حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا صَالِحٌ التِّرْمِذِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا، وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا، وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ فِيهَا قَوْمٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے ایسے فتنے ہوں گے جیسے تاریک رات کے ٹکڑے، آدمی صبح مومن اور شام کافر ہو گا، اور شام مومن اور صبح کافر ہو گا، کچھ لوگ اپنا دین دنیا کے تھوڑے سے مال کے بدلے بیچ دیں گے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجِمُوا لِخَمْسَ عَشْرَةَ، أَوْ لِسَبْعَ عَشْرَةَ، أَوْ تِسْعَ عَشْرَةَ، أَوْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، لَا يَتَبَيَّغُ بِكُمُ الدَّمُ فيَقْتُلَكُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پندرہویں، سترہویں، انیسویں یا اکیسویں تاریخ کو پچھنے لگواؤ، ایسا نہ ہو کہ خون تم پر غالب آ کر تمہیں ہلاک کر دے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وُلِدَ لَهُ ثَلَاثَةٌ فَلَمْ يُسَمِّ أَحَدَهُمْ مُحَمَّدًا فَقَدْ جَهِلَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے ہاں تین بچے پیدا ہوں اور وہ ان میں سے کسی ایک کا نام محمد نہ رکھے تو اس نے جہالت کی۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا، أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا میں بھلائی کرنے والے آخرت میں بھی بھلائی کرنے والے ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَحِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ بَعْدَ الْفَرَائِضِ إِدْخَالُ السُّرُورِ عَلَى الْمُسْلِمِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فرائض کے بعد اللہ کو سب سے محبوب عمل کسی مسلمان کو خوش کرنا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانَ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: عَنِ الْجَلَّالَةِ، وَعَنِ النُّهْبَةِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن گندگی کھانے والے جانور کے گوشت سے اور لوٹ مار سے منع فرمایا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا سَلَّامُ الطَّوِيلُ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَامَ يَوْمَ عَرَفَةَ كَانَ لَهُ كَفَّارَةَ سَنَتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے عرفہ کے دن روزہ رکھا اس کے لیے دو سال کا کفارہ ہو گیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا سَلَّامُ الطَّوِيلُ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَامَ يَوْمَانِ مِنَ الْمُحَرَّمِ فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ ثَلَاثِينَ حَسَنَةً»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے محرم میں دو دن روزہ رکھا اسے ہر دن کے بدلے تیس نیکیاں ملیں گی۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا مِنْدَلٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرِ الْكَبِيرَ، وَيَرْحَمِ الصَّغِيرَ، وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بڑے کی عزت نہ کرے، چھوٹے پر رحم نہ کرے، نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے منع نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلَوَيْهِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا مِنْدَلٌ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيٌّ رَضِي اللهُ عَنْهُ، فِي حشانِ الْمَدِينَةِ فَمَرَرْنَا بِحَدِيقَةٍ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِي اللهُ عَنْهُ: مَا أَحْسَنَ هَذِهِ الْحَدِيقَةَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «حَدِيقَتُكَ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْهَا» ، ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى رَأْسِهِ، وَلِحْيَتِهِ ثُمَّ بَكَى حَتَّى عَلَا بُكَاؤُهُ، قِيلَ مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: «ضَغَائِنُ فِي صُدُورِ قَوْمٍ لَا يُبْدونها لَكَ حَتَّى يَفْقِدُوني»
ترجمہ
...راوی کہتے ہیں: میں، نبی کریم ﷺ اور علی رضی اللہ عنہ مدینہ کے باغات میں نکلے، تو ہمارا گزر ایک باغ کے پاس سے ہوا، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ باغ کتنا خوبصورت ہے! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں تمہارا باغ اس سے زیادہ خوبصورت ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اپنے سر اور داڑھی کی طرف اشارہ کیا، پھر رونے لگے یہاں تک کہ آپ ﷺ کا رونا بلند ہو گیا۔ پوچھا گیا: آپ کو کیا چیز رلا رہی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کچھ لوگوں کے دلوں میں کینے ہیں جو وہ تمہارے سامنے ظاہر نہیں کریں گے یہاں تک کہ مجھے کھو دیں۔“
