❮
❯
حدیث نمبر: 7568
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ الدَّلَّالُ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنِ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ بَيْنِ عَيْنَيْ جَهَنَّمَ» فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، نُحَدِّثُ عَنْكَ بِالْحَدِيثِ نَزِيدُ وَنُنْقِصُ، قَالَ: «لَيْسَ ذَا أَعْنِيكُمْ إِنَّمَا أَعْنِي الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ مُتَحَدِّثًا، يَطْلُبُ بِهِ شَيْنَ الْإِسْلَامِ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ قُلْتَ: بَيْنَ عَيْنَيْ جَهَنَّمَ وَهَلْ لِجَهَنَّمَ عَيْنٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، أَمَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ: {إِذَا رَأَتْهُمْ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا} [الفرقان: ١٢] فَهَلْ تَرَاهُمْ إِلَّا بِعَيْنَيْنِ
ترجمہ

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان بنا لے۔“ یہ بات صحابہ پر گراں گزری، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ہم تو آپ سے حدیث بیان کرتے ہوئے کبھی کمی بیشی کر بیٹھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری مراد تم نہیں، میری مراد تو وہ شخص ہے جو باتیں بناتے ہوئے مجھ پر جھوٹ باندھے، اور اس سے اسلام کو بدنام کرنا چاہے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، آپ نے فرمایا ’جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان‘، کیا جہنم کی آنکھ بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا: ’جب وہ انہیں دور جگہ سے دیکھے گی تو وہ اس کے غصے اور دھاڑ کی آواز سنیں گے‘ [سورۃ الفرقان: 12]، تو وہ انہیں دو آنکھوں کے بغیر کیسے دیکھے گی؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7568
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 131، حدیث 7599