حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اس کی مزدوری دی، اور اگر یہ حرام ہوتا تو آپ ﷺ اسے مزدوری نہ دیتے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَآجَرَهُ، وَلَوْ كَانَ خَبِيثًا لَمْ يَأْجُرْهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور اسے مزدوری دی، اور اگر یہ ناپاک (کمائی) ہوتی تو آپ ﷺ اسے مزدوری نہ دیتے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيُّ، ثنا ابْنُ عَوْفٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجَمَ، وَآجَرَهُ، وَلَوْ عَلِمَهُ خَبِيثًا لَمْ يُعْطِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور اسے مزدوری دی، اور اگر آپ ﷺ کو معلوم ہوتا کہ یہ ناپاک (کمائی) ہے تو آپ ﷺ اسے مزدوری نہ دیتے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ سُحْتًا لَمْ يُعْطِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اس کی مزدوری دی، اور اگر یہ حرام کمائی ہوتی تو رسول اللہ ﷺ اسے یہ مزدوری کبھی نہ دیتے۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجَمَ، وَآجَرَهُ، وَلَوْ كَانَ خَبِيثًا لَمْ يُعْطِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور اسے مزدوری دی، اور اگر یہ ناپاک (کمائی) ہوتی تو آپ ﷺ اسے مزدوری نہ دیتے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لَا يَظْلِمُ أَجِيرًا أَجْرَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے، اور آپ ﷺ کبھی کسی مزدور کی مزدوری میں ظلم نہیں کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَآجَرَهُ، وَلَوْ عَلِمَ أَنَّ بِهِ بَأْسًا لَمْ يُعْطِهِ»
ترجمہ
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: مجھے یہ خبر پہنچی کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور اسے مزدوری دی، اور اگر آپ ﷺ کو معلوم ہوتا کہ اس میں کوئی نقصان (حرمت) ہے تو آپ ﷺ اسے مزدوری نہ دیتے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَآجَرَ الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ»
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَآجَرَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ»
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ تَمَامٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ خَبِيثًا لَمْ يُعْطِهِ»
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَآجَرَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ»
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ تَمَامٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ خَبِيثًا لَمْ يُعْطِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اس کی مزدوری دی، اور اگر یہ حرام ہوتا تو آپ ﷺ اسے یہ مزدوری نہ دیتے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور اسے مزدوری دی، اور اگر یہ حرام ہوتا تو آپ ﷺ اسے یہ مزدوری نہ دیتے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اس کی مزدوری دی، اور اگر یہ ناپاک (کمائی) ہوتی تو آپ ﷺ اسے یہ مزدوری نہ دیتے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور اسے مزدوری دی، اور اگر یہ حرام ہوتا تو آپ ﷺ اسے یہ مزدوری نہ دیتے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اس کی مزدوری دی، اور اگر یہ ناپاک (کمائی) ہوتی تو آپ ﷺ اسے یہ مزدوری نہ دیتے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيُّ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ فِيمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ، وَمَكَّةَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللهَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ اور مکہ کے درمیان سفر میں نماز قصر کر کے پڑھا کرتے تھے، حالانکہ آپ ﷺ کو اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں تھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخُو أَبِي حُرَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ بَيْنَ مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةِ، وَلَا يَخَافُ إِلَّا اللهَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ مکہ اور مدینہ کے درمیان نماز قصر کر کے پڑھا کرتے تھے، حالانکہ آپ ﷺ کو اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں تھا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَافَرَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يَخَافُ إِلَّا اللهَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مکہ سے مدینہ کا سفر کیا تو دو رکعتیں پڑھیں، حالانکہ آپ ﷺ کو اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، ثنا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «سَافَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةِ لَا يَخَافُ إِلَّا اللهَ» أَوْ قَالَ: «لَا يَخْشَى إِلَّا اللهَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کرتے تو اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں کرتے تھے“ - یا فرمایا: ”کسی سے نہیں ڈرتے تھے سوائے اللہ کے“ - تو دو رکعتیں پڑھتے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَافِرُ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللهَ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ» ،
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ مدینہ سے مکہ کا سفر کرتے، حالانکہ آپ ﷺ کو اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں تھا، تو دو دو رکعتیں پڑھتے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَ مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةِ رَكْعَتَيْنِ، لَا يَخَافُ إِلَّا اللهَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے مکہ اور مدینہ کے درمیان دو رکعتیں پڑھیں، حالانکہ آپ ﷺ کو اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں تھا۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ رَكْعَتَيْنِ لَا يَخَافُ إِلَّا اللهَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے مکہ اور مدینہ کے درمیان دو رکعتیں پڑھیں، حالانکہ آپ ﷺ کو اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں