کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سماک حنفی کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «لَمَّا نَزَلَتْ أَوَّلُ الْمُزَّمِّلِ كَانَ قِيَامُهُمْ مِثْلَ قِيَامِهِمْ فِي رَمَضَانَ أَوْ نَحْوَ قِيَامِهِمْ فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ بَيْنَ أَوَّلِهَا، وَآخِرِهَا سَنَةٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”جب سورۃ المزمل کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو لوگوں کا رات کو قیام ویسا ہی تھا جیسا رمضان میں ہوتا ہے، یا تقریباً ویسا ہی، اور اس سورت کے شروع اور آخر کے نزول کے درمیان ایک سال کا وقفہ تھا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12821
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 196، حدیث 12877
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ الْحَنَفِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدًا مِنْ أَحْسَنِ الْيُمْنَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ پر بہترین یمنی چادر دیکھی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12822
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 196، حدیث 12878
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ سِمَاكٍ أَبِي زُمَيْلٍ الْحَنَفِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: أَصَابَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ غَنَائِمَ فَقَسَمَ لِلنَّاسٍ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: نَلِي الْقِتَالَ، وَالْغَنَائِمُ لِغَيْرِنَا , فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْتَمَعُوا فَأَتَاهُمٌ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟» ، قَالُوا: لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا، وَمَوْلًى لَنَا، فَقَالَ: «ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، وَمَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ» قَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ، وَالْبَقَرِ، وَتَذْهَبُونَ أَنْتُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟» قَالُوا: قَدْ رَضِينَا
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: …انصار نے کہا: ہم لڑائی کرتے ہیں اور مالِ غنیمت دوسروں کو مل جاتا ہے۔ یہ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے انہیں جمع ہونے کا پیغام بھیجا، پھر ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے گروہِ انصار! کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جو تم میں سے نہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے ہماری ایک بہن کے بیٹے اور ہمارے ایک مولیٰ کے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قوم کی بہن کا بیٹا انہی میں سے ہے، اور قوم کا مولیٰ انہی میں سے ہے۔“ پھر فرمایا: ”اے گروہِ انصار! کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ لوگ بکریاں اور گائیں لے جائیں، اور تم محمد ﷺ کو لے جاؤ؟“ انہوں نے کہا: ہم راضی ہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12823
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 196، حدیث 12879
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَاتَ لَهُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ» ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَمَنْ مَاتْ لَهُ فَرَطٌ؟ قَالَ: «وَمَنْ مَاتَ لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ» ، قَالَتْ: فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ؟ قَالَ: «فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي لَمْ يُصَابُوا بِمِثْلِي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے میری امت میں سے دو بچے آگے فوت ہو کر گئے ہوں، اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اور جس کا ایک بچہ آگے گیا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور جس کا ایک بچہ بھی آگے گیا ہو، اے موفقہ (درست بات کہنے والی)۔“ انہوں نے عرض کیا: اور جس کا کوئی بچہ آگے نہ گیا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو میں اپنی امت کا پیش رو ہوں، انہیں مجھ جیسے نقصان سے کبھی سابقہ نہیں پڑے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12824
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 197، حدیث 12880
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَذُوعِيُّ الْقَاضِي، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرَشِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا أَبُو زُمَيْلٍ، ثنا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: «اسْتَسْقَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمُطِرَ النَّاسُ حَتَّى سَالَتْ قَنَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا» فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَقُولُونُ: " لَقَدْ صَدَقَ نَوْءُ كَذَا وَكَذَا، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: هَذِهِ رَحْمَةٌ وَضَعَهَا اللهُ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے بارش کی دعا کی تو لوگوں پر اتنی بارش ہوئی کہ وادئ قناۃ چالیس دن تک بہتی رہی۔“ پھر لوگ صبح یہ کہنے لگے: فلاں فلاں ستارے نے سچ کہا، اور ان میں سے بعض نے کہا: یہ اللہ کی رحمت ہے جو اس نے نازل کی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12825
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 197، حدیث 12881
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَمَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا حَمْدَانُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَذُوعِيُّ الْقَاضِي، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَا: ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرَشِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا أَبُو زُمَيْلٍ، ثنا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ شَاكِرٌ، وَمِنْهُمْ كَافِرٌ قَالُوا: هَذِهِ رَحْمَةٌ وَضَعَهَا اللهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَقَدْ صَدَقَ نَوْءُ كَذَا، وَكَذَا " فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ} [الواقعة: ٧٥] حَتَّى {تَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ} [الواقعة: ٨٢]
