کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: محمد بن سیرین کی سیدنا عثمان بن ابی عاص رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: ثنا شَبَابٌ الْعُصْفُرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ثنا هَارُونُ الْأَهْوَازِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ»
ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں تجھ سے فقر، قبر کے عذاب، زندگی کے فتنے اور موت کے فتنے سے پناہ مانگتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الَأَخْرَمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا أَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّهُ: " كَانَ يَسْتَحِبُّ الصَّوْمَ فِي السَّفَرِ، وَيَقُولُ: إِنَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً "
ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سفر میں روزہ رکھنا پسند فرماتے تھے، اور کہتے تھے: یہ (سفر میں روزہ نہ رکھنا) صرف ایک رخصت تھی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَزَّازُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: «الْإِفْطَارُ فِي السَّفَرِ رُخْصَةٌ»
ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”سفر میں روزہ نہ رکھنا ایک رخصت ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ نِصْفَ اللَّيْلِ فَيُنَادِي مُنَادٍ: هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابَ لَهُ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَيُعْطَى؟ هَلْ مِنْ مَكْرُوبٍ فَيُفَرَّجَ عَنْهُ؟، فَلَا يَبْقَى مُسْلِمٌ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللهُ لَهُ إِلَّا زَانِيَةٌ تَسْعَى بِفَرْجِهَا أَوْ عَشَّارٌ "
ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آدھی رات کو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، تو ایک منادی ندا دیتا ہے: ہے کوئی دعا مانگنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے؟ ہے کوئی سوال کرنے والا کہ اسے دیا جائے؟ ہے کوئی مصیبت زدہ کہ اس کی مصیبت دور کی جائے؟ تو کوئی مسلمان کوئی دعا نہیں مانگتا مگر اللہ اسے قبول فرما لیتا ہے، سوائے اس زانیہ عورت کے جو اپنی شرمگاہ (کے ذریعے کمائی) میں لگی رہے، یا عشر وصول کرنے والے (ظالم اہلکار) کے۔“