کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا عطیہ بن سعد سعدی رضی اللہ عنہ، بنو جشم بن سعد سے
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غَيَاثٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمِقْدَامِ رَجَاءٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عبيد اللهِ عَنْ عَطِيَّةَ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي جُشَمٍ - أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مَالَ اللهِ مَسْئُولٌ وَمُنْطًى»
ترجمہ
سیدنا عطیہ بن سعد سعدی رضی اللہ عنہ - جو بنو جشم کے ایک فرد تھے - سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا مال مانگا بھی جاتا ہے اور دیا بھی جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْيَدُ الْمُنْطِيَةُ خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى»
ترجمہ
سیدنا عطیہ بن سعد سعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ زَنْجَلَةَ الرَّازِيُّ قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: وَفَدْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي سَعْدٍ وَكُنْتُ أَصْغَرَهُمْ فَخَلَّفُونِي فِي رِحَالِهِمْ فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَوْا حَوَائِجَهُمْ، فَقَالَ: «بَقِيَ أَحَدٌ؟» قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، غُلَامٌ بَقِيَ فِي رِحَالِنَا، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَدْعُونِي فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَنْطَاكَ اللهُ فَلَا تَسْأَلِ النَّاسَ شَيْئًا، فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْطِيَةُ وإنَّ الْيَدَ السُّفْلَى هِيَ الْمُنْطَاةُ وَأَنَّ اللهَ هُوَ الْمَسئُولُ وَالْمُنْطِي» فَكَلِّمْنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُغَتِنَا
ترجمہ
سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بنو سعد کے ایک وفد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور میں ان میں سب سے چھوٹا تھا، چنانچہ انہوں نے مجھے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا اور خود رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر اپنی ضروریات پوری کر لیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا کوئی اور باقی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ، ایک لڑکا ہمارے سامان کے پاس رہ گیا ہے۔ آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ اسے بلا لائیں، چنانچہ میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تجھے جو کچھ عطا کیا ہے اس پر قناعت کر اور لوگوں سے کچھ نہ مانگ، کیونکہ اوپر والا ہاتھ ہی دینے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ لینے والا ہے، اور مانگا بھی اللہ ہی سے جاتا ہے اور دیتا بھی وہی ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ہماری زبان میں گفتگو فرمائی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو وَائِلٍ الصَّنْعَانِيُّ الْمُرَادِيُّ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي عَطِيَّةَ وَقَدْ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَإنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ، وَإنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ، فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ»
ترجمہ
سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ - اور وہ صحابی تھے - سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غصہ شیطان کی طرف سے ہے، اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے، اور آگ پانی ہی سے بجھتی ہے، پس جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہیے کہ وضو کر لے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ شِبْلٍ، وَغَيْرُهُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَشَاطَ السُّلْطَانُ تَسَلَّطَ الشَّيْطَانُ»
ترجمہ
سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب حکمران (طیش میں آ کر) بھڑک اٹھے تو شیطان اس پر مسلط ہو جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ قَالَا: ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَطِيَّةَ أَنَّهُ كَانَ مِمَّنْ كَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ سَبْيِ هَوَازِنَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ: «عَشِيرَتُكَ وَأَصْلُكَ وَكُلُّ الْمُرْضَعِينَ» وَقَالَ: «وَلِهَذَا الْيَوْمِ اخْتَبَأْنَاكَ وَهُنَّ أُمَّهاتُكَ وأَخَواتُكَ وخَالَاتُكَ» فَكَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ، فَرَدَّ لَهُمْ سَبْيَهُمْ إِلَّا رَجُلَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبُوا فَخَيِّرُوهُمَا» فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إنِّي أَتْرُكُهُ، وَقَالَ الْآخَرُ: لَا أَتْرُكُهُ، فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحْسَنَ سَهْمَهُ» فَكَانَ يَمُرُّ بِالْجَارِيَةِ الْبِكْرِ وَالْغُلَامِ فَيَدَعُهُ حَتَّى مَرَّ بِعَجُوزٍ فَقَالَ: «فَإِنِّي آخِذٌ هَذِهِ فَإِنَّهَا أُمٌّ حَيٍّ وَيَسْتَفْدُونَهَا مِنِّي بِمَا قَدَرُوا عَلَيْهِ» فَكَبَّرَ عَطِيَّةُ وَقَالَ: خُذْهَا يَا رَسُولَ اللهِ، مَا فُوهَا بِبَارِدٍ وَلَا ثَدْيُهَا بِنَاهِدٍ، وَلَا وَافِدُها بواجِدٍ، عَجُوزٌ يَا رَسُولَ اللهِ، بَرَاءُ سَبِيَّةٌ مَا لَهَا أَحَدٌ، فَلَمَّا رَآهَا لَا يَعْرِضُ لَهَا أَحَدٌ تَرَكَهَا "
ترجمہ
سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ہوازن کے قیدیوں کے دن نبی کریم ﷺ سے گفتگو کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہارا خاندان اور تمہاری اصل ہے، اور یہ سب دودھ پلانے والیاں ہیں“، نیز فرمایا: ”ہم نے تمہیں اسی دن کے لیے بچا رکھا تھا، اور یہ تمہاری مائیں، بہنیں اور خالائیں ہیں۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے بات کی تو انہوں نے دو آدمیوں کے سوا سب کے قیدی واپس کر دیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور ان دونوں کو اختیار دو۔“ ان میں سے ایک نے کہا: میں اسے چھوڑ دیتا ہوں، اور دوسرے نے کہا: میں نہیں چھوڑوں گا۔ جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس نے اپنا حصہ اچھا کیا۔“ (راوی کہتے ہیں) آپ ﷺ کسی کنواری لڑکی یا لڑکے کے پاس سے گزرتے تو اسے چھوڑ دیتے، یہاں تک کہ ایک بڑھیا کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”میں اسے لیتا ہوں، کیونکہ یہ ایک قبیلے کی ماں ہے اور یہ لوگ اپنی طاقت بھر مجھ سے اسے واپس لے لیں گے۔“ اس پر عطیہ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اسے لے لیجیے، نہ اس کا منہ خوبصورت ہے، نہ اس کا سینہ ابھرا ہوا ہے، اور نہ ہی کوئی اسے چاہے گا، یہ ایک بڑھیا ہے یا رسول اللہ، بے کس قیدی ہے جس کا کوئی نہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ کوئی اسے (چھڑانے کے لیے) آگے نہیں بڑھتا تو آپ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُتَّقِينَ حَتَّى يَدَعَ مَا لَا بَأْسَ بِهِ حَذَرًا مِمَّا بِهِ بَأْسٌ»
ترجمہ
سیدنا عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ - اور وہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے - سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بندہ اس وقت تک متقین میں شامل نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس چیز کو بھی چھوڑ نہ دے جس میں کوئی حرج نہیں، اس چیز کے ڈر سے جس میں حرج ہے۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ قَوْمِهِ، فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَلْ قَدِمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ؟» قَالُوا: نَعَمْ، فَتًى مِنَّا خَلَّفْنَاهُ فِي رِحَالِنَا قَالَ: «فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ» فَلَمَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُمْ عِنْدَهُ اسْتَقْبَلَنِي فَقَالَ: «إِنَّ الْيَدَ المُنْطِيَةُ هِيَ الْعُلْيَا، وَإِنَّ السَّائِلَةَ هِيَ السُّفْلَى، وَمَا اسْتَغْنَيْتَ فَلَا تَسْأَلْ، فَإِنَّ مَالَ اللهِ مَسْئُولٌ وَمُنْطًى»
ترجمہ
سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی قوم کے وفد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارے علاوہ بھی کوئی آیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، ہم میں سے ایک نوجوان ہے جسے ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے بلا بھیجو۔“ (عطیہ کہتے ہیں) جب میں آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور صحابہ بھی موجود تھے تو آپ ﷺ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”دینے والا ہاتھ ہی اوپر والا ہے، اور مانگنے والا ہاتھ نیچے والا ہے، اور جب تک تجھے ضرورت نہ ہو مت مانگ، کیونکہ اللہ کا مال مانگا بھی جاتا ہے اور دیا بھی جاتا ہے۔“