حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ صَدَقَةَ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، قَالَ: «إِنَّ النَّاسَ شَجَرَةٌ ذَاتُ جَنى، وَيُوشِكُ أَنْ تَعُودُوا شَجَرَةً ذَاتَ شَوْكٍ، إِنْ نَاقَدْتَهُمْ نَاقَدُوكَ، وَإِنْ تَرَكْتَهُمْ لَمْ يَتْرُكُوكَ، وَإِنْ هَرَبْتَ مِنْهُمْ طَلَبُوكَ» . قَالَ: فَكَيْفَ الْمَخْرَجُ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «تُقْرِضُهُمْ مِنْ عِرْضِكَ لِيَوْمِ فَاقَتِكَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”لوگ ایک پھل دار درخت کی مانند ہیں، اور قریب ہے کہ تم کانٹے دار درخت بن جاؤ، اگر تم ان سے سختی سے پیش آؤ گے تو وہ بھی تم سے سختی کریں گے، اور اگر تم انہیں چھوڑ دو گے تو وہ تمہیں نہیں چھوڑیں گے، اور اگر تم ان سے بھاگو گے تو وہ تمہارا پیچھا کریں گے۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ، پھر اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی عزت میں سے کچھ برداشت کر کے انہیں قرض دو، اپنی ضرورت کے دن کے لیے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: «غَبْنُ الْمُسْتَرْسِلِ حَرَامٌ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”بھروسہ کرنے والے سادہ لوح خریدار کو دھوکہ دینا حرام ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا بِشْرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا بَكَّارُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ آَخَى بَيْنَ النَّاسِ، وَآخَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے درمیان بھائی چارہ کرایا، اور اپنے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان بھی بھائی چارہ قائم کیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ خَالَوَيْهِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، قَالَ: «مَنْ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فِي الْجَمَاعَةِ، فَهِي كَحَجَّةٍ، وَمَنْ مَشَى إِلَى صَلَاةِ تَطَوُّعٍ فَهِي كَعُمْرَةٍ تَامَّةٍ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی جماعت کے ساتھ فرض نماز کے لیے چل کر جائے تو یہ حج کی مانند ہے، اور جو نفل نماز کے لیے چل کر جائے تو یہ مکمل عمرے کی مانند ہے۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرٍو الْحِمْصِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، أَنَّهُمْ دَخَلُوا عَلَى أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: «مَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ، إِنْ تَوَفَّاهُ اللهُ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ، وَإِنْ رَدَّهُ رَدَّهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ» الْحَدِيثَ
ترجمہ
مکحول رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: وہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں نکلے وہ اللہ کے ذمے ہے، اگر اللہ اسے وفات دے دے تو اسے جنت میں داخل کرے، اور اگر اسے واپس لوٹا دے تو جو اجر یا غنیمت اسے ملی اسی کے ساتھ لوٹے۔“ (حدیث آگے بھی جاری ہے، ماخذ نے یہاں اختصار کیا ہے)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أُسَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَفْصٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: «أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو تجھ پر بھروسہ کرے اس کی امانت ادا کر، اور جو تیرے ساتھ خیانت کرے تُو اس کے ساتھ خیانت نہ کر۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْجَعْدِ الْوشا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَتَنَاشَدُونَ الْأَشْعَارَ، وَيَضْحَكُونَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ جَالِسٌ «يَبْتَسِمُ مَعَهُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے صحابہ آپس میں اشعار سناتے اور ہنستے تھے، اور رسول اللہ ﷺ بیٹھے ان کے ساتھ مسکراتے رہتے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «صَلَاةٌ عَلَى أَثَرِ صَلَاةٍ، لَا لَغْوٌ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ایک نماز کے بعد دوسری نماز، جن کے درمیان کوئی بےفائدہ بات نہ ہو، اس کا اجر علیین میں لکھا جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ، ثنا حَكِيمُ بْنُ خِذَامٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يُوتِرُ عَلَى بَعِيرِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اپنے اونٹ پر سوار ہو کر وتر پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا حَكِيمُ بْنُ خِذَامٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «وُضُوءُ النَّوْمِ أَنْ تَمَسَّ الْمَاءَ، ثُمَّ تَمَسَّحَ بِتِلْكَ الْمَسَّةِ وَجْهِكَ وَيَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ كَمَسْحَةِ التَّيَمُّمِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نیند کے لیے وضو یہ ہے کہ تُو پانی کو ہاتھ لگائے، پھر اسی ہاتھ سے اپنے چہرے، ہاتھوں اور پاؤں پر تیمم کے مسح کی طرح مسح کر لے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا حَكِيمُ بْنُ خِذَامٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «مَنْ عَفَا عِنْدَ قُدْرَةٍ، عَفَا اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْعُسْرَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قدرت