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي: بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَإِنَّمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ يُرْعَبُ مِنِّي عَدُوِّي عَلَى مَسِيرَةِ شَهْرٍ، وَأُعْطِيتُ الْمَغْنَمَ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں: مجھے تمام لوگوں کی طرف، سرخ و سیاہ سب کی طرف بھیجا گیا، جبکہ پہلے نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے، اور میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی، میرا دشمن مجھ سے ایک مہینے کی مسافت پر بھی خوفزدہ ہو جاتا ہے، اور مجھے مالِ غنیمت دیا گیا، اور میرے لیے ساری زمین سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی بنا دی گئی، اور مجھے شفاعت دی گئی تو میں نے اسے قیامت کے دن اپنی امت کے لیے مؤخر کر رکھا ہے۔“
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْلَةَ أُسْرِي بِي: «رَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ يُشْبِهُني، وَرَأَيْتُ مُوسَى طُوَالٌ جَعْدٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى أَحْمَرُ رَبْعَةٌ سَبِطٌ، كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ الدُّهْنَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے شبِ معراج فرمایا: ”میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، وہ مجھ سے مشابہت رکھتے تھے، اور میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، قد آور، گھنگھریالے بالوں والے، گویا وہ قومِ شنوءہ کے مردوں میں سے تھے، اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، سرخ رنگ، درمیانے قد، سیدھے بالوں والے، گویا ان کے سر سے تیل ٹپک رہا ہو۔“
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسیٰ علیہما السلام سے تھی۔“
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «لَأَقْتُلَنَّ الْعمالقةَ فِي كَتِيبَةٍ» فَقَالَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا: ”میں ضرور عمالقہ کو ایک لشکر میں (لے کر) قتل کروں گا۔“ تو جبریل علیہ السلام نے کہا: یا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ (وہی کریں گے)۔
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ {مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ} [المؤمنون: ٦٧] قَالَ: «كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَهْجُرونَ رَسُولَ اللهِ فِي شِعْرِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی اس قرأت پر تھے: ”تکبر کرتے ہوئے، رات کو گفتگو کرتے ہوئے، بیہودہ باتیں کرتے ہوئے“ [المؤمنون: 67]، فرمایا: ”مشرکین اپنے اشعار میں رسول اللہ ﷺ کی ہجو (برائی) کیا کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاهِبِ الْحَارِثِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " يُكْرَهُ الْكَلَامُ فِي أَرْبَعِ مَوَاطِنَ: يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَيَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ الْأَضْحَى، وَفِي الِاسْتِسْقَاءِ إِذَا صَعِدَ الْإِمَامُ الْمِنْبَرَ فَيَتَكَلَّمُ حَتَّى يَنْزِلَ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”چار مواقع پر بات چیت کرنا ناپسندیدہ ہے: جمعہ کے دن، عیدالفطر کے دن، عیدالاضحی کے دن، اور نمازِ استسقاء میں، جب امام منبر پر چڑھ کر خطبہ دے رہا ہو، یہاں تک کہ وہ اتر جائے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ الْوُضُوءُ؟ «فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَظَاهِرِ أُذُنَيْهِ مَعَ رَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا» ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا الْوُضُوءُ فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ تَعَدَّى وَظَلَمَ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! وضو کیسے کیا جائے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے وضو کا پانی منگوایا، اپنا دایاں ہاتھ تین بار دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا، پھر تین تین بار کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنے سر کا اور اپنے کانوں کے ظاہری حصے کا سر کے ساتھ مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں تین بار دھوئے، پھر فرمایا: وضو اسی طرح ہے، جس نے اس سے زیادہ کیا اس نے زیادتی اور ظلم