❮
❯
حدیث نمبر: 13969
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ، قَالَ لِأَحْبَارِ الْيَهُودِ: إِنِّي أَحْدَثُ بِمَسْجِدِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْمَاعِيلَ عَهْدًا، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ بِمَكَّةَ، فَوَافَاهُمْ وَقَدِ انْصَرَفُوا مِنَ الْحَجِّ، فَوَجَدَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى وَالنَّاسُ حَوْلَهُ، فَقُمْتُ مَعَ النَّاسِ فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَنْتَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ؟» ، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «ادْنُ» ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ، قَالَ: «أَنْشُدُكَ بِاللهِ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ، أَمَا تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ رَسُولُ اللهِ؟» ، فَقُلْتُ لَهُ: انْعَتْ رَبَّنَا، قَالَ فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: " {قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ} [الإخلاص: ٢] "، فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ سَلَامٍ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَكَتَمَ إِسْلَامَهُ، فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا فَوْقَ فِي نَخْلَةٍ لِي أَجُدُّهَا، فَسَمِعْتُ رَجَّةً فِي الْمَدِينَةِ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟، قَالُوا: رَسُولُ اللهِ قَدْ قَدِمَ، قَالَ: فَأَلْقَيْتُ نَفْسِي مِنْ أَعْلَى النَّخْلَةِ ثُمَّ جِئْتُ أَحْضُرُ حَتَّى أَتَيْتُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ رَجَعْتُ، فَقَالَتْ أُمِّي: لِلَّهِ أَنْتَ، وَاللهِ لَوْ كَانَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَا كَانَ بِذَلِكَ تُلْقِي نَفْسَكَ مِنْ أَعْلَى النَّخْلَةِ، فَقُلْتُ: وَاللهِ لَأَنَا أَسَرُّ بِقُدُومِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ إِذْ بُعِثَ
ترجمہ

حمزہ بن یوسف بن عبداللہ بن سلام رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے یہودی علماء سے کہا: میں ہمارے باپ ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی مسجد سے (اس کی زیارت کر کے) اپنا تعلق تازہ کرنا چاہتا ہوں، چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف روانہ ہوئے، جو اس وقت مکہ میں تھے، تو وہ ان کے پاس اس وقت پہنچے جب لوگ حج سے واپس آ چکے تھے، چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو منیٰ میں پایا، لوگ آپ کے ارد گرد تھے۔ میں بھی لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے میری طرف دیکھا تو فرمایا: ”کیا تم عبداللہ بن سلام ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: ”قریب آؤ۔“ چنانچہ میں آپ کے قریب گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن سلام! میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم مجھے تورات میں اللہ کا رسول نہیں پاتے؟“ میں نے عرض کیا: ہمارے رب کی صفت بیان کیجیے۔ سیدنا عبداللہ بن سلام کہتے ہیں کہ اس پر جبریل علیہ السلام آئے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر آپ سے کہا: ”فرما دیجیے: وہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔“ [سورۃ الاخلاص: 1-4]۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے یہ ہمیں پڑھ کر سنائی۔ ابن سلام نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر وہ مدینہ واپس چلے گئے اور اپنا اسلام چھپا لیا۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو میں اس وقت اپنی ایک کھجور کے درخت پر اس کے پھل توڑ رہا تھا، میں نے مدینہ میں ایک ہلچل سنی تو کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے ہیں۔ ابن سلام کہتے ہیں: میں نے فوراً اپنے آپ کو کھجور کے درخت کی چوٹی سے نیچے گرا دیا، پھر دوڑتا ہوا آیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس آ کر سلام عرض کیا، پھر واپس آیا تو میری ماں نے کہا: تم بھی عجیب ہو! اللہ کی قسم اگر موسیٰ بن عمران علیہ السلام بھی تشریف لاتے تو تم اس طرح کھجور کے درخت کی چوٹی سے اپنے آپ کو نہ گراتے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم، مجھے رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کی خوشی موسیٰ بن عمران علیہ السلام کی مبعوث ہونے کی خوشی سے بھی زیادہ ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13969
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 152، حدیث 372