المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مجاهد، عن ابن عباس باب: مجاہد کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا حَامِدُ بْنُ آدَمَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا آخَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَلَمْ يُؤَاخِ بَيْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ خَرَجَ عَلِيٌّ رَضِي اللهُ عَنْهُ مُغْضَبًا حَتَّى أَتَى جَدْوَلًا مِنَ الْأَرْضِ فتوسَّدَ ذِرَاعَهُ فَسُفَّ عَلَيْهِ الرِّيحُ، فَطَلَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَجَدَهُ فَوَكَزَهُ بِرِجْلِهِ، فَقَالَ لَهُ: «قُمْ فَمَا صَلُحْتَ أَنْ تَكُونَ إِلَّا أَبَا تُرَابٍ أَغَضِبْتَ عَلَيَّ حِينَ وَاخَيْتُ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَلَمْ أُوَاخِ بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ، أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ؟ أَلَا مَنْ أَحَبَّكَ حُفَّ بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ، وَمَنْ أَبْغَضَكَ أَمَاتَهُ اللهُ مَيْتَةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَحُوسِبَ بِعَمَلِهِ فِي الْإِسْلَامِ»...علی رضی اللہ عنہ غصے میں نکل گئے یہاں تک کہ زمین کی ایک نالی کے پاس پہنچے اور اپنے بازو پر سر رکھ کر لیٹ گئے، تو ان پر مٹی اڑ کر پڑی۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں تلاش کیا یہاں تک کہ انہیں پا لیا، تو آپ ﷺ نے اپنے پاؤں سے انہیں ہلکا سا کریدا اور فرمایا: ”اٹھو، تمہارے لیے 'ابوتراب' (مٹی والے) کے سوا کوئی نام مناسب نہیں۔ کیا تم اس بات پر مجھ سے ناراض ہو گئے کہ میں نے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ کرایا اور تمہارا کسی سے بھائی چارہ نہیں کرایا؟ کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسیٰ علیہما السلام سے تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں؟ خبردار! جو تم سے محبت کرے وہ امن و ایمان میں گھرا رہے، اور جو تم سے بغض رکھے اسے اللہ جاہلیت کی موت دے اور اسلام میں اس کے عمل کا حساب لیا جائے۔“