حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَدْعَانِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! میری امت کے لیے اس کی صبح کی ابتدا میں برکت عطا فرما۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَكُونُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ؟ فَنَقُولُ: أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ نَقُولُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ مَنْ يَكُونُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ؟ فَنَقُولُ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ثُمَّ نَقُولُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قُبِضَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَنْ يَكُونُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ؟ فَنَقُولُ: عُثْمَانُ "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کہا کرتے تھے: اس معاملے (خلافت) کا سب سے زیادہ حق دار کون ہوگا؟ تو ہم کہتے: ابوبکر۔ پھر ہم کہتے: بتاؤ اگر ابوبکر کا انتقال ہو جائے تو اس معاملے کا سب سے زیادہ حق دار کون ہوگا؟ تو ہم کہتے: عمر بن خطاب۔ پھر ہم کہتے: بتاؤ اگر عمر بن خطاب کا انتقال ہو جائے تو اس معاملے کا سب سے زیادہ حق دار کون ہوگا؟ تو ہم کہتے: عثمان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ مِهْرَانَ النَّاقِدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: «مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر فرمایا: ”جو جمعہ کے لیے آئے وہ غسل کر لے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ مِهْرَانَ النَّاقِدُ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «مَنْ حَجَّ فَلْيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ إِلَّا الْحُيَّضَ رَخَّصَ لَهُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”جو حج کرے اس کی آخری ملاقات بیت اللہ سے ہونی چاہیے، سوائے حائضہ عورتوں کے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے رخصت دی۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الْخَوْفِ يَقُومُ الْإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ مَعَهُ فَيَسْجُدُونَ سَجْدَةً وَاحِدَةً، وَتَكُونُ طَائِفَةٌ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ الَّذِينَ سَجَدُوا مَعَ أَمِيرِهِمْ فَيَكُونُ مَكَانُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا، وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُصَلُّونَ مَعَ أَمِيرِهِمْ سَجْدَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ يَنْصَرِفُ أَمِيرُهُمْ، وَقَدْ قَضَى صَلَاتَهُ، وَيُصَلِّي كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ لِصَلَاتِهِ سَجْدَةً لِنَفْسِهِ، فَإِنْ كَانَ خَوْفًا أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ فَرِجَالًا وَرُكْبَانًا - يَعْنِي بِالسَّجْدَةِ رَكْعَةً -»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز خوف یہ ہے کہ امام اور لوگوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ کھڑی ہو، وہ ایک سجدہ کریں، اور دوسری جماعت ان کے اور دشمن کے درمیان ہو، پھر جنہوں نے سجدہ کیا وہ اپنے امیر کے ساتھ (نماز مکمل کیے بغیر) پلٹ جائیں اور ان لوگوں کی جگہ لے لیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی، اور جنہوں نے نماز نہیں پڑھی وہ آگے بڑھ کر اپنے امیر کے ساتھ ایک سجدہ کریں، پھر ان کا امیر پلٹ جائے اور اس کی نماز مکمل ہو چکی ہو، اور دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک اپنی نماز کے لیے اپنی طرف سے ایک اور سجدہ کر لے۔ اور اگر خوف اس سے بھی زیادہ شدید ہو تو پیدل یا سوار ہو کر (نماز پڑھیں) - سجدے سے مراد رکعت ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ الْيَامِيُّ، ثنا حَفْصٌ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ: بِـ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ مغرب میں ”قل یا ایھا الکافرون“ اور ”قل ھو اللہ احد“ پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَرَّتَيْنِ بَيْنَهُمَا جَلْسَةٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن دو خطبے دیتے تھے، ان کے درمیان ایک بیٹھک ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حُرٍّ وَعَبْدٍ، وَصَغِيرٍ وَكَبِيرٍ، صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہر مسلمان پر، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا، صدقہ فطر کا حکم دیا: ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا مُقَدَّمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَطَاءٍ، ثنا عَمِّي الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ يَقْبِضُ السَّمَاوَاتِ بِيَمِينِهِ، وَالْأَرَضِينَ بِيَدِهِ. أَحْسَبُهُ قَالَ الْأُخْرَى , ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ سے اور زمینوں کو اپنے (دوسرے) ہاتھ سے - میرا خیال ہے راوی نے ’دوسرے‘ کہا - پکڑ لے گا، پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، ثنا سَلْمُ بْنُ سَالِمٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے، اور پچھنے لگانے والے کو اس کی اجرت دی، اگر یہ حرام ہوتا تو آپ ﷺ اسے اجرت نہ دیتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا، وَلَبِسَهُ فِي يَمِينِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک انگوٹھی بنوائی اور اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پہنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصُّدَائِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللهُمَّ اسْقِنَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمیں سیراب فرما۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: «لَمْ يَكُنْ يَرَى بَأْسًا بِالْقَزِّ وَالْحَرِيرِ لِلنِّسَاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ عورتوں کے لیے قز اور ریشم میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى بَعِيرٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک اونٹ کی طرف (سترہ بنا کر) نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بَهْرَامَ الْكُوفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدِلُ عِمَامَتَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی پگڑی کا شملہ اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو تَقِيٍّ الْحِمْصِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ الْكُوفِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَأَرَادَ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَوْمُهُ ذَلِكَ رَمَضَانَ، أَوْ قَضَاءَ رَمَضَانَ، أَوْ نَذْرًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کے ہاں جائے اور وہ چاہے کہ روزہ توڑ دے تو توڑ دے، سوائے اس کے کہ اس کا روزہ رمضان کا ہو، یا رمضان کی قضا ہو، یا نذر کا روزہ ہو۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ وَامْرَأَةٍ قَدْ زَنَيَا، فَقَالَ لَهُمْ: «كَيْفَ تَفْعَلُونَ بِمَنْ زَنَى مِنْكُمْ؟» فَقَالُوا: نَضْرِبُهُمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ؟» قَالُوا: مَا نَجِدُ فِيهَا شَيْئًا , فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ كَذَبْتُمْ؛ فِي التَّوْرَاةِ الرَّجْمُ، فَائْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاقْرَؤُوا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ، فَأُتِيَ بِالتَّوْرَاةِ فَوَضَعَ مِدْرَاسُهَا الَّذِي دَرَسَهَا مِنْهُمْ كَفَّهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، فَطَفِقَ يَقْرَأَ مَا دُونَ يَدِهِ وَمَا وَرَاءَهَا وَلَا يَقْرَأُ آيَةَ الرَّجْمِ، فَنَتَرَ عَبْدُ اللهِ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ قَالُوا: هِيَ الرَّجْمُ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُجِمَا حَيْثُ يُوجَدُ الْجِنَائِزُ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَرَأَيْتُ صَاحِبَهَا يَحْنُو عَلَيْهَا لِيَقِيَهَا الْحِجَارَةَ
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہود نبی کریم ﷺ کے پاس اپنے میں سے ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے جنہوں نے زنا کیا تھا۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے میں سے زنا کرنے والے کے ساتھ کیا کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ہم انہیں کوڑے مارتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تو تورات میں تمہیں کیا ملتا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہمیں اس میں کچھ نہیں ملتا۔ اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم نے جھوٹ کہا، تورات میں تو رجم ہے، تورات لاؤ اور پڑھو اگر تم سچے ہو۔ چنانچہ تورات لائی گئی تو ان میں سے جو اسے پڑھانے والا تھا اس نے اپنا ہاتھ آیت رجم پر رکھ دیا، اور اپنے ہاتھ سے پہلے اور بعد کی آیتیں پڑھنے لگا، مگر آیت رجم نہ پڑھتا تھا۔ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ آیت رجم سے کھینچ لیا اور کہا: یہ کیا ہے؟ جب انہوں نے یہ دیکھا تو کہا: یہ رجم ہی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے بارے میں حکم دیا تو انہیں وہاں رجم کیا گیا جہاں جنازے رکھے جاتے تھے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دیکھا کہ اس مرد نے اس عورت کو پتھروں سے بچانے کے لیے اس پر جھک کر سایہ کر دیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «قَدْ نُهِيَ أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا، وَالتَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: ”بسر اور رطب کو ایک ساتھ نبیذ بنانے سے منع کیا گیا ہے، اور کھجور اور کشمش کو بھی ایک ساتھ نبیذ بنانے سے منع کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو ثَابِتٍ الْمَدَنِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةٍ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَعِنْدَ غُرُوبِهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سورج طلوع ہوتے وقت اور غروب ہوتے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلُّويَةَ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَيَابَةَ الْكُوفِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " خَفَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَنْدَقَ إِلَّا عَلَى سِتَّةِ نَفَرٍ أَرْبَعَةٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ: طَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَعَلِيٌّ، وَسَعْدٌ وَمِنَ الْأَنْصَارِ، أَبُو دُجَانَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خندق (کھودنے) کی بات چھ آدمیوں کے سوا کسی پر ظاہر نہ کی: چار مہاجرین میں سے: طلحہ، زبیر، علی اور سعد، اور انصار میں سے ابودجانہ اور حارث بن الصمہ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ السِّمْسَارُ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنا سر منڈوایا۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنِ بْنِ السَّمَيْدَعِ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ مُعَاوِيَةََ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُبَّ صَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ الْجُوعُ، وَالْعَطَشُ، وَرُبَّ قَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ السَّهَرُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کتنے ہی روزے دار ایسے ہیں جن کا اپنے روزے سے حصہ صرف بھوک اور پیاس ہے، اور کتنے ہی قیام کرنے والے ایسے ہیں جن کا اپنے قیام سے حصہ صرف بے خوابی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ضائع کر دے جن کا نان و نفقہ اس کے ذمے ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ، وَيَسْجُدُ عَلَيْهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ خمرہ (چھوٹی نماز کی چٹائی) پر نماز پڑھتے اور اس پر سجدہ کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ غَزَاهَا عَلَى امْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ فَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ، وَالصِّبْيَانِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک غزوے میں ایک قتل کی گئی عورت کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُتُلِّيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَدْنُوَ الرَّجُلُ مِنَ الرَّجُلَيْنِ وَهُمَا يَتَنَاجَيَانِ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَهُمَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی آدمی دو آدمیوں کے قریب جائے جو سرگوشی کر رہے ہوں، الا یہ کہ وہ ان سے اجازت لے لے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْهَاشِمِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالْعَمَائِمِ فَإِنَّهَا سِيمَاءُ الْمَلَائِكَةِ، وَأَرْخُوا لَهَا خَلْفَ ظُهُورِكُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پگڑیاں پہنا کرو، یہ فرشتوں کی نشانی ہیں، اور انہیں اپنی پیٹھوں کے پیچھے لٹکا لیا کرو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ مِهْرَانَ النَّاقِدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو جمعہ کے لیے آئے وہ غسل کر لے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا قُرَّةُ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ: «إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةَ فَبَاتَ، فَإِذَا أَصْبَحَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَإِذَا اسْتَوَتْ بِهِ أَهَلَّ، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَفْعَلُهُ»
ترجمہ
نافع بیان کرتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما جب احرام باندھنے کا ارادہ کرتے تو ذوالحلیفہ آتے اور وہاں رات گزارتے، پھر جب صبح ہوتی تو اپنی سواری پر سوار ہوتے، اور جب وہ انہیں لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی تو تلبیہ پکارتے، اور بیان کرتے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: «نُهِيَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ»
ترجمہ
نافع کی سند سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا، اللهُمَّ بَارِكْ فِي يَمَنِنَا» فَقَالَهَا مِرَارًا فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَفِي عِرَاقِنَا قَالَ: «إِنَّ بِهَا الزَّلَازِلَ، وَالْفِتَنَ، وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما“، آپ ﷺ نے یہ بات کئی بار فرمائی، تو تیسری یا چوتھی بار لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور ہمارے عراق میں بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے، اور وہیں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُهْزَاذَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، أنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، سوائے شکاری کتے یا مویشیوں کی حفاظت کرنے والے کتے کے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ إِذَا اعْتَكَفَ طُرِحَ لَهُ فِرَاشُهُ وَسَرِيرُهُ إِلَى أُسْطُوَانِ التَّوْبَةِ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ ثُمَّ يَسْتَنِدُ إِلَيْهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب اعتکاف بیٹھتے تو آپ ﷺ کا بستر اور چارپائی ستونِ توبہ کے پاس، قبلہ کی جانب، بچھا دی جاتی، پھر آپ ﷺ اس کا سہارا لیتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُسْلِمٍ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ لِلَّهِ ضَنَائِنَ مِنْ خَلْقِهِ يُحْيِيهِمْ فِي عَافِيَةٍ، وَإِذَا تَوَفَّاهُمْ إِلَى جَنَّتِهِ أُولَئِكَ الَّذِينَ يَمُرُّ عَلَيْهِمُ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، وَهُمْ فِيهَا مِنْهُ فِي عَافِيَةٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کچھ چنیدہ بندے ہیں جنہیں وہ عافیت کے ساتھ زندہ رکھتا ہے، اور جب انہیں وفات دے کر اپنی جنت کی طرف لے جاتا ہے تو یہی وہ لوگ ہیں جن پر فتنے تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح گزرتے ہیں اور وہ اس میں اللہ کی طرف سے عافیت میں رہتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْقُرَظِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحَرْبِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ زِيَادِ بْنِ سَمْعَانَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، وَبُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ وَعَبْدُ اللهِ فِيهَا فَغَنِمْنَا إِبِلًا كَثِيرَةً فَكَانَتْ سُهْمَانُنَا قَدْ بَلَغَتِ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنَفَلَنَا رَسُولُ اللهِ بَعِيرًا بَعِيرًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا اور عبداللہ (خود) بھی اس میں شامل تھے، ہمیں بہت سے اونٹ بطور غنیمت ملے، ہمارے حصے بارہ بارہ اونٹ تک پہنچے، اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مزید ایک ایک اونٹ نفل کے طور پر عطا کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ مِهْرَانَ النَّاقِدُ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ ﷺ کی سواری آپ ﷺ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی تو آپ ﷺ تلبیہ پکارتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُهْزَاذَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى زَانِيَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا وَوَلَدُهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک زانیہ عورت کی نماز جنازہ پڑھی جو نفاس کی حالت میں اپنے بچے سمیت فوت ہو گئی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قُهْزَادُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لَا تَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَيُخَالِطَهَا، وَتَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”تین طلاقیں دی گئی عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوتی جب تک وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لے، وہ اس سے ازدواجی تعلق قائم کرے، اور وہ اس کی لذت چکھ لے۔“