المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يوسف بن عبد الله بن سلام، عن أبيه باب: یوسف بن عبداللہ بن سلام کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ أَبِي مَخْلَدٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجُرُائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، اسْتَأْذَنَ عَلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ، فَأَنْكَرَهُ الْبَوَّابُونَ، فَلَمْ يَأْذَنُوا لَهُ، فَجَاءَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ، فَاسْتَأْذَنَ لَهُ الْحَجَّاجُ، فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَسَلَّمَ وَأَمَرَ رَجُلَيْنِ مِمَّا يَلِي السَّرِيرَ أَنْ يُوَسِّعَا لَهُ، فَجَلَسَ فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ: لِلَّهِ أَبُوكَ، أَتَعْلَمُ حَدِيثًا حَدَّثَهُ أَبُوكَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ عَنْ جَدِّكَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ؟، قَالَ: وَأَيُّ حَدِيثٍ يَرْحَمُكَ اللهُ؟، فَرُبَّ حَدِيثٍ، قَالَ: حَدِيثُ الْمِصْرِيِّينَ حِينَ حَضَرُوا عُثْمَانَ، قَالَ: قَدْ عَلِمْتُ ذَاكَ الْحَدِيثَ، أَقْبَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ، قَالَ: فَانْطَلَقَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَوَسَّعُوا لَهُ حَتَّى دَخَلَ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ مَا جَاءَ بِكَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ؟، قَالَ: جِئْتُ لِأَتَثَبَّتَ حَتَّى تُسْتَشْهَدَ أَوْ يَفْتَحَ اللهُ لَكَ، وَلَا أَدْرِي هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ إِلَّا قَاتِلِيكَ، فَإِنْ يَقْتُلُوكَ فَذَلِكَ خَيْرٌ لَكَ وَشَرٌّ لَهُمْ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: أَسْأَلُكَ بِالَّذِي لِي عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ لَمَا خَرَجْتَ إِلَيْهِمْ خَيْرًا يَسُوقُهُ اللهُ بِكَ أَوْ شَرًّا يَدْفَعُهُ اللهُ بِكَ، فَسَمِعَ وَأَطَاعَ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُ اجْتَمَعُوا وَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ جَاءَهُمْ بِبَعْضِ مَا يُسَرُّونَ بِهِ، فَقَامَ خطيبا فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا بَعْدُ فَإِنَّ اللهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشِيرًا وَنَذِيرًا، يُبَشِّرُ بِالْجَنَّةِ مَنْ أَطَاعَهُ، وَيُنْذِرُ بِالنَّارِ مَنْ عَصَاهُ، وَأَظْهَرَ مَنِ اتَّبَعَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ، ثُمَّ اخْتَارَ لَهُ الْمَسَاكِنَ فَاخْتَارَ لَهُ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَهَا دَارَ الْهِجْرَةِ، وَجَعَلَهَا دَارَ الْإِيمَانِ، فَوَاللهِ مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ حَافِّينَ بِهَذِهِ الْمَدِينَةِ مُنْذُ قَدِمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا زَالَ سَيْفُ اللهِ مَغْمُودًا عَنْكُمْ مُنْذُ قَدِمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَوْمِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ، فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي بِهُدَى اللهِ، وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ بَعْدَ الْبَيَانِ وَالْحُجَّةِ، وَإِنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ نَبِيٌّ فِيمَا مَضَى إِلَّا قُتِلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مُقَاتِلٍ، كُلُّهُمْ يُقْتَلُ بِهِ، وَلَا قُتِلَ خَلِيفَةٌ قَطُّ إِلَّا قُتِلَ بِهِ خَمْسَةٌ وَثَلَاثُونَ أَلْفَ مُقَاتِلٍ، كُلُّهُمْ يُقْتَلُ بِهِ، فَلَا تَعْجَلُوا عَلَى هَذَا الشَّيْخِ بِقَتْلٍ، فَوَاللهِ لَا يَقْتُلُهُ مِنْكُمْ رَجُلٌ إِلَّا لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَدُهُ مَقْطُوعَةٌ مَشْلُولَةٌ، اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ لِوَالِدٍ عَلَى وَلَدٍ حَقٌّ إِلَّا وَلِهَذَا الشَّيْخِ عَلَيْكُمْ مِثْلُهُ، قَالَ فَقَامُوا، فَقَالُوا: كَذَبَتِ الْيَهُودُ كَذَبْتِ الْيَهُودُ، قَالَ: كَذَبْتُمْ وَاللهِ وَأَنْتُمْ آثِمُونَ، مَا أَنَا بِيَهُودِيٍّ إِنِّي لَأَحَدُ الْمُسْلِمِينَ يَعْلَمُ اللهُ بِذَلِكَ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ، وَقَدْ أُنْزِلَ فِيِّ الْقُرْآنُ، فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {قُلْ كَفَى بِاللهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عَلِمُ الْكِتَابِ} [الرعد: ٤٣] ، وَأَنْزَلَ اللهُ الْآيَةَ الْأُخْرَى {قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ} [الأحقاف: ١٠] ، قَالَ: فَقَامُوا فَدَخَلُوا عَلَى عُثْمَانَ فَذَبَحُوهُ كَمَا يُذْبَحُ الْحُلَّانُ، قَالَ شُعَيْبٌ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ: مَا الْحُلَّانُ؟، قَالَ: الْحَمَلُ، قَالَ: وَقَدْ قَالَ عُثْمَانُ قَبْلَ ذَلِكَ لَكَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ: يَا كَثِيرُ أَنَا وَاللهِ مَقْتُولٌ غَدًا، قَالَ: بَلْ يُعْلِي اللهُ كَعْبَكَ، وَيَكْبِتُ عَدُوَّكَ، قَالَ: ثُمَّ أَعَادَهَا الثَّالِثَةَ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: عَمَّ تَقُولُ ذَاكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَقَالَ لِي: «يَا عُثْمَانُ أَنْتَ عِنْدَنَا غَدًا وَأَنْتَ مَقْتُولٌ غَدًا» ، فَأَنَا وَاللهِ مَقْتُولٌ، قَالَ: فَقُتِلَ، قَالَ: فَخَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ إِلَى الْقَوْمِ قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقُوا، وَهُمْ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ عَلَى رِجْلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ مِصْرَ، يَا قَتَلَةَ عُثْمَانَ قَتَلْتُمْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَا وَاللهِ لَا يَزَالُ عَهْدٌ مَنْكُوثٌ، وَدَمٌ مَسْفُوحٌ، وَمَالٌ مَقْسُومٌ لَا يَنْقَسِمُعبدالملک بن عمیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ محمد بن یوسف بن عبداللہ بن سلام نے حجاج بن یوسف سے ملاقات کی اجازت مانگی، تو دربانوں نے انہیں نہ پہچانا اور اجازت نہ دی۔ پھر عنبسہ بن سعید آئے اور ان کے لیے حجاج سے اجازت لی، تو اس نے اجازت دے دی۔ وہ اندر آئے، سلام کیا، اور حجاج نے تخت کے قریب بیٹھے دو آدمیوں کو حکم دیا کہ ان کے لیے جگہ بنائیں، تو وہ بیٹھ گئے۔ حجاج نے ان سے کہا: شاباش (تمہارے باپ کی کیا بات ہے)! کیا تمہیں وہ حدیث معلوم ہے جو تمہارے والد عبدالملک بن مروان نے تمہارے دادا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے بیان کی تھی؟ انہوں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، کون سی حدیث؟ کیونکہ بہت سی حدیثیں ہیں۔ اس نے کہا: مصریوں کی وہ حدیث جب وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تھے۔ انہوں نے کہا: مجھے وہ حدیث معلوم ہے۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ آئے جبکہ عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ ہو چکا تھا، وہ گئے اور ان کے پاس داخل ہوئے، لوگوں نے ان کے لیے جگہ بنائی یہاں تک کہ وہ اندر پہنچے، تو کہا: السلام علیک اے امیر المومنین! انہوں نے کہا: وعلیک السلام، اے عبداللہ بن سلام! تمہیں کیا لایا؟ انہوں نے کہا: میں اس لیے آیا ہوں کہ (آپ کے ساتھ) ثابت قدم رہوں یہاں تک کہ آپ شہید کر دیے جائیں یا اللہ آپ کو فتح دے، اور میں نہیں سمجھتا کہ یہ لوگ آپ کو قتل کیے بغیر رہیں گے، اگر وہ آپ کو قتل کر دیں تو یہ آپ کے لیے بہتر اور ان کے لیے بدتر ہوگا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں تمہیں اس حق کا واسطہ دیتا ہوں جو مجھ پر تمہارا ہے، تم ان کے پاس ضرور جاؤ، چاہے اللہ تمہارے ذریعے کوئی بھلائی لائے یا کوئی برائی تم سے ٹالے۔ انہوں نے یہ بات سنی اور مانی، اور ان کے پاس نکل گئے۔ جب لوگوں نے انہیں دیکھا تو اکٹھے ہو گئے اور سمجھے کہ وہ کوئی ایسی بات لائے ہیں جس سے انہیں خوشی ہوگی، تو وہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: امابعد! اللہ نے محمد ﷺ کو بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا، وہ ان لوگوں کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں جو ان کی اطاعت کریں، اور ان لوگوں کو جہنم سے ڈراتے ہیں جو ان کی نافرمانی کریں، اور جو ان کی پیروی کرے اسے اللہ نے پورے دین پر غالب کر دیا خواہ مشرکین کو ناپسند ہو۔ پھر اللہ نے آپ ﷺ کے لیے رہائش کا انتخاب کیا تو مدینہ کو چنا اور اسے دارِ ہجرت اور دارِ ایمان بنایا۔ اللہ کی قسم! جب سے رسول اللہ ﷺ اس شہر میں تشریف لائے ہیں، فرشتے ہمیشہ اس شہر کے گرد رہے ہیں، اور اللہ کی تلوار آج تک تم سے نیام میں رہی ہے۔ پھر کہا: بیشک اللہ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا، تو جو ہدایت پائے وہ اللہ کی ہدایت ہی سے ہدایت پاتا ہے، اور جو گمراہ ہو وہ واضح بیان اور دلیل کے بعد ہی گمراہ ہوتا ہے۔ اور جو بھی نبی ماضی میں قتل کیا گیا اس کے بدلے میں ستر ہزار جنگجو قتل کیے گئے، سب کے سب اسی کے بدلے قتل ہوئے، اور جو بھی خلیفہ قتل کیا گیا اس کے بدلے میں پینتیس ہزار جنگجو قتل کیے گئے، سب کے سب اسی کے بدلے قتل ہوئے۔ تو اس بزرگ کو قتل کرنے میں جلدی نہ کرو، اللہ کی قسم! تم میں سے جو شخص بھی اسے قتل کرے گا وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا اور مفلوج ہوگا۔ جان لو کہ کسی باپ کا بیٹے پر جو حق ہے، اس بزرگ کا تم پر بھی اتنا ہی حق ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو لوگ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: یہود نے جھوٹ کہا، یہود نے جھوٹ کہا۔ انہوں نے کہا: تم نے جھوٹ کہا، اللہ کی قسم! اور تم گناہ گار ہو، میں یہودی نہیں ہوں، میں تو مسلمانوں میں سے ایک ہوں، اللہ، اس کے رسول اور مومنین اسے جانتے ہیں، اور میرے بارے میں قرآن نازل ہوا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ”کہہ دیجیے: میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ کافی ہے، اور وہ بھی جس کے پاس کتاب کا علم ہے“ [سورۃ الرعد: 43]، اور اللہ نے یہ دوسری آیت بھی نازل فرمائی: ”کہہ دیجیے: بھلا بتاؤ تو اگر یہ اللہ کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کر دیا ہو، اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اس جیسی چیز پر گواہی دے دی ہو، پھر وہ ایمان لے آیا ہو اور تم نے تکبر کیا ہو“ [سورۃ الاحقاف: 10]۔ راوی کہتے ہیں: تو لوگ کھڑے ہوئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں اس طرح ذبح کر دیا جیسے میمنا ذبح کیا جاتا ہے۔ شعیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عبدالملک بن عمیر سے پوچھا: ”حُلّان“ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میمنا۔ راوی کہتے ہیں: اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے پہلے کثیر بن صلت سے کہا تھا: اے کثیر! اللہ کی قسم! میں کل قتل کر دیا جاؤں گا۔ انہوں نے کہا: بلکہ اللہ آپ کا درجہ بلند کرے اور آپ کے دشمن کو ذلیل کرے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ بات دوبارہ دہرائی، پھر تیسری بار بھی دہرائی، تو انہوں نے اسی طرح کہا۔ انہوں نے پوچھا: اے امیر المومنین! آپ یہ کیوں کہہ رہے ہیں؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، ان کے ساتھ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے عثمان! کل تم ہمارے پاس ہو گے اور کل تم قتل کر دیے جاؤ گے۔“ تو اللہ کی قسم! میں ضرور قتل کیا جاؤں گا۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ شہید کر دیے گئے۔ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ لوگوں کے پاس گئے اس سے پہلے کہ وہ متفرق ہوں، جبکہ وہ مسجد میں تھے، تو وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوئے اور کہا: اے اہلِ مصر! اے عثمان کے قاتلو! تم نے امیر المومنین کو قتل کر دیا، سن لو، اللہ کی قسم! اب ہمیشہ توڑا ہوا عہد، بہایا ہوا خون، اور تقسیم ہونے والا مال جو تقسیم نہیں ہوگا رہے گا۔