رکھتے ہوئے معاف کیا، اللہ اسے تنگی کے دن معاف فرمائے گا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ غَانِمٍ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «أَقَلُّ الْحَيْضِ ثَلَاثٌ، وَأَكْثَرُهُ عَشْرٌ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”حیض کی کم از کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «أَمَّنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي قَطِيفَةٍ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهَا»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک کملی میں نماز پڑھائی جس کے دونوں کناروں کو آپس میں الٹ کر ڈال رکھا تھا۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، الْمُحَارِبِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «مَنْ تَعْلَمْ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ اسْتَقْبَلَتْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَضْحَكُ فِي وَجْهِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ عزوجل کی کتاب کی کوئی آیت سیکھی، وہ قیامت کے دن اس کے سامنے آئے گی، اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر مسکراتی ہوئی۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ الشَّامِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «أَيُّمَا نَاشِئٍ نَشَأَ عَلَى عِبَادَةِ اللهِ حَتَّى يَمُوتَ أَعْطَاهُ اللهُ أَجْرَ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ صِدِّيقًا»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو نوجوان اللہ کی عبادت پر پروان چڑھے یہاں تک کہ فوت ہو جائے، اللہ اسے ننانوے صدیقوں کا اجر عطا فرمائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ الْغَزِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ، ثنا مَرْزُوقُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحِمْصِيُّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «أَيُّمَا نَاشِئٍ نَشَأَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ وَالْعِبَادَةِ حَتَّى يُكْبُرَ، أَعْطَاهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَوَابَ اثْنَيْنِ وَسَبْعِينَ صِدِّيقًا»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو نوجوان علم کی طلب اور عبادت میں پروان چڑھے یہاں تک کہ بڑا ہو جائے، اللہ اسے قیامت کے دن بہتر صدیقوں کا ثواب عطا فرمائے گا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، وَالْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ خَامِشَاتِ الْوُجُوهِ، وَشَاقَّاتِ الْجُيُوبِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ماتم میں چہرے نوچنے والی اور گریبان چاک کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، وَالْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پھل کو اس وقت تک نہ بیچو جب تک اس کی پختگی ظاہر نہ ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكحُولٍ، وَالْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ أَنْ تُوطَأَ الْحَبَالَى حَتَّى يَضَعْنَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن حاملہ عورتوں سے، وضعِ حمل تک، ازدواجی تعلق قائم کرنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَكْحُولٍ، وَالْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، نَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّهَامُ حَتَّى تُقْسَمَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مالِ غنیمت کے حصوں کو تقسیم سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَكْحُولٍ، وَالْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُوصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمَوْشُومَةَ»
«وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ»
«وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی، اور گودنے والی اور گدوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
اور نبی کریم ﷺ نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
اور نبی کریم ﷺ نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الصَّابُونِيُّ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْمُونٍ الْأُبُلِّيُّ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ مَكْحُولٍ، ورَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ رَمَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ قَمِئَةَ بِحَجَرٍ يَوْمَ أُحُدٍ، فَشَجَّهُ فِي وَجْهِهِ، وَكَسَرَ رَبَاعِيَّتُهُ، وَقَالَ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ قَمِئَةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ: «مَا لَكَ، أَقْمَأَكَ اللهُ» . فَسَلَّطَ اللهُ عَلَيْهِ تَيْسَ جَبَلٍ، لَا تَيْسَ، فَلَمْ يَزَلْ يَنْطَحُهُ حَتَّى قَطَعَهُ قِطْعَةً قِطْعَةً
ترجمہ
