المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
نافع، عن ابن عمر باب: نافع کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ وَامْرَأَةٍ قَدْ زَنَيَا، فَقَالَ لَهُمْ: «كَيْفَ تَفْعَلُونَ بِمَنْ زَنَى مِنْكُمْ؟» فَقَالُوا: نَضْرِبُهُمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ؟» قَالُوا: مَا نَجِدُ فِيهَا شَيْئًا , فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ كَذَبْتُمْ؛ فِي التَّوْرَاةِ الرَّجْمُ، فَائْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاقْرَؤُوا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ، فَأُتِيَ بِالتَّوْرَاةِ فَوَضَعَ مِدْرَاسُهَا الَّذِي دَرَسَهَا مِنْهُمْ كَفَّهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، فَطَفِقَ يَقْرَأَ مَا دُونَ يَدِهِ وَمَا وَرَاءَهَا وَلَا يَقْرَأُ آيَةَ الرَّجْمِ، فَنَتَرَ عَبْدُ اللهِ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ قَالُوا: هِيَ الرَّجْمُ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُجِمَا حَيْثُ يُوجَدُ الْجِنَائِزُ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَرَأَيْتُ صَاحِبَهَا يَحْنُو عَلَيْهَا لِيَقِيَهَا الْحِجَارَةَسیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہود نبی کریم ﷺ کے پاس اپنے میں سے ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے جنہوں نے زنا کیا تھا۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے میں سے زنا کرنے والے کے ساتھ کیا کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ہم انہیں کوڑے مارتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تو تورات میں تمہیں کیا ملتا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہمیں اس میں کچھ نہیں ملتا۔ اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم نے جھوٹ کہا، تورات میں تو رجم ہے، تورات لاؤ اور پڑھو اگر تم سچے ہو۔ چنانچہ تورات لائی گئی تو ان میں سے جو اسے پڑھانے والا تھا اس نے اپنا ہاتھ آیت رجم پر رکھ دیا، اور اپنے ہاتھ سے پہلے اور بعد کی آیتیں پڑھنے لگا، مگر آیت رجم نہ پڑھتا تھا۔ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ آیت رجم سے کھینچ لیا اور کہا: یہ کیا ہے؟ جب انہوں نے یہ دیکھا تو کہا: یہ رجم ہی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے بارے میں حکم دیا تو انہیں وہاں رجم کیا گیا جہاں جنازے رکھے جاتے تھے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دیکھا کہ اس مرد نے اس عورت کو پتھروں سے بچانے کے لیے اس پر جھک کر سایہ کر دیا۔