کیا۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا حَامِدُ بْنُ آدَمَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا آخَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَلَمْ يُؤَاخِ بَيْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ خَرَجَ عَلِيٌّ رَضِي اللهُ عَنْهُ مُغْضَبًا حَتَّى أَتَى جَدْوَلًا مِنَ الْأَرْضِ فتوسَّدَ ذِرَاعَهُ فَسُفَّ عَلَيْهِ الرِّيحُ، فَطَلَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَجَدَهُ فَوَكَزَهُ بِرِجْلِهِ، فَقَالَ لَهُ: «قُمْ فَمَا صَلُحْتَ أَنْ تَكُونَ إِلَّا أَبَا تُرَابٍ أَغَضِبْتَ عَلَيَّ حِينَ وَاخَيْتُ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَلَمْ أُوَاخِ بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ، أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ؟ أَلَا مَنْ أَحَبَّكَ حُفَّ بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَمَنْ أَبْغَضَكَ أَمَاتَهُ اللهُ مَيْتَةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَحُوسِبَ بِعَمَلِهِ فِي الْإِسْلَامِ»
ترجمہ
...علی رضی اللہ عنہ غصے میں نکل گئے یہاں تک کہ زمین کی ایک نالی کے پاس پہنچے اور اپنے بازو پر سر رکھ کر لیٹ گئے، تو ان پر مٹی اڑ کر پڑی۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں تلاش کیا یہاں تک کہ انہیں پا لیا، تو آپ ﷺ نے اپنے پاؤں سے انہیں ہلکا سا کریدا اور فرمایا: ”اٹھو، تمہارے لیے 'ابوتراب' (مٹی والے) کے سوا کوئی نام مناسب نہیں۔ کیا تم اس بات پر مجھ سے ناراض ہو گئے کہ میں نے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ کرایا اور تمہارا کسی سے بھائی چارہ نہیں کرایا؟ کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسیٰ علیہما السلام سے تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں؟ خبردار! جو تم سے محبت کرے وہ امن و ایمان میں گھرا رہے، اور جو تم سے بغض رکھے اسے اللہ جاہلیت کی موت دے اور اسلام میں اس کے عمل کا حساب لیا جائے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ الصَّفَّارُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ جَمِيلٍ الرَّقِّيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ أَوْ مَا فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ» - شَكَّ عَلِيُّ بْنُ جَمِيلٍ - «مَا عَلَيْهَا وَرَقَةٌ إِلَّا مَكْتُوبٌ عَلَيْهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ أَبُو بَكْرِ الصِّدِّيقُ عُمَرُ الْفاروقُ عُثْمَانُ ذُو النُّورَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں ایک درخت ہے“ یا ”کیا جنت میں کوئی درخت نہیں“ - راوی علی بن جمیل نے شک کیا - ”اس کا کوئی پتا ایسا نہیں مگر اس پر لکھا ہے: اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، محمد اللہ کے رسول ہیں، ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عثمان ذوالنورین۔“
حَدَّثَنَا الْمُنْتَصِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ - قَالَ: «إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ، فَإِنَّهَا سَاعَةٌ يَنْتَشِرُ فِيهَا الشَّيَاطِينُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے - غالباً مرفوعاً - روایت ہے: ”جب سورج غروب ہو جائے تو اپنے بچوں کو روک لو، کیونکہ یہ وہ گھڑی ہے جس میں شیاطین پھیل جاتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْهُومَانِ لَا يَقْضِي أَحَدُهُمَا نَهْمَتَهُ: مَنْهُومٌ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ، وَمَنْهُومٌ فِي طَلَبِ الدُّنْيَا "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے - غالباً نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً - روایت ہے: ”دو حریص لوگ ہیں جن کی حرص کبھی پوری نہیں ہوتی: علم کا حریص، اور دنیا کا حریص۔“
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «سَجَدَ فِي ص»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سورۃ ص میں سجدہ کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقراطيسيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: عَرَضْتُ الْمُصْحَفَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ فاتحتِهِ إِلَى خَاتِمَتِهِ أُوقِفُهُ عَلَيْهِ عِنْدَ كُلِّ آيَةٍ مِنْهُ، وَأَسْأَلُهُ عَنْهَا حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: ٢٢٣] فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ قُرَيْشٍ يَشْرَحُونَ النِّسَاءَ بِمَكَّةَ وَيَتَلَذَّذُونَ بِهِنَّ مُقْبِلَاتٍ، وَمُدْبِرَاتٍ فَلَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ وَتَزَوَّجُوا فِي الْأَنْصَارِ وَذَهَبُوا لِيَفْعَلُوا بِهِنَّ، فأَنْكَرْنَ ذَلِكَ وَقُلْنَ هَذَا شَيْءٌ لَمْ يَكُنْ يُؤْتَى عَلَيْهِ، فانْتَشَرَ الْحَدِيثُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: ٢٢٣] فمُقْبِلَةً، وَإِنْ شِئْتَ فباركةً "، وَإِنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ مَوْضِعَ الْوَلَدِ لِلْحَرْثِ يَقُولُ: ائْتِ الْحَرْثَ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ فِي دُبُرِهَا فَأَوْهَمَ ابْنُ عُمَرَ وَاللهُ يَغْفِرُ لَهُ وَإِنَّمَا كَانَ الْحَدِيثُ عَلَى هَذَا
