المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مكحول الشامي، عن أبي أمامة باب: مکحول شامی کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ الدَّلَّالُ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنِ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ بَيْنِ عَيْنَيْ جَهَنَّمَ» فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، نُحَدِّثُ عَنْكَ بِالْحَدِيثِ نَزِيدُ وَنُنْقِصُ، قَالَ: «لَيْسَ ذَا أَعْنِيكُمْ إِنَّمَا أَعْنِي الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ مُتَحَدِّثًا، يَطْلُبُ بِهِ شَيْنَ الْإِسْلَامِ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ قُلْتَ: بَيْنَ عَيْنَيْ جَهَنَّمَ وَهَلْ لِجَهَنَّمَ عَيْنٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، أَمَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ: {إِذَا رَأَتْهُمْ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا} [الفرقان: ١٢] فَهَلْ تَرَاهُمْ إِلَّا بِعَيْنَيْنِسیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان بنا لے۔“ یہ بات صحابہ پر گراں گزری، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ہم تو آپ سے حدیث بیان کرتے ہوئے کبھی کمی بیشی کر بیٹھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری مراد تم نہیں، میری مراد تو وہ شخص ہے جو باتیں بناتے ہوئے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے، اور اس سے اسلام کو بدنام کرنا چاہے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، آپ نے فرمایا ’جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان‘، کیا جہنم کی آنکھ بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا: ’جب وہ انہیں دور جگہ سے دیکھے گی تو وہ اس کے غصے اور دھاڑ کی آواز سنیں گے‘ [سورۃ الفرقان: 12]، تو وہ انہیں دو آنکھوں کے بغیر کیسے دیکھے گی؟“