…اس نے آپ ﷺ کے چہرے پر زخم لگایا اور آپ ﷺ کا دانتِ رباعی توڑ دیا، اور کہا: یہ لے لو، میں ابن قمئہ ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چہرے سے خون صاف کرتے ہوئے اس سے فرمایا: ”تجھے کیا ہوا، اللہ تجھے ذلیل کرے۔“ چنانچہ اللہ نے اس پر ایک پہاڑی بکرا مسلط کر دیا — کوئی عام بکرا نہیں — جو اسے مسلسل سینگ مارتا رہا یہاں تک کہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ دَاوُدَ الصَّوَّافُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، ومَكْحُولٌ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، أَنَّهُ لَمَّا رَمَاهُ ابْنُ قَمِئَةَ يَوْمَ أُحُدٍ، «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ إِذَا تَوَضَّأَ حَلَّ عَنْ عِصَابَةٍ، وَمَسَحَ عَلَيْهَا بِالْوُضُوءِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ابن قمئہ نے احد کے دن نبی کریم ﷺ کو زخمی کیا تو میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ جب وضو کرتے تو پٹی کھولتے اور وضو کے ساتھ اس پر مسح کر لیتے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْجَعْدِ الْوَشَّاءُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ كَانَ يَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فِي الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں جمائی لینا ناپسند فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ الدَّلَّالُ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنِ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ بَيْنِ عَيْنَيْ جَهَنَّمَ» فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، نُحَدِّثُ عَنْكَ بِالْحَدِيثِ نَزِيدُ وَنُنْقِصُ، قَالَ: «لَيْسَ ذَا أَعْنِيكُمْ إِنَّمَا أَعْنِي الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ مُتَحَدِّثًا، يَطْلُبُ بِهِ شَيْنَ الْإِسْلَامِ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ قُلْتَ: بَيْنَ عَيْنَيْ جَهَنَّمَ وَهَلْ لِجَهَنَّمَ عَيْنٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، أَمَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ: {إِذَا رَأَتْهُمْ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا} [الفرقان: ١٢] فَهَلْ تَرَاهُمْ إِلَّا بِعَيْنَيْنِ
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان بنا لے۔“ یہ بات صحابہ پر گراں گزری، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ہم تو آپ سے حدیث بیان کرتے ہوئے کبھی کمی بیشی کر بیٹھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری مراد تم نہیں، میری مراد تو وہ شخص ہے جو باتیں بناتے ہوئے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے، اور اس سے اسلام کو بدنام کرنا چاہے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، آپ نے فرمایا ’جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان‘، کیا جہنم کی آنکھ بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا: ’جب وہ انہیں دور جگہ سے دیکھے گی تو وہ اس کے غصے اور دھاڑ کی آواز سنیں گے‘ [سورۃ الفرقان: 12]، تو وہ انہیں دو آنکھوں کے بغیر کیسے دیکھے گی؟“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ النَّخَعِيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَانْقَطَعَ شِسْعُ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ هَذَا الشِّسْعُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «إِنَّهَا مُصِيبَةٌ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، تو آپ ﷺ کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انا للہ وانا الیہ راجعون۔“ ایک شخص نے کہا: یہ تو صرف تسمہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بھی ایک مصیبت ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ النَّخَعِيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وأَبِي أُمَامَةَ، ووَاثِلَةَ، قَالُوا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: «جَنِّبُوا مَسَاجِدَكُمْ صِبْيَانَكُمْ، وَمَجَانِينَكُمْ، وَخُصُومَاتِكُمْ، وَأَصْوَاتَكُمْ، وَسَلَّ سُيُوفِكُمْ، وَإِقَامَةَ حُدُودِكُمْ وَجَمِّرُوهَا فِي سَبْعٍ، وَاتَّخِذُوا عَلَى أَبْوَابِ مَسَاجِدِكُمِ الْمَطَاهِرَ»
ترجمہ
سیدنا ابو درداء، ابو امامہ اور واثلہ رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اپنی مسجدوں کو اپنے بچوں، اپنے پاگلوں، اپنے جھگڑوں، اپنی بلند آوازوں، تلواریں سونتنے اور حدیں قائم کرنے سے دور رکھو، اور انہیں سات دنوں میں ایک بار خوشبودار دھونی دو، اور اپنی مسجدوں کے دروازوں پر وضو خانے بناؤ۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُبَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَتَعَوَّذُ مِنْ مَوْتِ الْفَجْأَةِ، وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يُمَرَّضَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ اچانک موت سے پناہ مانگتے تھے، اور آپ ﷺ کو یہ بات پسند تھی کہ مرنے سے پہلے کچھ عرصہ بیمار رہا جائے۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا حَجَّاجٌ الْأَزْرَقُ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَتَعَوَّذُ مِنْ مَوْتِ الْفَجْأَةِ، وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يُمَرَّضَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ اچانک موت سے پناہ مانگتے تھے، اور آپ ﷺ کو یہ بات پسند تھی کہ مرنے سے پہلے کچھ عرصہ بیمار رہا جائے۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا حَجَّاجٌ الْأَزْرَقُ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ رُكْبَانًا، فَمَرَرْنَا بِهَجَمْةٍ، «فَقَالَ لِمَنْ هَذِهِ؟» قَالُوا: لِبَنِي الْعَنْبَرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «أُولَئِكَ قَوْمُنَا»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ سوار تھے کہ ہمارا گزر اونٹوں کے ایک بڑے ریوڑ پر ہوا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کس کے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: بنو عنبر کے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”وہ ہماری قوم میں سے ہیں۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، قَالَ: «اتَّقُوا الْبَوْلَ، فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ فِي الْقَبْرِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پیشاب سے بچو، کیونکہ یہ وہ پہلی چیز ہے جس کا حساب بندے سے قبر میں لیا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَكْرٍ السَّرَّاجِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُدْرِكٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «تَمَامُ الرِّبَاطِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَمَنْ رَابَطَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا لَمْ يَبِعْ وَلَمْ يَشْتَرِ، وَلَمْ يُحْدِثْ حَدَثًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سرحد کی مکمل پہرہ داری چالیس دن کی ہے، اور جس نے چالیس دن پہرہ داری کی، نہ خرید و فروخت کی اور نہ کوئی گناہ کیا، وہ اپنے گناہوں سے ایسے نکل جائے گا جیسے اس دن جب اسے اس کی ماں نے جنا تھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَكْرٍ السَّرَّاجُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «اتَّقُوا الْبَوْلَ، فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ فِي الْقَبْرِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پیشاب سے بچو، کیونکہ یہ وہ پہلی چیز ہے جس کا حساب بندے سے قبر میں لیا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّرَّاجِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «الصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَهُوَ حِصْنٌ مِنْ حصونِ الْمُؤْمِنِ، وَكُلُّ عَمِلٍ لِصَاحِبِهِ، وَالصِّيَامُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”روزہ ڈھال ہے، اور یہ مومن کے قلعوں میں سے ایک قلعہ ہے، ہر عمل کرنے والے کے لیے ہے، مگر روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ الْأُشْنَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «لَا تَسُبُّوا الْأَئِمَّةَ، وادْعُو اللهَ لَهُمْ، فَإِنَّ صَلَاحَهُمْ لَكُمْ صَلَاحٌ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حکمرانوں کو برا بھلا نہ کہو، بلکہ ان کے لیے اللہ سے دعا کرو، کیونکہ ان کی درستی تمہارے لیے بھی درستی ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، قَصَّرَ أَوْ بَلَغَ كُتِبَ لَهُ عِتْقُ رَقَبَةٍ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا، خواہ وہ کم پڑے یا نشانے تک پہنچے، اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب لکھ دیا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ عَشْرًا بِهَا مَلَكٌ مُوَكَّلٌ بِهَا حَتَّى يُبْلِغْنِيهَا»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا، اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا، اس درود پر ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ مجھے پہنچا دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ الطَّائِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ الطَّائِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي مَنْخِرَيِّ عَبْدٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کی گرد اور جہنم کا دھواں کسی بندے کے نتھنوں میں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔“
حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ جَابِرٍ اللَّخْمِيُّ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُنَبِّهُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْذِرِ، عَنْ مَكْحُولٍ، ويَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ يَعْنِي الذِّمَارِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ، وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَعْطَى لِلَّهِ، وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے لیے محبت کی، اللہ کے لیے بغض رکھا، اللہ کے لیے دیا، اور اللہ کے لیے روکا، اس نے ایمان کو مکمل کر لیا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غَيْلَانَ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ بِحِمْصَ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: «إِنَّ مَجْلِسَكُمْ هَذَا مِنْ إِبْلَاغِ اللهِ لَكُمْ، واحْتِجَاجِهِ عَلَيْكُمْ، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَدْ بَلَّغَ فَبَلِّغُوا»
ترجمہ
مکحول رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں، ابن ابی زکریا اور سلیمان بن حبیب سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے پاس حمص میں گئے، ہم نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے فرمایا: تمہاری یہ مجلس اللہ کی طرف سے تمہیں پیغام پہنچانے اور تم پر حجت قائم کرنے میں سے ہے، اور بےشک رسول اللہ ﷺ نے دین پہنچا دیا ہے، تو تم بھی آگے پہنچاؤ۔