَ حَكَمَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ غُلَامًا فَشَكُّوا بِي فَلَمْ يَجِدُوا الْمُوسَى جَرَتْ عَلَيَّ فَاسْتُبْقِيتُ»
ترجمہ

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے کوفہ کی مسجد میں ایک شخص کو یہ کہتے سنا: ”جس دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے بارے میں فیصلہ کیا، میں ایک لڑکا تھا، انہیں میرے بارے میں شک ہوا تو انہوں نے پایا کہ استرا مجھ پر نہیں چلا (یعنی ابھی بال نہیں اگے تھے)، چنانچہ مجھے زندہ رکھا گیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14511
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 165، حدیث 439