حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَبُو الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! میری امت کے لیے اس کی صبح سویرے کی کوشش میں برکت عطا فرما۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَبُو الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَرْبُ خَدْعَةٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنگ (درحقیقت) فریب ہی کا نام ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، وَمَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ الْقَوْمَ وَهُمْ يَقُولُونَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيمَانٌ بِاللهِ وَرَسُولِهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ» ، ثُمَّ سَمِعَ نِدَاءً فِي الْوَادِي، يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَنَا أَشْهَدُ، وَأَنَا أَشْهَدُ، لَا يَشْهَدُهَا أَحَدٌ إِلَّا بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ» . وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ أحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے کہ آپ ﷺ نے لوگوں کو یہ کہتے سنا: یا رسول اللہ! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، اور حج مبرور۔“ پھر آپ ﷺ نے وادی میں ایک آواز سنی جو کہہ رہی تھی: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اور میں بھی گواہی دیتا ہوں، اور میں بھی گواہی دیتا ہوں، جو شخص بھی اس کی گواہی دے وہ شرک سے بری ہو جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّمْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، إِذْ أَقْبَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَمَعَهُ رَاحِلَةٌ عَلَيْهَا غِرَارَتَانِ، وَهُوَ مُحْتَجِزٌ بِعِقَالِ نَاقَتِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّ شَيءٍ فِي الْغَرَارَتَيْنِ؟» ، قَالَ: دَقِيقٌ وَسَمْنٌ وَعَسَلٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنِخْ» ، فَأَنَاخَ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْمَةٍ، فَجَعَلَ فِيهَا مِنْ ذَلِكَ الدَّقِيقِ وَالسَّمْنِ وَالْعَسَلِ ثُمَّ أَكَلَ، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «كُلُوا، هَذَا الَّذِي تُسَمِّيهِ فَارِسُ الْخَبِيصَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسی دوران سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ایک سواری پر دو بوریاں لادے تشریف لائے، انہوں نے اپنی اونٹنی کی رسی اپنی کمر سے باندھ رکھی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”ان دونوں بوریوں میں کیا ہے؟“ عرض کیا: آٹا، گھی اور شہد ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اونٹنی بٹھاؤ۔“ چنانچہ انہوں نے اونٹنی بٹھا دی، پھر رسول اللہ ﷺ نے ایک ہانڈی منگوائی اور اس میں اس آٹے، گھی اور شہد میں سے ڈالا، پھر آپ ﷺ نے کھایا، پھر اپنے صحابہ سے فرمایا: ”کھاؤ، یہی وہ چیز ہے جسے اہلِ فارس ’خبیص‘ کہتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: إِنَّ اللهَ لَمَّا أَرَادَ هُدَى زَيْدِ بْنِ سَعْنَةَ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: مَا مِنْ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ شَىءٌ إِلَّا وَقَدْ عَرَفْتُهَا فِي وَجْهِ مُحَمَّدٍ حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ، إِلَّا اثْنَتَيْنِ لَمْ أَخْبُرْهُمَا مِنْهُ، يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ، وَلَا يَزِيدُهُ شِدَّةُ الْجَهْلِ إِلَّا حِلْمًا، فَكُنْتُ أَلْطُفُ لَهُ إِلَى أَنْ أُخَالِطُهُ، فَأَعْرِفُ حِلْمَهُ مِنْ جَهِلِهِ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا مِنَ الْحُجُرَاتِ وَمَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ كَالْبَدَوِيِّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ بِقِرَى قَرْيَةِ بَنِي فُلَانٍ قَدْ أَسْلَمُوا وَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ، وَكُنْتُ حَدَّثَتْهُمْ إِنْ أَسْلَمُوا، أَتَاهُمُ الرِّزْقُ رَغَدًا، وَقَدْ أَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ، وَشِدَّةٌ، وَقُحُوطٌ مِنَ الْغَيْثِ، فَأَنَا أَخْشَى يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ الْإِسْلَامِ طَمَعًا، كَمَا دَخَلُوا فِيهِ طَمَعًا، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُرْسِلَ إِلَيْهِمْ بِشَيْءٍ تُعِينُهُمْ بِهِ فَعَلْتَ، فَنَظَرَ إِلَى رَجُلٍ إِلَى جَانِبِهِ أُرَاهُ عَلِيًّا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا بَقِيَ مِنْهُ شَىءٌ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: فَدَنَوْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا مُحَمَّدُ هَلْ لَكَ أَنْ تَبِيعَنِي تَمْرًا مَعْلُومًا فِي حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ إِلَى أَجَلِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: «لَا يَا يَهُودِيُّ وَلَكِنْ أَبِيعُكَ تَمْرًا مَعْلُومًا إِلَى أَجَلِ كَذَا وَكَذَا وَلَا تُسَمِّي حَائِطَ بَنِي فُلَانٍ» ، قُلْتُ: نَعَمْ، فَبَايَعَنِي، فَأَطْلَقْتُ هِمْيَانِي فَأَعْطَيْتُهُ ثَمَانِينَ مِثْقَالًا مِنْ ذَهَبٍ فِي تَمْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلِ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْطَاهَا الرَّجُلَ، وَقَالَ: «اعْدِلْ عَلَيْهِمْ وَأَعْلِنْهُمْ بِهَا» ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ مَحَلِّ الْأَجَلِ بِيَوْمَيْنِ، أَوْ ثَلَاثٍ، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ، وَدَنَا مِنْ جِدَارٍ لِيَجْلِسَ أَتَيْتُهُ، فَأَخَذْتُ بِمَجَامِعِ قَمِيصِهِ وَرِدَائِهِ، وَنَظَرْتُ إِلَيْهِ بِوَجْهٍ غَلِيظٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا تَقْضِينِي يَا مُحَمَّدُ حَقِّي، فَوَاللهِ مَا عَلِمْتُكُمْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَمُطْلٌ، وَلَقَدْ كَانَ لِي بِمُخَالَطَتِكُمْ عِلْمٌ، وَنَظَرْتُ إِلَى عُمَرَ وَإِذَا عَيْنَاهُ تَدُورَانِ فِي وَجْهِهِ كَالْفُلْكِ الْمُسْتَدِيرِ، ثُمَّ رَمَانِي بِبَصَرِهِ، فَقَالَ: يَا عَدُوَّ اللهِ أَتَقُولُ لِرَسُولِ اللهِ مَا أَسْمَعُ، وَتَصْنَعُ بِهِ مَا أَرَى؟، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَوْلَا مَا أُحَاذِرُ فَوْتَهُ لَضَرَبْتُ بِسَيْفِي رَأْسَكَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى عُمَرَ بِسُكُونٍ وَتُؤَدَةٍ وَتَبَسَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «يَا عُمَرُ أَنَا وَهُوَ كُنَّا أَحْوَجَ إِلَى غَيْرِ هَذَا، أَنْ تَأْمُرَنِي بِحُسْنِ الْأَدَاءِ، وَتَأْمُرَهُ بِحُسْنِ التَّبَاعَةِ، اذْهَبْ بِهِ يَا عُمَرُ فَأَعْطِهِ حَقَّهُ وَزِدْهُ عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ مَكَانَ مَا رُعْتَهُ» ، قَالَ زَيْدٌ: فَذَهَبَ بِي عُمَرُ فَأَعْطَانِي حَقِّي وَزَادَنِي عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الزِّيَادَةُ يَا عُمَرُ؟، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَزِيدَكَ مَكَانَ مَا رُعْتُكَ، قَالَ: وَتَعْرِفُنِي يَا عُمَرُ؟، قَالَ: لَا، فَمَا دَعَاكَ أَنْ فَعَلْتَ بِرَسُولِ اللهِ مَا فَعَلْتَ؟