حدیث نمبر: 11051
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقراطيسيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: عَرَضْتُ الْمُصْحَفَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ فاتحتِهِ إِلَى خَاتِمَتِهِ أُوقِفُهُ عَلَيْهِ عِنْدَ كُلِّ آيَةٍ مِنْهُ، وَأَسْأَلُهُ عَنْهَا حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: ٢٢٣] فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ قُرَيْشٍ يَشْرَحُونَ النِّسَاءَ بِمَكَّةَ وَيَتَلَذَّذُونَ بِهِنَّ مُقْبِلَاتٍ، وَمُدْبِرَاتٍ فَلَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ وَتَزَوَّجُوا فِي الْأَنْصَارِ وَذَهَبُوا لِيَفْعَلُوا بِهِنَّ، فأَنْكَرْنَ ذَلِكَ وَقُلْنَ هَذَا شَيْءٌ لَمْ يَكُنْ يُؤْتَى عَلَيْهِ، فانْتَشَرَ الْحَدِيثُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: ٢٢٣] فمُقْبِلَةً، وَإِنْ شِئْتَ فباركةً "، وَإِنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ مَوْضِعَ الْوَلَدِ لِلْحَرْثِ يَقُولُ: ائْتِ الْحَرْثَ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ فِي دُبُرِهَا فَأَوْهَمَ ابْنُ عُمَرَ وَاللهُ يَغْفِرُ لَهُ وَإِنَّمَا كَانَ الْحَدِيثُ عَلَى هَذَا
ترجمہ

مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے قرآن مجید ابن عباس رضی اللہ عنہما پر اس کے شروع سے آخر تک پیش کیا، ہر آیت پر رک کر ان سے اس کے بارے میں پوچھتا رہا، یہاں تک کہ اس آیت پر پہنچا: ”تمہاری بیویاں تمہارے لیے کھیتی ہیں، تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ“ [البقرہ: 223]۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”قریش کا یہ قبیلہ مکہ میں عورتوں کو کروٹ پر لٹا کر آگے اور پیچھے سے لطف اندوز ہوتا تھا (یعنی مباشرت میں مختلف انداز اختیار کرتا تھا)۔ پھر جب وہ مدینہ آئے اور انصار میں شادیاں کیں اور وہی کچھ کرنا چاہا تو انصاری عورتوں نے اسے ناپسند کیا اور کہا: یہ ایسی بات ہے جو پہلے نہیں کی جاتی تھی۔ تو یہ بات پھیل گئی یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ تک پہنچی، تو اللہ عزوجل نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: 'تمہاری بیویاں تمہارے لیے کھیتی ہیں، تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ'، یعنی سامنے سے، اور اگر چاہو تو لیٹی ہوئی حالت میں۔“ اور اس سے مراد وہی جگہ ہے جہاں سے بچہ پیدا ہوتا ہے، یعنی فرمایا جا رہا ہے: کھیتی میں جہاں سے چاہو آؤ (یعنی اندازِ مباشرت میں اختیار ہے، جگہ میں نہیں)۔
پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تھا کہ یہ اس کی پشت کے بارے میں ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اس میں وہم ہوا - اللہ انہیں معاف فرمائے - جبکہ حدیث دراصل اسی طرح (جیسا اوپر بیان ہوا) تھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11051
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 77، حدیث 11097