المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن معقل المزني، عن عبد الله بن سلام باب: عبداللہ بن معقل مزنی کی سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ هَاجَ النَّاسُ فِي أَمْرِ عُثْمَانَ: «أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَقْتُلُوا هَذَا الشَّيْخَ وَاسْتَعْتِبُوهُ، فَإِنَّهُ لَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ نَبِيَّهَا فَيَصْلُحُ أَمْرُهُمْ حَتَّى يُرَاقَ دِمَاءُ سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْهُمْ، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ خَلِيفَتَهَا فَيَصْلُحُ أَمْرُهُمْ حَتَّى يُرَاقَ دِمَاءُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا مِنْهُمْ» ، فَلَمْ يَنْظُرُوا فِيمَا قَالَ وَقَتَلُوهُ، فَجَلَسَ لِعَلِيٍّ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟، فَقَالَ: أُرِيدُ أَرْضَ الْعِرَاقِ، قَالَ: لَا تَأْتِ الْعِرَاقَ وَعَلَيْكَ بِمِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَثَبَ إِلَيْهِ النَّاسُ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ وَهَمُّوا بِهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: دَعُوهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ، فَلَمَّا قُتِلَ عَلِيٌّ قَالَ ابْنُ سَلَامٍ لِابْنِ مَعْقِلٍ: «هَذِهِ رَأْسُ الْأَرْبَعِينَ وَسَيَكُونُ عَلَى رَأْسِهَا صُلْحٌ، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمُّةٌ نَبِيَّهَا إِلَّا قُتِلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ خَلِيفَتَهَا إِلَّا قُتِلَ بِهِ أَرْبَعُونَ أَلْفًا»سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے میں مشتعل ہوئے تو انہوں نے فرمایا: ”لوگو! اس بزرگ کو قتل مت کرو بلکہ انہیں راضی کرنے کی کوشش کرو، کیونکہ جب بھی کسی امت نے اپنے نبی کو قتل کیا اور (پھر) ان کا معاملہ درست ہوا تو ستر ہزار افراد کا خون بہائے بغیر درست نہیں ہوا، اور جب بھی کسی امت نے اپنے خلیفہ کو قتل کیا اور ان کا معاملہ درست ہوا تو چالیس ہزار افراد کا خون بہائے بغیر درست نہیں ہوا۔“ لیکن لوگوں نے ان کی بات پر غور نہ کیا اور انہیں (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو) قتل کر ڈالا۔ پھر وہ (عبداللہ بن سلام) راستے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ گئے، سیدنا علی نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ عرض کیا: عراق جانے کا ارادہ ہے۔ فرمایا: عراق مت جاؤ، رسول اللہ ﷺ کے منبر ہی پر (مدینہ میں) رہو۔ (یہ سن کر) سیدنا علی کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگ ان پر جھپٹ پڑے اور انہیں نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو، یہ ہم اہل بیت میں سے ایک آدمی ہیں۔ پھر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو ابن سلام نے ابن معقل سے فرمایا: ”یہ چالیس ہزار (کے سلسلے) کی ابتدا ہے اور اس کے اختتام پر صلح ہوگی، اور جب بھی کسی امت نے اپنے نبی کو قتل کیا تو اس کے بدلے ستر ہزار افراد قتل کیے گئے، اور جب بھی کسی امت نے اپنے خلیفہ کو قتل کیا تو اس کے بدلے چالیس ہزار افراد قتل کیے گئے۔“