حدیث نمبر: 8342
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ زِيَادًا، اسْتَعْمَلَ كِلَابَ بْنَ أُمَيَّةَ اللَّيْثِيَّ عَلَى الْأُبُلَّةِ، فَمَرَّ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ، فَقَالَ: يَا أَبَا هَارُونَ، مَا يُجْلِسُكَ هُنَا؟ فَقَالَ: بَعَثَنِي هَذَا عَلَى الْأُبُلَّةِ، فَقَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ نَبِيَّ اللهِ دَاوُدَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لِأَهْلِهِ فِي سَاعَةٍ مِنَ اللَّيْلِ: يَا آلَ دَاوُدَ قُومُوا فَصَلُّوا فَإِنَّ هَذِهِ سَاعَةٌ يُسْتَجَابُ فِيهَا الدُّعَاءُ إِلَّا لِسَاحِرٍ، أَوْ عَشَّارٍ " فَرَكِبَ سَفِينَةً مَكَانَهُ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى زِيَادٍ فَاسْتَعْفَاهُ
ترجمہ

حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: زیاد نے کلاب بن امیہ لیثی کو ابلہ پر مقرر کیا، تو سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے اور کہا: اے ابوہارون! تمہیں یہاں کس چیز نے بٹھا رکھا ہے؟ اس نے کہا: اس (زیاد) نے مجھے ابلہ پر بھیجا ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام رات کے ایک حصے میں اپنے گھر والوں سے فرماتے: اے آلِ داؤد! کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، کیونکہ یہ وہ گھڑی ہے جس میں دعا قبول کی جاتی ہے، سوائے جادوگر یا عشر وصول کرنے والے (ظالم اہلکار) کے۔“ چنانچہ وہ (کلاب) فوراً کشتی پر سوار ہوا، پھر زیاد کے پاس واپس گیا اور اس سے (اس عہدے سے) معافی مانگ لی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8342
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 55، حدیث 8374