المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مجاهد، عن ابن عباس باب: مجاہد کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11038
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلَوَيْهِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا مِنْدَلٌ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيٌّ رَضِي اللهُ عَنْهُ، فِي حشانِ الْمَدِينَةِ فَمَرَرْنَا بِحَدِيقَةٍ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِي اللهُ عَنْهُ: مَا أَحْسَنَ هَذِهِ الْحَدِيقَةَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «حَدِيقَتُكَ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْهَا» ، ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى رَأْسِهِ، وَلِحْيَتِهِ ثُمَّ بَكَى حَتَّى عَلَا بُكَاؤُهُ، قِيلَ مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: «ضَغَائِنُ فِي صُدُورِ قَوْمٍ لَا يُبْدونها لَكَ حَتَّى يَفْقِدُوني»ترجمہ
...راوی کہتے ہیں: میں، نبی کریم ﷺ اور علی رضی اللہ عنہ مدینہ کے باغات میں نکلے، تو ہمارا گزر ایک باغ کے پاس سے ہوا، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ باغ کتنا خوبصورت ہے! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں تمہارا باغ اس سے زیادہ خوبصورت ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اپنے سر اور داڑھی کی طرف اشارہ کیا، پھر رونے لگے یہاں تک کہ آپ ﷺ کا رونا بلند ہو گیا۔ پوچھا گیا: آپ کو کیا چیز رلا رہی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کچھ لوگوں کے دلوں میں کینے ہیں جو وہ تمہارے سامنے ظاہر نہیں کریں گے یہاں تک کہ مجھے کھو دیں۔“