، قُلْتُ: يَا عُمَرُ لَمْ يَكُنْ مِنْ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ شَىءٌ إِلَّا وَقَدْ عَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ إِلَّا اثْنَتَيْنِ لَمْ أَخْبُرْهُمَا مِنْهُ، يَسْبِقُهُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ، وَلَا تَزِيدُهُ شِدَّةُ الْجَهْلِ عَلَيْهِ إِلَّا حِلْمًا، فَقَدْ أُخْبِرْتُهُمَا، فَأُشْهِدُكَ يَا عُمَرُ أَنِّي قَدْ رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَأُشْهِدُكَ أَنَّ شَطْرَ مَالِي فَإِنِّي أَكْثَرُهَا مَالًا صَدَقَةٌ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ، قَالَ عُمَرُ: أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ فَإِنَّكَ لَا تَسَعُهُمْ، قُلْتُ: أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ، فَرَجَعَ عُمَرُ، وَزَيْدٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ، فَقَالَ زَيْدٌ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. وَآمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَتَابَعَهُ وَشَهِدَ مَعَهُ مَشَاهِدَ كَثِيرَةً، ثُمَّ تُوُفِّيَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، رَحِمَ اللهُ زَيْدًا
ترجمہ
(...) اس پر ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس میں سے کچھ باقی نہیں بچا۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں: میں آپ ﷺ کے قریب گیا اور عرض کیا: اے محمد! کیا آپ مجھے فلاں قبیلے کے باغ سے ایک معین مقدار میں کھجوریں فلاں مدت تک (ادھار) بیچیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں اے یہودی! البتہ میں تمہیں معین مقدار میں کھجوریں فلاں مدت تک بیچ دیتا ہوں، لیکن فلاں باغ کا نام نہ لو۔“ میں نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے مجھ سے یہ سودا کر لیا۔ میں نے اپنی تھیلی کھولی اور آپ ﷺ کو اسی معین مدت تک معین کھجوروں کے عوض اسی اشرفیوں کے وزن کے برابر سونا دے دیا۔ آپ ﷺ نے وہ سونا ایک آدمی کو دیا اور فرمایا: ”ان کے ساتھ انصاف کرنا اور انہیں (رقم کے بارے میں) بتا دینا۔“ زید بن سعنہ کہتے ہیں: پھر جب مدت پوری ہونے میں دو یا تین دن باقی رہ گئے تو رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے، آپ کے ساتھ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم اور صحابہ کی ایک جماعت تھی۔ جب آپ ﷺ نے جنازے کی نماز پڑھائی اور دیوار کے قریب بیٹھنے کے لیے آئے تو میں آپ کے پاس گیا، میں نے آپ کی قمیص اور چادر پکڑ لی اور سخت لہجے میں آپ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: اے محمد! کیا تم میرا حق ادا نہیں کرو گے؟ اللہ کی قسم، میں تم بنو عبدالمطلب کو ٹال مٹول کرنے والا ہی جانتا ہوں، مجھے تم لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے کا تجربہ ہے۔ پھر میں نے عمر کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھیں غصے سے چکر کی طرح گھوم رہی تھیں، پھر انہوں نے مجھ پر نظر ڈالی اور کہا: اے اللہ کے دشمن! تو رسول اللہ ﷺ سے ایسی بات کہتا ہے جو میں سن رہا ہوں اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، اگر مجھے (کسی اور چیز کے) فوت ہو جانے کا خدشہ نہ ہوتا تو میں اپنی تلوار سے تیری گردن اڑا دیتا۔ رسول اللہ ﷺ نرمی اور اطمینان سے عمر کی طرف دیکھ رہے تھے، پھر آپ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”اے عمر! مجھے اور اسے اس کے سوا کسی اور چیز کی زیادہ ضرورت تھی، تمہیں چاہیے تھا کہ مجھے اچھے طریقے سے ادائیگی کرنے کا کہتے اور اسے اچھے طریقے سے تقاضا کرنے کا کہتے۔ اے عمر! اسے لے جاؤ، اس کا حق ادا کر دو اور جتنا تم نے اسے ڈرایا ہے اس کے بدلے بیس صاع کھجوریں مزید دے دو۔“ زید کہتے ہیں: عمر مجھے لے گئے اور میرا حق ادا کر دیا اور بیس صاع کھجوریں مزید دیں۔ میں نے کہا: اے عمر! یہ زیادتی کیسی؟ فرمایا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جتنا میں نے تمہیں ڈرایا ہے اس کے بدلے تمہیں مزید دوں۔ میں نے کہا: اے عمر! کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ فرمایا: نہیں۔ (میں نے کہا:) تو پھر تم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا جیسا کیا؟ میں نے کہا: اے عمر! نبوت کی کوئی نشانی ایسی نہیں تھی جسے میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے میں دیکھ کر نہ پہچان لیا ہو، سوائے دو باتوں کے جو مجھے ابھی تک معلوم نہ تھیں: ایک یہ کہ ان کا حلم ان کی نادانی (کے وقت غصے) پر سبقت لے جاتا ہے، اور دوسرا یہ کہ نادانی کی شدت انہیں حلم ہی میں بڑھاتی ہے۔ اب مجھے یہ دونوں باتیں بھی معلوم ہو گئیں، سو اے عمر! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہوں، اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میرا آدھا مال، اور میرا مال بہت زیادہ ہے، امتِ محمد ﷺ پر صدقہ ہے۔ عمر نے کہا: یا ان میں سے کچھ پر، کیونکہ تمہارا مال سب کو نہیں سما سکتا۔ میں نے کہا: یا ان میں سے کچھ پر (سہی)۔ پھر عمر اور زید رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے تو زید نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ چنانچہ وہ ایمان لائے، انہوں نے آپ ﷺ کی تصدیق کی اور آپ کی پیروی اختیار کی، اور آپ کے ساتھ کئی غزوات میں شریک ہوئے، پھر غزوہ تبوک میں پیش قدمی کرتے ہوئے (پیٹھ نہ پھیرتے ہوئے) وفات پائی، اللہ زید پر رحم فرمائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ، قَالَ لِأَحْبَارِ الْيَهُودِ: إِنِّي أَحْدَثُ بِمَسْجِدِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْمَاعِيلَ عَهْدًا، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ بِمَكَّةَ، فَوَافَاهُمْ وَقَدِ انْصَرَفُوا مِنَ الْحَجِّ، فَوَجَدَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى وَالنَّاسُ حَوْلَهُ، فَقُمْتُ مَعَ النَّاسِ فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَنْتَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ؟» ، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «ادْنُ» ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ، قَالَ: «أَنْشُدُكَ بِاللهِ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ، أَمَا تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ رَسُولُ اللهِ؟» ، فَقُلْتُ لَهُ: انْعَتْ رَبَّنَا، قَالَ فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: " {قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ} [الإخلاص: ٢] "، فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ سَلَامٍ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَكَتَمَ إِسْلَامَهُ، فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا فَوْقَ فِي نَخْلَةٍ لِي أَجُدُّهَا، فَسَمِعْتُ رَجَّةً فِي الْمَدِينَةِ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟، قَالُوا: رَسُولُ اللهِ قَدْ قَدِمَ، قَالَ: فَأَلْقَيْتُ نَفْسِي مِنْ أَعْلَى النَّخْلَةِ ثُمَّ جِئْتُ أَحْضُرُ حَتَّى أَتَيْتُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ رَجَعْتُ، فَقَالَتْ أُمِّي: لِلَّهِ أَنْتَ، وَاللهِ لَوْ كَانَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَا كَانَ بِذَلِكَ تُلْقِي نَفْسَكَ مِنْ أَعْلَى النَّخْلَةِ، فَقُلْتُ: وَاللهِ لَأَنَا أَسَرُّ بِقُدُومِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ إِذْ بُعِثَ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (... جب لوگ) حج سے واپس آ چکے تھے تو وہ ان سے آ ملے، چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو منیٰ میں پایا، لوگ آپ کے ارد گرد تھے۔ میں بھی لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے میری طرف دیکھا تو فرمایا: ”کیا تم عبداللہ بن سلام ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: ”قریب آؤ۔