کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: حسن بن ابی حسن کی سیدنا عثمان بن ابی عاص رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْزَلَهُمُ الْمَسْجِدَ لِيَكُونَ أَرَقَّ لِقُلُوبِهِمْ، فَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يُحْشَرُوا، وَلَا يُعْشَرُوا، وَلَا يُجَبُّوا، وَلَا يُسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ مِنْ غَيْرِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا خَيْرَ فِي دَيْنٍ لَيْسَ فِيهِ رُكُوعٌ»
ترجمہ
…(ثقیف کے وفد نے) نبی کریم ﷺ سے یہ شرط رکھی کہ انہیں (لشکر کے لیے) جمع نہ کیا جائے، ان سے عشر وصول نہ کیا جائے، ان پر جباوت (زکوٰۃ کی ایک خاص قسم) عائد نہ کی جائے، اور ان پر ان کے علاوہ کسی اور کو حاکم مقرر نہ کیا جائے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس دین میں کوئی بھلائی نہیں جس میں رکوع (نماز) نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، وَأَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، وَدرانُ بْنُ سُفْيَانَ الْقَطَّانُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فِي كُلِّ لَيْلَةٍ فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ دَاعٍ فَاسْتَجِيبَ لَهُ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ "
ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ عزوجل ہر رات آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے، اور فرماتا ہے: ہے کوئی دعا مانگنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ ہے کوئی بخشش مانگنے والا کہ میں اسے بخش دوں؟“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ زِيَادًا، اسْتَعْمَلَ كِلَابَ بْنَ أُمَيَّةَ اللَّيْثِيَّ عَلَى الْأُبُلَّةِ، فَمَرَّ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ، فَقَالَ: يَا أَبَا هَارُونَ، مَا يُجْلِسُكَ هُنَا؟ فَقَالَ: بَعَثَنِي هَذَا عَلَى الْأُبُلَّةِ، فَقَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ نَبِيَّ اللهِ دَاوُدَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لِأَهْلِهِ فِي سَاعَةٍ مِنَ اللَّيْلِ: يَا آلَ دَاوُدَ قُومُوا فَصَلُّوا فَإِنَّ هَذِهِ سَاعَةٌ يُسْتَجَابُ فِيهَا الدُّعَاءُ إِلَّا لِسَاحِرٍ، أَوْ عَشَّارٍ " فَرَكِبَ سَفِينَةً مَكَانَهُ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى زِيَادٍ فَاسْتَعْفَاهُ
ترجمہ
حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: زیاد نے کلاب بن امیہ لیثی کو ابلہ پر مقرر کیا، تو سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے اور کہا: اے ابوہارون! تمہیں یہاں کس چیز نے بٹھا رکھا ہے؟ اس نے کہا: اس (زیاد) نے مجھے ابلہ پر بھیجا ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام رات کے ایک حصے میں اپنے گھر والوں سے فرماتے: اے آلِ داؤد! کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، کیونکہ یہ وہ گھڑی ہے جس میں دعا قبول کی جاتی ہے، سوائے جادوگر یا عشر وصول کرنے والے (ظالم اہلکار) کے۔“ چنانچہ وہ (کلاب) فوراً کشتی پر سوار ہوا، پھر زیاد کے پاس واپس گیا اور اس سے (اس عہدے سے) معافی مانگ لی۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَامِرٍ، اسْتَعْمَلَ كِلَابَ بْنَ أُمَيَّةَ عَلَى الْأُبُلَّةِ، فَمَرَّ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ، فَقَالَ لَهُ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ: اسْتُعْمِلْتُ عَلَى الْأُبُلَّةِ، فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ فِي اللَّيْلِ سَاعَةً يُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ أُعْطِيَهُ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ؟ "
قَالَ: " وَإِنَّ دَاوُدَ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ: لَا يَسْأَلُ اللهَ اللَّيْلَةَ أَحَدٌ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِلَّا سَاحِرٌ، أَوْ عَشَّارٌ " فَرَكِبَ فِي قُرْقُورٍ فَأَتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عَامِرٍ فَقَالَ: «اقْبَلْ عَمَلَكَ فَإِنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ حَدَّثَنِي كَذَا وَكَذَا»
