المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
نافع، عن ابن عمر باب: نافع کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13334
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَكُونُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ؟ فَنَقُولُ: أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ نَقُولُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ مَنْ يَكُونُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ؟ فَنَقُولُ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ثُمَّ نَقُولُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قُبِضَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَنْ يَكُونُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ؟ فَنَقُولُ: عُثْمَانُ "ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کہا کرتے تھے: اس معاملے (خلافت) کا سب سے زیادہ حق دار کون ہوگا؟ تو ہم کہتے: ابوبکر۔ پھر ہم کہتے: بتاؤ اگر ابوبکر کا انتقال ہو جائے تو اس معاملے کا سب سے زیادہ حق دار کون ہوگا؟ تو ہم کہتے: عمر بن خطاب۔ پھر ہم کہتے: بتاؤ اگر عمر بن خطاب کا انتقال ہو جائے تو اس معاملے کا سب سے زیادہ حق دار کون ہوگا؟ تو ہم کہتے: عثمان۔