“ چنانچہ میں آپ کے قریب گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن سلام! میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم مجھے تورات میں اللہ کا رسول نہیں پاتے؟“ میں نے عرض کیا: ہمارے رب کی صفت بیان کیجیے۔ (سیدنا عبداللہ بن سلام) کہتے ہیں کہ اس پر جبریل علیہ السلام آئے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر آپ سے کہا: ”فرما دیجیے: وہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔“ [سورۃ الاخلاص: 1-4]۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے یہ ہمیں پڑھ کر سنائی۔ ابن سلام نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر وہ مدینہ واپس چلے گئے اور اپنا اسلام چھپا لیا۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو میں اس وقت اپنی ایک کھجور کے درخت پر اس کے پھل توڑ رہا تھا، میں نے مدینہ میں ایک ہلچل سنی تو کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے ہیں۔ (ابن سلام) کہتے ہیں: میں نے فوراً اپنے آپ کو کھجور کے درخت کی چوٹی سے نیچے گرا دیا، پھر (خدمت میں) حاضر ہونے کے لیے چلا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس آ کر سلام عرض کیا، پھر واپس آیا تو میری ماں نے کہا: اللہ تمہیں سلامت رکھے، اللہ کی قسم اگر موسیٰ بن عمران علیہ السلام (بھی تشریف لاتے) تو تم اس طرح کھجور کے درخت کی چوٹی سے اپنے آپ کو نہ گراتے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم، مجھے رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کی خوشی موسیٰ بن عمران علیہ السلام کی مبعوث ہونے کی خوشی سے بھی زیادہ ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ عِمْرَانَ السَّدُوسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا عَلَى أَحَدِكُمْ لَوِ اتَّخَذَ ثَوْبَيْنِ لِجُمُعَتِهِ سِوَى ثَوْبِي مِهْنَتِهِ؟»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”تم میں سے کسی پر کیا حرج ہے اگر وہ اپنے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ جمعہ کے لیے دو کپڑے مخصوص کر لے؟“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَحْنُ خَيْرٌ أَمْ مَنْ بَعْدَنَا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ لِأَحَدِهِمْ مِثْلَ أَحَدٍ ذَهَبًا يُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِكُمْ، وَلَا نَصِيفَهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم بہتر ہیں یا وہ لوگ جو ہمارے بعد آئیں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرے تب بھی وہ تم میں سے کسی کے ایک مُد بلکہ اس کے نصف کے برابر بھی نہیں پہنچے گا۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامِ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ الْكُوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كُنَّا نَكُونُ مَعَ النَّبِيِّ فَإِذَا حَدَّثَ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہوا کرتے تھے، جب آپ ﷺ کوئی بات بیان فرماتے تو اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا صَلَاةَ لِمُلْتَفِتٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ادھر ادھر (بلاوجہ) دیکھنے والے کی نماز مکمل نہیں ہوتی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا صَلَاةَ لِمُلْتَفِتٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ادھر ادھر (بلاوجہ) دیکھنے والے کی نماز مکمل نہیں ہوتی۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، قَالَ: حَدَّثَنَا غِيَاثُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، قَالَ: «اقْرَأْ بِهَذَا لَيْلَةً وَبِهَذَا لَيْلَةً»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے قرآن، تورات اور انجیل (سب) پڑھی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک رات یہ (قرآن) پڑھا کرو اور ایک رات یہ (تورات یا انجیل)۔“
