المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحسن بن أبي الحسن، عن عثمان بن أبي العاص باب: حسن بن ابی حسن کی سیدنا عثمان بن ابی عاص رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَامِرٍ، اسْتَعْمَلَ كِلَابَ بْنَ أُمَيَّةَ عَلَى الْأُبُلَّةِ، فَمَرَّ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ، فَقَالَ لَهُ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ: اسْتُعْمِلْتُ عَلَى الْأُبُلَّةِ، فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ فِي اللَّيْلِ سَاعَةً يُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ أُعْطِيَهُ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ؟ "
قَالَ: " وَإِنَّ دَاوُدَ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ: لَا يَسْأَلُ اللهَ اللَّيْلَةَ أَحَدٌ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِلَّا سَاحِرٌ، أَوْ عَشَّارٌ " فَرَكِبَ فِي قُرْقُورٍ فَأَتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عَامِرٍ فَقَالَ: «اقْبَلْ عَمَلَكَ فَإِنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ حَدَّثَنِي كَذَا وَكَذَا»حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عامر نے کلاب بن امیہ کو ابلہ پر عامل مقرر کیا، تو سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے، تو ان سے پوچھا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: مجھے ابلہ پر عامل بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں ایک بات نہ بتاؤں؟ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”رات میں ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے جس میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، تو (اللہ) فرماتا ہے: کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں؟ کیا کوئی پکارنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں؟“ (راوی نے) کہا: اور یہ کہ داؤد علیہ السلام ایک رات باہر نکلے اور فرمایا: آج رات جو بھی اللہ سے کچھ مانگے گا وہ اسے ضرور عطا کرے گا، سوائے جادوگر یا عشر وصول کرنے والے (ظالم اہلکار) کے۔ چنانچہ وہ (سننے والا) ایک چھوٹی کشتی پر سوار ہوا اور عبداللہ بن عامر کے پاس آیا اور کہا: اپنا کام (عہدہ) واپس لے لیجیے، کیونکہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ اور یہ بات بتائی ہے۔