حدیث نمبر: 14504
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، يَقُولُ: «كُنْتُ يَوْمَ حَكَمَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ غُلَامًا فَنَظَرُوا إِلَى مُؤْتَزَرِي فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ، فَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ»
ترجمہ

سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جس دن سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے بارے میں فیصلہ کیا، میں ایک لڑکا تھا، انہوں نے میرا تہبند دیکھا تو میرے بال نہیں اگے تھے، چنانچہ آج میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14504
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 164، حدیث 432