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ أَبِي مَخْلَدٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجُرُائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، اسْتَأْذَنَ عَلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ، فَأَنْكَرَهُ الْبَوَّابُونَ، فَلَمْ يَأْذَنُوا لَهُ، فَجَاءَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ، فَاسْتَأْذَنَ لَهُ الْحَجَّاجُ، فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَسَلَّمَ وَأَمَرَ رَجُلَيْنِ مِمَّا يَلِي السَّرِيرَ أَنْ يُوَسِّعَا لَهُ، فَجَلَسَ فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ: لِلَّهِ أَبُوكَ، أَتَعْلَمُ حَدِيثًا حَدَّثَهُ أَبُوكَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ عَنْ جَدِّكَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ؟، قَالَ: وَأَيُّ حَدِيثٍ يَرْحَمُكَ اللهُ؟، فَرُبَّ حَدِيثٍ، قَالَ: حَدِيثُ الْمِصْرِيِّينَ حِينَ حَضَرُوا عُثْمَانَ، قَالَ: قَدْ عَلِمْتُ ذَاكَ الْحَدِيثَ، أَقْبَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ، قَالَ: فَانْطَلَقَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَوَسَّعُوا لَهُ حَتَّى دَخَلَ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ مَا جَاءَ بِكَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ؟، قَالَ: جِئْتُ لِأَتَثَبَّتَ حَتَّى تُسْتَشْهَدَ أَوْ يَفْتَحَ اللهُ لَكَ، وَلَا أَدْرِي هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ إِلَّا قَاتِلِيكَ، فَإِنْ يَقْتُلُوكَ فَذَلِكَ خَيْرٌ لَكَ وَشَرٌّ لَهُمْ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: أَسْأَلُكَ بِالَّذِي لِي عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ لَمَا خَرَجْتَ إِلَيْهِمْ خَيْرًا يَسُوقُهُ اللهُ بِكَ أَوْ شَرًّا يَدْفَعُهُ اللهُ بِكَ، فَسَمِعَ وَأَطَاعَ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُ اجْتَمَعُوا وَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ جَاءَهُمْ بِبَعْضِ مَا يُسَرُّونَ بِهِ، فَقَامَ خطيبا فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا بَعْدُ فَإِنَّ اللهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشِيرًا وَنَذِيرًا، يُبَشِّرُ بِالْجَنَّةِ مَنْ أَطَاعَهُ، وَيُنْذِرُ بِالنَّارِ مَنْ عَصَاهُ، وَأَظْهَرَ مَنِ اتَّبَعَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ، ثُمَّ اخْتَارَ لَهُ الْمَسَاكِنَ فَاخْتَارَ لَهُ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَهَا دَارَ الْهِجْرَةِ، وَجَعَلَهَا دَارَ الْإِيمَانِ، فَوَاللهِ مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ حَافِّينَ بِهَذِهِ الْمَدِينَةِ مُنْذُ قَدِمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا زَالَ سَيْفُ اللهِ مَغْمُودًا عَنْكُمْ مُنْذُ قَدِمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَوْمِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ، فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي بِهُدَى اللهِ، وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ بَعْدَ الْبَيَانِ وَالْحُجَّةِ، وَإِنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ نَبِيٌّ فِيمَا مَضَى إِلَّا قُتِلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مُقَاتِلٍ، كُلُّهُمْ يُقْتَلُ بِهِ، وَلَا قُتِلَ خَلِيفَةٌ قَطُّ إِلَّا قُتِلَ بِهِ خَمْسَةٌ وَثَلَاثُونَ أَلْفَ مُقَاتِلٍ، كُلُّهُمْ يُقْتَلُ بِهِ، فَلَا تَعْجَلُوا عَلَى هَذَا الشَّيْخِ بِقَتْلٍ، فَوَاللهِ لَا يَقْتُلُهُ مِنْكُمْ رَجُلٌ إِلَّا لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَدُهُ مَقْطُوعَةٌ مَشْلُولَةٌ، اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ لِوَالِدٍ عَلَى وَلَدٍ حَقٌّ إِلَّا وَلِهَذَا الشَّيْخِ عَلَيْكُمْ مِثْلُهُ، قَالَ فَقَامُوا، فَقَالُوا: كَذَبَتِ الْيَهُودُ كَذَبْتِ الْيَهُودُ، قَالَ: كَذَبْتُمْ وَاللهِ وَأَنْتُمْ آثِمُونَ، مَا أَنَا بِيَهُودِيٍّ إِنِّي لَأَحَدُ الْمُسْلِمِينَ يَعْلَمُ اللهُ بِذَلِكَ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ، وَقَدْ أُنْزِلَ فِيِّ الْقُرْآنُ، فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {قُلْ كَفَى بِاللهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عَلِمُ الْكِتَابِ} [الرعد: ٤٣] ، وَأَنْزَلَ اللهُ الْآيَةَ الْأُخْرَى {قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ} [الأحقاف: ١٠] ، قَالَ: فَقَامُوا فَدَخَلُوا عَلَى عُثْمَانَ فَذَبَحُوهُ كَمَا يُذْبَحُ الْحُلَّانُ، قَالَ شُعَيْبٌ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ: مَا الْحُلَّانُ؟، قَالَ: الْحَمَلُ، قَالَ: وَقَدْ قَالَ عُثْمَانُ قَبْلَ ذَلِكَ لَكَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ: يَا كَثِيرُ أَنَا وَاللهِ مَقْتُولٌ غَدًا، قَالَ: بَلْ يُعْلِي اللهُ كَعْبَكَ، وَيَكْبِتُ عَدُوَّكَ، قَالَ: ثُمَّ أَعَادَهَا الثَّالِثَةَ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: عَمَّ تَقُولُ ذَاكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَقَالَ لِي: «يَا عُثْمَانُ أَنْتَ عِنْدَنَا غَدًا وَأَنْتَ مَقْتُولٌ غَدًا» ، فَأَنَا وَاللهِ مَقْتُولٌ، قَالَ: فَقُتِلَ، قَالَ: فَخَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ إِلَى الْقَوْمِ قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقُوا، وَهُمْ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ عَلَى رِجْلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ مِصْرَ، يَا قَتَلَةَ عُثْمَانَ قَتَلْتُمْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَا وَاللهِ لَا يَزَالُ عَهْدٌ مَنْكُوثٌ، وَدَمٌ مَسْفُوحٌ، وَمَالٌ مَقْسُومٌ لَا يَنْقَسِمُ
ترجمہ
… پھر اس نے تیسری بار یہی بات دہرائی تو انہوں (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ) نے پہلے جیسا ہی جواب دیا۔ اس نے پوچھا: امیر المومنین! آپ یہ بات کس بنا پر فرما رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ کے ساتھ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے عثمان! کل تم ہمارے پاس ہوگے اور کل ہی تم شہید کر دیے جاؤ گے۔“ سو اللہ کی قسم! میں ضرور شہید کیا جاؤں گا۔ (راوی کہتے ہیں:) چنانچہ وہ شہید کر دیے گئے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ لوگوں کے (ابھی) منتشر ہونے سے پہلے ان کی طرف نکلے، وہ لوگ مسجد میں تھے، وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: اے اہلِ مصر! اے عثمان کے قاتلو! تم نے امیر المومنین کو قتل کر دیا، خبردار! اللہ کی قسم، (اب اس امت میں) عہد ٹوٹتا رہے گا، خون بہتا رہے گا، اور مال (ناحق) تقسیم ہوتا رہے گا حالانکہ اسے تقسیم نہیں ہونا چاہیے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «يَمْكُثُ النَّاسُ بَعْدَ الدَّجَّالِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، تَعْمُرُ الْأَسْوَاقَ وَتَغْرِسُ النَّخْلَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: دجال کے (خاتمے کے) بعد لوگ چالیس سال تک زندہ رہیں گے، بازار آباد ہوں گے اور کھجور کے درخت لگائے جائیں گے۔