تھا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، أنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، قَالُوا: ثنا هُشَيْمٌ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللهَ فَصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى خَرَجَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ مدینہ سے مکہ کی طرف نکلے، حالانکہ آپ ﷺ کو اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں تھا، تو دو دو رکعتیں پڑھتے رہے یہاں تک کہ نکل گئے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةِ لَا يَخَافُ إِلَّا اللهَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے مکہ اور مدینہ کے درمیان دو رکعتیں پڑھیں، حالانکہ آپ ﷺ کو اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں تھا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَيُوسُفُ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَرَّقَ كَتِفًا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے شانے کا گوشت نوچ کر کھایا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أنا خَالِدٌ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَرَّقَ عَظْمًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ہڈی کا گوشت نوچ کر کھایا، پھر نماز پڑھی اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَرَّقَ كَتِفًا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے شانے کا گوشت نوچ کر کھایا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا عَوْنُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ سِنَانٍ الْبَاهِلِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كُنْتُ فِيمَنْ تَعَجَّلَ فِي ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”میں ان لوگوں میں شامل تھا جو نبی کریم ﷺ کے سامان کے ساتھ مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جلدی روانہ ہو گئے تھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْقُرَشِيُّ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو سَهْلٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «وَقَّتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ، يَلَمْلَمَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے اہلِ مدینہ کے لیے ذو الحلیفہ، اہلِ شام کے لیے جحفہ، اہلِ یمن کے لیے یلملم، اور اہلِ نجد کے لیے قرن کو میقات مقرر فرمایا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أُنْزِلَ الْوَحْيُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ، وَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”نبی کریم ﷺ پر وحی اس وقت نازل ہوئی جب آپ ﷺ کی عمر چالیس برس تھی، پھر آپ ﷺ مکہ میں تیرہ برس اور مدینہ میں دس برس مقیم رہے، اور آپ ﷺ کی وفات تریسٹھ برس کی عمر میں ہوئی۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَدَّ يَدَهُ إِلَى حُذَيْفَةَ وَكَانَ حُذَيْفَةُ تَقَاعَسَ حَتَّى ذَهَبَ فَاغْتَسَلَ، وَجَاءَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ»
ترجمہ
…رسول اللہ ﷺ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو حذیفہ رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے یہاں تک کہ جا کر غسل کیا، پھر آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں جنبی تھا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: «صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ایک منادی کو حکم دیا تو اس نے ایک بارش والے دن پکارا: نماز اپنے گھروں میں پڑھ لو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: مَرَّتْ جِنَازَةٌ بِابْنِ عَبَّاسٍ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ: فَقَامَ الْحَسَنُ، وَقَعَدَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْحَسَنُ: " أَلَيْسَ قَدْ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِجِنَازَةِ يَهُودِيٍّ أَوْ يَهُودِيَّةٍ مَرَّتْ بِهِ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسً: بَلَى، وَجَلَسَ "
ترجمہ
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: ابن عباس اور حسن بن علی رضی اللہ عنہم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بیٹھے رہے، تو حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا نبی کریم ﷺ ایک یہودی یا یہودیہ کے جنازے کے لیے کھڑے نہیں ہوئے تھے جو آپ ﷺ کے پاس سے گزرا تھا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیوں نہیں، ضرور ایسا ہی تھا۔ پھر وہ بیٹھ گئے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ مَرَّتْ بِهِمَا جِنَازَةٌ فَقَامَ أَحَدُهُمَا، وَجَلَسَ الْآخَرُ , فَقَالَ الَّذِي قَامَ: " أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ؟ قَالَ الْآخَرُ: بَلَى وَقَعَدَ "
ترجمہ
محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ ابن عباس اور حسن بن علی رضی اللہ عنہم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو ان میں سے ایک کھڑا ہو گیا اور دوسرا بیٹھا رہا، جو کھڑا ہوا تھا اس نے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تھے؟ دوسرے نے کہا: کیوں نہیں، اور پھر وہ بیٹھ گیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينَ} [البقرة: ١٨٤] ، «ثُمَّ نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الْأُخْرَى» {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} [البقرة: ١٨٥]
ترجمہ
محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کے بارے میں فرمایا: ”اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں ان پر فدیہ ہے، ایک مسکین کو کھانا کھلانا“ [سورۃ البقرۃ: 184] - ”پھر اسے دوسری آیت نے منسوخ کر دیا“: ”پس تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے وہ اس کے روزے رکھے“ [سورۃ البقرۃ: 185]۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدَ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ طَلَاقَ أُمِّ أَيُّوبَ كَانَ حُوبًا» قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: " الْحُوبُ: الْإِثْمُ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ام ایوب کی طلاق واقعی ایک گناہ تھی۔“
ابن سیرین کہتے ہیں: ”حوب کا معنی گناہ ہے۔“
ابن سیرین کہتے ہیں: ”حوب کا معنی گناہ ہے۔“