قَالَ: " وَإِنَّ دَاوُدَ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ: لَا يَسْأَلُ اللهَ اللَّيْلَةَ أَحَدٌ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِلَّا سَاحِرٌ، أَوْ عَشَّارٌ " فَرَكِبَ فِي قُرْقُورٍ فَأَتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عَامِرٍ فَقَالَ: «اقْبَلْ عَمَلَكَ فَإِنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ حَدَّثَنِي كَذَا وَكَذَا»
ترجمہ
…؟
(راوی نے) کہا: اور یہ کہ داؤد علیہ السلام ایک رات باہر نکلے اور فرمایا: آج رات جو بھی اللہ سے کچھ مانگے گا وہ اسے ضرور عطا کرے گا، سوائے جادوگر یا عشر وصول کرنے والے (ظالم اہلکار) کے۔ چنانچہ وہ (سننے والا) ایک چھوٹی کشتی پر سوار ہوا اور عبداللہ بن عامر کے پاس آیا اور کہا: اپنا کام (عہدہ) واپس لے لیجیے، کیونکہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ اور یہ بات بتائی ہے۔
(راوی نے) کہا: اور یہ کہ داؤد علیہ السلام ایک رات باہر نکلے اور فرمایا: آج رات جو بھی اللہ سے کچھ مانگے گا وہ اسے ضرور عطا کرے گا، سوائے جادوگر یا عشر وصول کرنے والے (ظالم اہلکار) کے۔ چنانچہ وہ (سننے والا) ایک چھوٹی کشتی پر سوار ہوا اور عبداللہ بن عامر کے پاس آیا اور کہا: اپنا کام (عہدہ) واپس لے لیجیے، کیونکہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ اور یہ بات بتائی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: كَانَ مِمَّا «عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا آخُذَ عَلَى الْأَذَانِ أَجْرًا»
ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کی مجھے نصیحتوں میں سے یہ بھی تھی کہ میں اذان پر کوئی اجرت نہ لوں۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: كَانَ آخِرُ مَا «عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ صَلِّ بِأَصْحَابِكَ صَلَاةَ أَضْعَفِهِمْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ»
ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کی مجھے آخری نصیحت یہ تھی: ”اپنے ساتھیوں کو ان کے سب سے کمزور فرد کے مطابق نماز پڑھاؤ، کیونکہ ان میں بڑے، کمزور اور حاجت مند لوگ بھی ہوتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ، قَالَا: ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: كَانَ آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلِّ بِأَصْحَابِكَ صَلَاةَ أَضْعَفِهِمْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ، وَالضَّعِيفَ، وَذَا الْحَاجَةِ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى الْأَذَانِ أَجْرًا»
ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کی مجھے آخری نصیحت یہ تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ساتھیوں کو ان کے سب سے کمزور فرد کے مطابق نماز پڑھاؤ، کیونکہ ان میں بڑے، کمزور اور حاجت مند لوگ بھی ہوتے ہیں، اور ایسا مؤذن مقرر کرو جو اذان پر اجرت نہ لے۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُلَاثَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَنِي إِلَى ثَقِيفٍ: «تَجَوَّزْ فِي الصَّلَاةِ يَا عُثْمَانُ، وَاقْدِرِ النَّاسَ بِأَضْعَفِهِمْ فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ، وَذَا الْحَاجَةِ، وَالْحَامِلَ وَالْمُرْضِعَ، إِنِّي لَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ»
ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے جب ثقیف کی طرف بھیجا تو فرمایا: ”اے عثمان! نماز میں تخفیف کرو، اور لوگوں کا اندازہ ان کے سب سے کمزور فرد کے حساب سے کرو، کیونکہ ان میں کمزور، حاجت مند، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں بھی ہوتی ہیں۔ میں تو بچے کے رونے کی آواز سن کر (نماز میں) تخفیف کر دیتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: إِنَّ آخِرَ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ فَصَلِّ بِهِمْ صَلَاةَ أَضْعَفِهِمْ فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ، وَالْمَرِيضَ»
ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کی مجھے آخری نصیحت یہ تھی: ”جب تم اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاؤ تو انہیں ان کے سب سے کمزور فرد کے حساب سے پڑھاؤ، کیونکہ ان میں کمزور اور بیمار بھی ہوتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَرِيزٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: دُعِيَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ إِلَى خِتَانٍ فَأَبَى أَنْ يُجِيبَ، فَقِيلَ لَهُ: فَقَالَ: «إِنَّا كُنَّا لَا نَأْتِي الْخِتَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يُدَعَى إِلَيْهِ»
ترجمہ
حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو ایک ختنے (کی تقریب) میں بلایا گیا، تو انہوں نے جانے سے انکار کر دیا۔ ان سے (اس کی وجہ) پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ختنے (کی تقریب) میں نہیں جایا کرتے تھے، اور نہ اس کی طرف بلایا جاتا تھا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّقْرِ السُّكَّرِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَهْلٍ الْمَازِنِيُّ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْعَطَّارِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: دُعِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ إِلَى طَعَامٍ فَقِيلَ: هَلْ تَدْرِي مَا هَذَا؟ هَذَا خِتَانُ جَارِيَةٍ، فَقَالَ: «هَذَا شَيْءٌ مَا كُنَّا نَرَاهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ
ترجمہ
حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو ایک کھانے پر بلایا گیا، تو ان سے کہا گیا: کیا آپ جانتے ہیں یہ کیا ہے؟ یہ ایک بچی کے ختنے (کی دعوت) ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے جسے ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نہیں دیکھتے تھے۔“ چنانچہ انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَنْبَسَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: «وُقِّتَ لِلنُّفَسَاءِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا»
ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”نفاس والی عورت کے لیے چالیس دن مقرر کیے گئے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: " وُقِّتَ لِلنُّفَسَاءِ أَرْبَعُونَ يَوْمًا
ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”نفاس والی عورت کے لیے چالیس دن مقرر کیے گئے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا عَنْبَسَةُ الْغَنَوِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقُولُ اللهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا، إِلَّا الصَّوْمُ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ "
ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ جل ذکرہ فرماتا ہے: جو شخص کوئی نیکی کرے تو اسے اس کے دس گنا اجر ملتا ہے، سوائے روزے کے، کیونکہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ عَنْبَسَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الصَّوْمُ جُنَّةٌ يَسْتَجِنُّ بِهَا الْعَبْدُ مِنَ النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”روزہ ایک ڈھال ہے جس کے ذریعے بندہ آگ سے بچاؤ حاصل کرتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَذُوعِيُّ الْقَاضِي، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ مَوْلًى لِعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ سَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ مَالًا يَتَّجِرُ فِيهِ وَالرِّبْحُ بَيْنَهُمَا، فَأَعْطَاهُ عِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَاشْتَرَى بِهِ خَمْرًا، ثُمَّ قَدِمَ بِهِ الْأُبُلَّةَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ عُثْمَانُ فَلَمْ يَدَعْ مِنْهَا دَنًّا وَلَا غَيْرَهُ إِلَّا كَسَرَهُ، قَالَ عُثْمَانُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ الْخَمْرَ، وَشَارِبَهَا، وَمُشْتَرِيَهَا، وَبَائِعَهَا، وَعَاصِرَهَا، وَحَامِلَهَا»
ترجمہ
…پھر وہ اسے (شراب کا مال) ابلہ لے آیا، تو عثمان رضی اللہ عنہ اس کی طرف نکلے اور اس میں سے کوئی مٹکا یا کوئی اور برتن نہ چھوڑا مگر اسے توڑ دیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیشک رسول اللہ ﷺ نے شراب پر، اس کے پینے والے، خریدنے والے، بیچنے والے، نچوڑنے والے اور اٹھانے والے پر لعنت فرمائی۔