کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: محمد بن زید کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ: «أَلَا إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟» ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «اللهُمَّ اشْهَدْ» ، قَالَ: ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: «انْظُرُوا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں انہیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”سن لو! اللہ نے تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام کیے ہیں جیسے تمہارے اس دن کی، تمہارے اس شہر میں، تمہارے اس مہینے میں حرمت ہے۔ سن لو! کیا میں نے پہنچا دیا؟“ صحابہ نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! گواہ رہ۔“ یہ آپ ﷺ نے تین بار فرمایا، پھر فرمایا: ”دیکھو، میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگے۔“
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ، وَأَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ، أُتِيَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحَ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ لَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ لَا مَوْتَ فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ»
ترجمہ
اسی سند سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو لایا جائے گا یہاں تک کہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان رکھا جائے گا، پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا، پھر ایک پکارنے والا پکارے گا: اے جنت والو! اب موت نہیں، اور اے جہنم والو! اب موت نہیں۔ تو جنتیوں کی خوشی میں مزید خوشی بڑھ جائے گی، اور جہنمیوں کے غم میں مزید غم بڑھ جائے گا۔“
وَعَنِ ابْنُ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَلَا نَدْرِي مَا حَجَّةُ الْوَدَاعِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ذَكَرَ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَأَطْنَبَ فِي ذِكْرِهِ، ثُمَّ قَالَ: «مَا بَعَثَ اللهُ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ وَالنَّبِيُّونَ مِنْ بَعْدِهِ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ فِيكُمْ فَمَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ فَلَا يَخْفَى عَلَيْكُمْ أَنَّهُ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم حجۃ الوداع کا تذکرہ کیا کرتے تھے جبکہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے، اور ہمیں معلوم نہ تھا کہ حجۃ الوداع کیا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر مسیح دجال کا ذکر فرمایا اور اس کے بارے میں تفصیل سے بیان فرمایا، پھر فرمایا: ”اللہ نے جو بھی نبی بھیجا اس نے اپنی امت کو دجال سے ضرور خبردار کیا، نوح علیہ السلام اور ان کے بعد کے انبیاء نے بھی اس سے خبردار کیا، اور وہ تم میں ضرور ظاہر ہوگا، تو جو کچھ اس کا حال تم پر مخفی رہے وہ تم پر مخفی نہیں رہنا چاہیے کہ وہ دائیں آنکھ سے کانا ہوگا گویا اس کی آنکھ ابھری ہوئی انگور کے دانے کی طرح ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا سَرَى أَحَدٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ تنہائی میں کیا (خطرہ) ہے تو کوئی بھی رات کو اکیلا سفر نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل مجھے پڑوسی کے بارے میں اتنی بار وصیت کرتے رہے کہ میں نے سمجھا وہ اسے وارث بنا دیں گے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ: سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنْ يَكُنِ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ فَفِي الْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ، وَالدَّارِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر نحوست کسی چیز میں ہے تو عورت، گھوڑے اور گھر میں ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ أَوْ قَالَ: بَرِّدُوهَا بِالْمَاءِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بخار جہنم کی گرمی کی بھاپ میں سے ہے، سو اسے پانی سے بجھاؤ“ - یا فرمایا: ”پانی سے ٹھنڈا کرو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں اتنی بار وصیت کرتے رہے کہ میں نے سمجھا وہ اسے وارث بنا دیں گے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُوتِيتُ مَفَاتِيحَ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا الْخَمْسَ» ، {إِنَّ اللهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ، وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ} [لقمان: ٣٤] ، وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے ہر چیز کی کنجیاں دی گئیں سوائے پانچ کے،“ یعنی: ”بےشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، اور وہی بارش برساتا ہے، اور وہی جانتا ہے جو رحموں میں ہے، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا، بےشک اللہ خوب جاننے والا خبر رکھنے والا ہے“ [سورۃ لقمان: 34]۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَيْثَمَةَ، ثنا وَهْبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ الْعَلَّافُ، ثنا مَيْمُونُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعْدِي عَلَى وَالِدِهِ قَالَ: إِنَّهُ أَخَذَ مِنْ مَالِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ، وَمَالَكَ مِنْ كَسْبِ أَبِيكَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس اپنے والد کی شکایت لے کر آیا اور کہا: اس نے میرے مال میں سے کچھ لے لیا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کی کمائی میں سے ہو؟