ترجمہ
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے قرآن مجید ابن عباس رضی اللہ عنہما پر اس کے شروع سے آخر تک پیش کیا، ہر آیت پر رک کر ان سے اس کے بارے میں پوچھتا رہا، یہاں تک کہ اس آیت پر پہنچا: ”تمہاری بیویاں تمہارے لیے کھیتی ہیں، تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ“ [البقرہ: 223]۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”قریش کا یہ قبیلہ مکہ میں عورتوں کو کروٹ پر لٹا کر آگے اور پیچھے سے لطف اندوز ہوتا تھا (یعنی مباشرت میں مختلف انداز اختیار کرتا تھا)۔ پھر جب وہ مدینہ آئے اور انصار میں شادیاں کیں اور وہی کچھ کرنا چاہا تو انصاری عورتوں نے اسے ناپسند کیا اور کہا: یہ ایسی بات ہے جو پہلے نہیں کی جاتی تھی۔ تو یہ بات پھیل گئی یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ تک پہنچی، تو اللہ عزوجل نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: 'تمہاری بیویاں تمہارے لیے کھیتی ہیں، تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ'، یعنی سامنے سے، اور اگر چاہو تو لیٹی ہوئی حالت میں۔“ اور اس سے مراد وہی جگہ ہے جہاں سے بچہ پیدا ہوتا ہے، یعنی فرمایا جا رہا ہے: کھیتی میں جہاں سے چاہو آؤ (یعنی اندازِ مباشرت میں اختیار ہے، جگہ میں نہیں)۔
پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تھا کہ یہ اس کی پشت کے بارے میں ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اس میں وہم ہوا - اللہ انہیں معاف فرمائے - جبکہ حدیث دراصل اسی طرح (جیسا اوپر بیان ہوا) تھی۔
پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تھا کہ یہ اس کی پشت کے بارے میں ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اس میں وہم ہوا - اللہ انہیں معاف فرمائے - جبکہ حدیث دراصل اسی طرح (جیسا اوپر بیان ہوا) تھی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ابْنُ أَخِي عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَذَّنَ سَبْعَ سِنِيَنَ مُحْتَسِبًا كُتِبَ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ثواب کی نیت سے سات سال اذان دی، اس کے لیے جہنم سے آزادی لکھ دی جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ جُنَاحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک فقیہ (سمجھ بوجھ رکھنے والا عالم) شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا رَجَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُهُنَّ أَيْسَرُهُنَّ صَدَاقًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سب سے بہتر وہ ہے جس کا مہر سب سے آسان ہو۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِي الْحَارِثِ، قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ وَهُوَ رَجَاءٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُهُنَّ أَيْسَرُهُنَّ صَدَاقًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سب سے بہتر وہ ہے جس کا مہر سب سے آسان ہو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ خِرَاشٍ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ شَرِكَ فِي دَمٍ حَرَامٍ بِشَطْرِ كَلِمَةٍ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ آيِسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی حرام خون میں آدھے لفظ سے بھی شریک ہوا، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہو گا: اللہ کی رحمت سے مایوس۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ خِرَاشٍ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے روزے اور احرام کی حالت میں پچھنے لگوائے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ خِرَاشٍ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ فَتَنَزَّهُوا عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قبر کا زیادہ تر عذاب پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے، تو اس سے بچو۔“