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگوں پر بارش ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں میں سے کچھ صبح کرنے والے شکر گزار ہوئے اور کچھ ناشکرے۔“ لوگوں نے کہا: یہ اللہ کی رحمت ہے جو اس نے نازل کی، جبکہ بعض نے کہا: فلاں فلاں ستارے نے سچ کہا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ”پس میں ستاروں کے مقامات کی قسم کھاتا ہوں“ [سورۃ الواقعۃ: 75] یہاں تک کہ اس فرمان تک: ”اور تم اپنا رزق یہ ٹھہراتے ہو کہ تم اسے جھٹلاتے ہو“ [سورۃ الواقعۃ: 82]۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12826
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 198، حدیث 12882
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَمَّالُ، ثنا حَمْدَانُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونُ: لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، فَيَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلَكُمْ قَدْ قَدْ» ، فَيَقُولُونَ: إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ، يَقُولُونَ هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مشرکین تلبیہ کہتے ہوئے کہا کرتے تھے: ”لبیک، تیرا کوئی شریک نہیں“ تو رسول اللہ ﷺ فرماتے: ”افسوس ہو تم پر، بس بس!“ لیکن وہ آگے کہتے: ”سوائے ایک شریک کے جو تیرا ہی مملوک ہے، تو اس کا اور اس کی ملکیت کا مالک ہے“ - وہ یہ بات بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے کہا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12827
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 198، حدیث 12883
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَمَّالُ، ثنا حَمْدَانُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرَشِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنَ الثِّيَابِ الْيَمَنِيَّةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ ﷺ پر یمنی کپڑوں میں سے بہترین کپڑا دیکھا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12828
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 199، حدیث 12884
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَذُوعِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرَشِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ لَا يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ، وَلَا يُقَاعِدُونَهُ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ أُعْطِيكَهُنَّ، قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: عِنْدِي أَحْسَنُ الْعَرَبِ، وَأَجْمَلُهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ أُزَوِّجُكَهَا، قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: وَمُعَاوِيَةُ تَجْعَلُهُ كَاتِبًا تَجْعَلُهُ بَيْنَ يَدَيْكَ. قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: وَتُؤَمِّرُنِي أَنْ أُقَاتِلَ الْكُفَّارَ كَمَا كُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: «نَعَمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: لوگ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنا اور ان کے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرتے تھے، تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: تین چیزیں ہیں جو میں آپ کو دینا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: میرے پاس عرب کی سب سے حسین و جمیل عورت ہے، ام حبیبہ بنت ابی سفیان، میں اس کا نکاح آپ سے کر دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: اور معاویہ کو آپ اپنا کاتب بنا لیں، اسے اپنے سامنے رکھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: اور مجھے حکم دیں کہ میں کفار کے خلاف اسی طرح لڑوں جیسے میں مسلمانوں کے خلاف لڑا کرتا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12829
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 199، حدیث 12885
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ خَلَفِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ مِرْسَالٍ الْخَثْعَمِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مِرْسَالٍ، عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ الْحَنَفِيِّ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَ الْمُسْلِمُونَ لَا يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ وَلَا يُفَاتِحُونَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ أُعْطِيكَهُنَّ: عِنْدِي أَحْسَنُ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُهُ أُمُّ حَبِيبَةَ أُزَوِّجُكَهَا، قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: وَتَجْعَلُ مُعَاوِيَةَ كَاتِبًا بَيْنَ يَدَيْكَ، قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: وَتُؤَمِّرُنِي أَنْ أُقَاتِلَ الْكُفَّارَ كَمَا كُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: «نَعَمْ»
ترجمہ
…انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تین چیزیں ہیں جو میں آپ کو دینا چاہتا ہوں: میرے پاس عرب کی سب سے حسین و جمیل عورت ام حبیبہ ہے، میں اس کا نکاح آپ سے کر دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: اور آپ معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیں، اپنے سامنے رکھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: اور مجھے حکم دیں کہ میں کفار کے خلاف اسی طرح لڑوں جیسے میں مسلمانوں کے خلاف لڑا کرتا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12830
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 199، حدیث 12886