❮
❯
حدیث نمبر: 13967
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّمْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، إِذْ أَقْبَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَمَعَهُ رَاحِلَةٌ عَلَيْهَا غِرَارَتَانِ، وَهُوَ مُحْتَجِزٌ بِعِقَالِ نَاقَتِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّ شَيءٍ فِي الْغَرَارَتَيْنِ؟» ، قَالَ: دَقِيقٌ وَسَمْنٌ وَعَسَلٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنِخْ» ، فَأَنَاخَ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْمَةٍ، فَجَعَلَ فِيهَا مِنْ ذَلِكَ الدَّقِيقِ وَالسَّمْنِ وَالْعَسَلِ ثُمَّ أَكَلَ، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «كُلُوا، هَذَا الَّذِي تُسَمِّيهِ فَارِسُ الْخَبِيصَ»
ترجمہ

سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ آپ کے کچھ صحابہ میں موجود تھا کہ اسی دوران سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ایک سواری ساتھ لیے تشریف لائے جس پر دو بوریاں لدی تھیں، انہوں نے اپنی اونٹنی کی رسی اپنی کمر سے باندھ رکھی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”ان دونوں بوریوں میں کیا ہے؟“ عرض کیا: آٹا، گھی اور شہد ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اونٹنی بٹھاؤ۔“ چنانچہ انہوں نے اونٹنی بٹھا دی، پھر رسول اللہ ﷺ نے ایک ہانڈی منگوائی اور اس میں اس آٹے، گھی اور شہد میں سے ڈالا، پھر آپ ﷺ نے کھایا، پھر اپنے صحابہ سے فرمایا: ”کھاؤ، یہی وہ چیز ہے جسے اہلِ فارس ’خبیص‘ کہتے ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13967
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 150، حدیث 370