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءٌ فِي ثَلَاثٍ فِي النَّارِ: وَالْمَاءِ، وَالْكَلَأِ، وَثَمَنُهُ حَرَامٌ "
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں: آگ میں، پانی میں، اور چراگاہ میں، اور اس (پانی) کی قیمت لینا حرام ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ خِرَاشٍ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ بِهِ جُرْحٌ يَسْتَأْذِنُهُ فِي بَطِّهِ، فَأَذِنَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”نبی کریم ﷺ کے پاس ایک زخمی آدمی لایا گیا جو اپنے زخم کو چیرنے کی اجازت مانگ رہا تھا، تو آپ ﷺ نے اسے اجازت دے دی۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ خِرَاشٍ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَوْصُوا بِعَمِّي الْعَبَّاسِ خَيْرًا، فَإِنَّهُ بَقِيَّةُ آبَائِي، وَإِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے چچا عباس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت قبول کرو، کیونکہ وہ میرے آباء کی باقی ماندہ نشانی ہیں، اور آدمی کا چچا اس کے باپ کی مانند (شاخ) ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ خِرَاشٍ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَعَا لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «نِعْمَ التُّرجمانُ أَنْتَ وَدَعَا لِي جِبْرِيلُ مَرَّتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے دعا کی اور فرمایا: تم کیا ہی اچھے ترجمان ہو۔ اور جبریل علیہ السلام نے بھی میرے لیے دو بار دعا کی۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ خِرَاشٍ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ قَدِ اسْتَبْشَرَ أَهْلُ السَّمَاءِ بِإِسْلَامِ عُمَرَ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”جب عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اور فرمایا: اے محمد! آسمان والے عمر کے اسلام لانے پر خوش ہو گئے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زَيْدٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أُرَاهُ رَفَعَهُ قَالَ: «اطْلُبُوا الْخَيْرَ وَالْحَوَائِجَ مِنْ حِسَانِ الْوُجُوهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے - غالباً مرفوعاً - روایت ہے: ”بھلائی اور اپنی ضروریات خوبصورت (اچھی شکل والے) چہروں سے طلب کرو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زَيْدٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يُؤْذِنُ بِجِنَازَةِ النَّاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّهَا النَّاسُ سَلُوا إِلَى اللهِ مَوْتَاكُمْ، وَلَا تُؤْذِنُوا بِهِمُ النَّاسَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ایک آدمی آ کر لوگوں کے جنازے کا اعلان کرنے لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے مُردوں کے لیے اللہ سے دعا مانگو، اور ان کا اعلان نہ کیا کرو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، ثنا زَيْدٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ، عَنِ الْعَوَّامِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَدْخُلُونَ الْمَيِّتَ الْقَبْرَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما میت کو قبر میں قبلے کی طرف سے اتارا کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ خِرَاشٍ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «زَيِّنُوا أَصْوَاتَكُمْ بِالْقُرْآنِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن کے ذریعے اپنی آوازوں کو مزین کرو۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {اللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ} [البقرة: ٢٥٧] قَالَ: «هُمْ قَوْمٌ كَانُوا كَفَرُوا بِعِيسَى فَآمَنُوا بِمُحَمَّدٍ» ، {وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ} [البقرة: ٢٥٧] «هُمْ قَوْمٌ آمَنُوا بِعِيسَى، فَلَمَّا بُعِثَ مُحَمَّدٌ كَفَرُوا بِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان ”اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے“ [البقرہ: 257] کے بارے میں فرماتے ہیں: ”یہ وہ لوگ ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کرتے تھے، پھر محمد ﷺ پر ایمان لے آئے۔“ اور ”جن لوگوں نے کفر کیا ان کے کارساز طاغوت ہیں، وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں“ [البقرہ: 257] کے بارے میں فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے تھے، پھر جب محمد ﷺ مبعوث ہوئے تو ان کا انکار کر دیا۔“
…