کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: محمد بن عبداللہ بن سلام کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: قَالَ أَبِي: قَدِمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطَّهُورِ خَيْرًا يَا أَهْلَ قُبَاءَ، أَفَلَا تُخْبِرُونِي؟» ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَيْنَا فِي التَّوْرَاةِ الِاسْتِنْجَاءُ بِالْمَاءِ
ترجمہ
محمد بن عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں کہ میرے والد (سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا: ”اے اہلِ قبا! اللہ عزوجل نے طہارت کے بارے میں تمہاری تعریف فرمائی ہے، کیا تم مجھے نہیں بتاؤ گے (کہ تم کیا کرتے ہو)؟“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں تورات میں پانی سے استنجا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13978
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 157، حدیث 381
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَسَارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مَسْجِدَ قُبَاءَ، فَقَامَ عَلَى بَابِهِ، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطَّهُورِ فَمَا طَهُورُكُمْ؟» ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا أَهْلُ كُتُبٍ وَنَجِدُ الِاسْتِنْجَاءَ عَلَيْنَا بِالْمَاءِ، وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ الْيَوْمَ، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطَّهُورِ، فَقَالَ: {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} [التوبة: ١٠٨] "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اس مسجد میں تشریف لائے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی تھی، یعنی مسجدِ قبا، آپ ﷺ اس کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے طہارت کے بارے میں تمہاری بڑی تعریف فرمائی ہے، تمہاری طہارت کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اہلِ کتاب ہیں اور ہمیں (اپنی کتاب میں) پانی سے استنجا کرنا لکھا ہوا ملتا ہے، اور ہم آج تک ایسا ہی کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بےشک اللہ تعالیٰ نے طہارت کے بارے میں تمہاری بڑی تعریف فرمائی ہے، چنانچہ اللہ نے فرمایا: ”اس میں ایسے لوگ ہیں جو خوب پاک رہنا پسند کرتے ہیں، اور اللہ خوب پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔“ [سورۃ التوبہ: 108]
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13979
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 158، حدیث 382
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَا: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ يُوسُفَ، وَغَيْرُهُ، مِنْ أَهْلِ ذِي الْمَرْوَةِ وَقُدَمَائِهِمْ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِالْحُلَيْمَةِ فِي سَفَرِهِ إِلَى تَبُوكَ، قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: الْمَنْزِلُ يَا رَسُولَ اللهِ الظِّلُّ وَالْمَاءُ، وَكَانَ فِيهَا دَوْمٌ وَمَاءٌ، فَقَالَ: «إِنَّهَا أَرْضُ زَرْعٍ وَبَقَرٍ دَعُوهَا، فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ» ، يَعْنِي: نَاقَتَهُ، فَأَقْبَلَتْ حَتَّى نَزَلَتْ تَحْتَ الدَّوْمَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي الْمَسْجِدِ ذِي الْمَرْوَةِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے سفرِ تبوک میں حلیمہ کے مقام سے گزرے تو صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہاں سایہ اور پانی ہے، یہیں پڑاؤ کر لیں، کیونکہ وہاں بیریوں کے درخت اور پانی موجود تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کھیتی اور مویشیوں کی زمین ہے، اسے (یعنی اونٹنی کو) چھوڑ دو، یہ (اللہ کی طرف سے) حکم کی پابند ہے۔“ آپ کی مراد اپنی اونٹنی سے تھی۔ چنانچہ وہ آگے بڑھتی گئی یہاں تک کہ اسی بیری کے درخت کے نیچے بیٹھ گئی جو مسجدِ ذی المروہ میں تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13980
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 158، حدیث 383
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ التِّرْمِذِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الضَّحَّاكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: «يُدْفَنُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَاحِبَيْهِ فَيَكُونُ قَبْرُهُ الرَّابِعُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: عیسیٰ علیہ السلام کو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے دونوں ساتھیوں (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کے ساتھ دفن کیا جائے گا، اس طرح ان کی قبر چوتھی ہوگی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13981
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 158، حدیث 384