“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَيْثَمَةَ، ثنا وَهْبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ الْعَلَّافُ، ثنا مَيْمُونُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجَاءُ بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صُورَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَشْرَئِبُّونَ، وَيَنْظُرُونَ، وَيُقَالُ: يَا أَهْلَ النَّارِ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَشْرَئِبُّونَ، وَيَنْظُرُونَ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ ولَا مَوْتَ "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن موت کو ایک سفید و سیاہ مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا، پھر اسے جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا کر دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنت والو! کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ تو وہ گردن اٹھا کر دیکھیں گے، اور کہا جائے گا: اے جہنم والو! کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ تو وہ بھی گردن اٹھا کر دیکھیں گے، پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنت والو! ہمیشگی ہے، اب موت نہیں، اور اے جہنم والو! ہمیشگی ہے، اب موت نہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَيْثَمَةَ، ثنا وَهْبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ، ثنا مَيْمُونُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَحَبَّ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَكَّةُ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مَا خَرَجْتُ، اللهُمَّ اجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا مِنْ حُبِّ الْمَدِينَةِ مِثْلَ مَا جَعَلْتَ فِي قُلُوبِنَا مِنْ حُبِّ مَكَّةَ» ، وَمَا أَشْرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَطُّ إِلَّا عُرِفَ فِي وَجْهِهِ الْبِشْرُ وَالْفَرَحُ
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہے کہ اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے محبوب شہر مکہ ہے، اور اگر میری قوم نے مجھے یہاں سے نہ نکالا ہوتا تو میں کبھی نہ نکلتا۔ اے اللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت اسی طرح ڈال دے جس طرح تو نے ہمارے دلوں میں مکہ کی محبت ڈالی تھی۔“ اور رسول اللہ ﷺ جب بھی مدینہ پر نگاہ ڈالتے تو آپ ﷺ کے چہرے پر خوشی اور مسرت نمایاں ہو جاتی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَيْثَمَةَ، ثنا وَهْبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ، ثنا مَيْمُونُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْنَا بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَمَا نَرَى أَنَّهُ الْوَدَاعَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْمَسِيحَ فَأَطْنَبَ فِي ذِكْرِهِ، ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرَ , ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا قَطُّ إِلَّا، وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْمَسِيحَ قَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ أُمَّتَهُ، ثُمَّ الْأَنْبِيَاءُ بَعْدَهُ نَبِيًّا نَبِيًّا، ثُمَّ قَالَ: أَلَا فَمَنْ خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ وَهَابَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَهَا، ثُمَّ قَالَ: إِلَّا مَنْ خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ فَلَا يَخْفَى عَلَيْكُمْ أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَهُوَ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ " فَصَرَخُوا مِنَ النَّوَاحِي: نَعَمْ، فَقَالَ: " اللهُمَّ اشْهَدْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم نے حجۃ الوداع کے بارے میں سنا جبکہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان زندہ موجود تھے، اور ہمیں یہ گمان نہ تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے الوداعی سفر ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا، مسیح (دجال) کا ذکر کیا اور اس کے بارے میں تفصیل سے بیان فرمایا، پھر اس کے بارے میں جو چاہا ذکر فرمایا، پھر فرمایا: ”بےشک اللہ عزوجل نے کبھی کوئی نبی نہیں بھیجا مگر اس نے اپنی امت کو مسیح (دجال) سے ڈرایا، نوح علیہ السلام نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا، پھر ان کے بعد کے انبیاء نے ایک ایک کر کے۔“ پھر فرمایا: ”سن لو، جو کچھ اس کے بارے میں تم پر مخفی رہ جائے“ - رسول اللہ ﷺ نے اسے کہنے میں کچھ تامل محسوس کیا، پھر فرمایا: ”جو کچھ اس کے بارے میں تم پر مخفی رہ جائے وہ تم پر مخفی نہ رہے کہ تمہارا رب کانا نہیں، جبکہ وہ (دجال) دائیں آنکھ سے کانا ہو گا، گویا اس کی آنکھ ابھرا ہوا انگور کا دانہ ہو۔ سن لو! کیا میں نے پہنچا دیا؟“ تو ہر طرف سے آواز آئی: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے تین بار فرمایا: ”اے اللہ! گواہ رہ۔“ پھر فرمایا: ”میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَذَكَرَ الْحَرُورِيَّةَ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حروریہ (خوارج) کا ذکر کیا اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔“