المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مكحول الشامي، عن أبي أمامة باب: مکحول شامی کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 7544
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ صَدَقَةَ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، قَالَ: «إِنَّ النَّاسَ شَجَرَةٌ ذَاتُ جَنى، وَيُوشِكُ أَنْ تَعُودُوا شَجَرَةً ذَاتَ شَوْكٍ، إِنْ نَاقَدْتَهُمْ نَاقَدُوكَ، وَإِنْ تَرَكْتَهُمْ لَمْ يَتْرُكُوكَ، وَإِنْ هَرَبْتَ مِنْهُمْ طَلَبُوكَ» . قَالَ: فَكَيْفَ الْمَخْرَجُ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «تُقْرِضُهُمْ مِنْ عِرْضِكَ لِيَوْمِ فَاقَتِكَ»ترجمہ
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”لوگ ایک پھل دار درخت کی مانند ہیں، اور قریب ہے کہ تم کانٹے دار درخت بن جاؤ، اگر تم ان سے سختی سے پیش آؤ گے تو وہ بھی تم سے سختی کریں گے، اور اگر تم انہیں چھوڑ دو گے تو وہ تمہیں نہیں چھوڑیں گے، اور اگر تم ان سے بھاگو گے تو وہ تمہارا پیچھا کریں گے۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ، پھر اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی عزت میں سے کچھ برداشت کر کے انہیں قرض دو، اپنی ضرورت کے دن کے لیے۔“