کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وحَدَّثَنَا أَبُو أَيُّوبَ أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ نَادَى مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللهِ مَوْعِدًا يُرِيدُ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ، فَيَقُولُونَ: وَمَا هُوَ؟ أَلَمْ يُثَقِّلْ مَوَازِينَنَا، وَيُبَيِّضْ وُجُوهَنَا، وَأَدْخَلَنَا الْجَنَّةَ، وَأَخْرَجَنَا مِنَ النَّارِ. قَالَ: فَيُكْشَفُ الْحِجَابُ، فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَعْطَاهُمْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ "
ترجمہ
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اہل جنت جنت میں اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہو جائیں گے، تو ایک پکارنے والا پکارے گا: اے اہل جنت! تمہارے لیے اللہ کے پاس ایک وعدہ ہے جسے وہ تمہارے ساتھ پورا کرنا چاہتا ہے۔ تو وہ کہیں گے: وہ کیا ہے؟ کیا اس نے ہمارے پلڑوں کو بھاری نہیں کیا، اور ہمارے چہروں کو سفید نہیں کیا، اور ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا، اور ہمیں جہنم سے نہیں بچایا؟ فرمایا: تو پردہ اٹھا دیا جائے گا، تو وہ اللہ کی طرف دیکھیں گے، تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! انہیں اللہ کی طرف دیکھنے سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں دی گئی ہو گی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَرَأَ {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} [يونس: ٢٦] قَالَ: «إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ» ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”جن لوگوں نے نیکی کی، ان کے لیے نیکی کا بدلہ اور مزید ہے۔“ [سورۃ یونس: 26] پھر فرمایا: ”جب اہل جنت جنت میں داخل ہوں گے…“ پھر اسی طرح کی حدیث بیان کی جو اوپر گزری۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وسُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، كِلَاهُمَا عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «عَجِبْتُ مِنْ قَضَاءِ اللهِ لِلْمُسْلِمِ كُلُّهُ خَيْرٌ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ، فَشَكَرَ آجَرَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ فَصَبَرَ آجَرَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ» زَادَ فِيهِ حَمَّادٌ: «وَكُلُّ قَضَاءٍ قَضَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُسْلِمِ خَيْرٌ»
ترجمہ
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اللہ کے مسلمان کے لیے فیصلے پر تعجب ہے، سب کا سب اس کے لیے بھلائی ہے، اگر اسے خوشی پہنچے تو وہ شکر کرتا ہے، تو اللہ عزوجل اسے اجر دیتا ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے، تو اللہ عزوجل اسے اجر دیتا ہے۔“ حماد رحمہ اللہ نے اس میں یہ اضافہ کیا: ”اور اللہ عزوجل نے مسلمان کے لیے جو بھی فیصلہ کیا وہ بھلائی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعِشَاءِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَيْنَا بِوَجْهِهِ ضَاحِكًا، فَقَالَ: «أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ ضَحِكْتُ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «عَجِبْتُ مِنْ قَضَاءِ اللهِ لِلْعَبْدِ الْمُسْلِمِ، إِنَّ كُلَّ مَا قَضَى اللهُ لَهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ أَحَدٌ كُلُّ قَضَاءِ اللهِ لَهُ خَيْرٌ إِلَّا الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ»
ترجمہ
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء کی دو نمازوں میں سے ایک پڑھی، تو جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو ہماری طرف مسکراتے ہوئے متوجہ ہوئے، اور فرمایا: ”کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں کیوں ہنسا؟“ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اللہ کے مسلمان بندے کے لیے فیصلے پر تعجب ہے، اللہ نے اس کے لیے جو بھی فیصلہ کیا وہ بھلائی ہے، اور مسلمان بندے کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کے لیے اللہ کا ہر فیصلہ بھلائی ہو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنَّ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ صُهَيْبًا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ بِشَيْءٍ فِي أَيَّامِ حُنَيْنٍ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَا تَزَالُ تُحَرِّكُ شَفَتَيْكَ بِشَيْءٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، وَكُنْتَ لَا تَفْعَلُهُ، فَقَالَ: " إِنَّ نَبِيًّا كَانَ قَبْلَنَا أَعْجَبَتْهُ كَثْرَةُ أُمَّتِهِ، فَقَالَ: لَا يَدُومُ هَؤُلَاءِ - أَحْسَبُهُ قَالَ شَيْئًا - فَأَوْحَى الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ: أَنَّ خَيْرَ أُمَّتِكَ بَيْنَ إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ أُسَلِّطَ عَلَيْهِمُ الْمَوْتَ أَوِ الْعَدُوَّ أَوِ الْجُوعَ، فَعَرَضَ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ، فَقَالُوا: أَمَّا الْجُوعُ فَلَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ، وَلَا طَاقَةَ لَنَا بِالْعَدُوِّ، وَلَكِنِ الْمَوْتُ، فَمَاتَ مِنْهُمْ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ سَبْعُونَ أَلْفًا، وَأَنَا الْيَوْمَ أَقُولُ: اللهُمَّ بِكَ أُحَاوِلُ، وَبِكَ أُصَاوِلُ، وَبِكَ أُقَاتِلُ "
ترجمہ
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حنین کے دنوں میں صبح کی نماز پڑھنے کے بعد اپنے ہونٹوں کو کسی چیز کے ساتھ حرکت دیتے تھے، تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ صبح کی نماز کے بعد اپنے ہونٹوں کو کسی چیز کے ساتھ حرکت دیتے رہتے ہیں، حالانکہ آپ ایسا نہیں کرتے تھے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم سے پہلے ایک نبی تھے جنہیں اپنی امت کی کثرت پر خوشی ہوئی، تو انہوں نے کہا: یہ لوگ ہمیشہ نہیں رہیں گے — میرا خیال ہے کہ انہوں نے کچھ اور بھی کہا — تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی کی: تمہاری امت میں سے بہتر لوگوں کو تین باتوں میں سے ایک کا سامنا ہے: یا تو میں ان پر موت مسلط کر دوں، یا دشمن، یا بھوک۔ تو انہوں نے یہ بات ان کے سامنے پیش کی، تو انہوں نے کہا: بھوک کی ہمیں طاقت نہیں، اور دشمن کی بھی طاقت نہیں، لیکن موت (قبول ہے)۔ تو ان میں سے تین دنوں میں ستر ہزار لوگ فوت ہو گئے، اور میں آج کہتا ہوں: اے اللہ! تیری ہی مدد سے کوشش کرتا ہوں، اور تیری ہی مدد سے حملہ کرتا ہوں، اور تیری ہی مدد سے لڑتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ هَمَسَ - وَالْهَمْسُ فِي قَوْلِ بَعْضِهِمْ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ كَأَنَّهُ يَتَكَلَّمُ بِشَيْءٍ - فَقِيلَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّكَ إِذَا صَلَّيْتَ الْعَصْرَ هَمَسْتَ؟ فَقَالَ: " إِنَّ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَعْجَبَ بِأُمَّتِهِ، فَقَالَ: مَنْ يَقُومُ لِهَؤُلَاءِ؟ فَأَوْحَى الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ أَنْ خَيِّرْهُمْ بَيْنَ أَنْ أَنْتَقِمَ مِنْهُمْ، وَبَيْنَ أَنْ أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ فَاخْتَارُوا النِّقْمَةَ، فَسَلَّطَ عَلَيْهِمُ الْمَوْتَ، فَمَاتَ مِنْهُمْ فِي يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفًا "
قَالَ: فَكَانَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ الْآخَرِ قَالَ: " كَانَ مَلِكٌ مِنَ الْمُلُوكِ، وَكَانَ لِذَلِكَ الْمَلِكِ كَاهِنٌ يَتَكَهَّنُ لَهُ ، فَقَالَ ذَلِكَ الْكَاهِنُ: انْظُرُوا لِي غُلَامًا فَطِنًا، أَوْ قَالَ: لَقِنًا أُعَلِّمُهُ عِلْمِي هَذَا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ أَمُوتَ، فَيَنْقَطِعَ مِنْكُمْ هَذَا الْعِلْمُ، وَلَا يَكُونُ فِيكُمْ مَنْ يَعْلَمُهُ، فَنَظَرُوا لَهُ غُلَامًا عَلَى مَا وَصَفَ، وَأَمَرُوهُ أَنْ يَحْضُرَ ذَلِكَ الْكَاهِنَ، وَأَنْ يَخْتَلِفَ إِلَيْهِ قَالَ: وَكَانَ عَلَى طَرِيقِ الْغُلَامِ رَاهِبٌ فِي صَوْمَعَةٍ قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَحْسَبُ أَنَّ أَصْحَابَ الصَّوَامِعِ كَانُوا يَوْمَئِذٍ مُسْلِمِينَ، فَجَعَلَ الْغُلَامُ يَسْأَلُ ذَلِكَ الرَّاهِبَ كُلَّمَا مَرَّ بِهِ عَنْ دِينِهِ حَتَّى أَخْبَرهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَعْبُدُ اللهَ، وَجَعَلَ الْغُلَامُ يَمْكُثُ عِنْدَ الرَّاهِبِ، وَيُبْطِئُ عَلَى الْكَاهِنِ، فَأَرْسَلَ الْكَاهِنُ إِلَى أَهْلِ الْغُلَامِ أَنَّهُ لَا يَكَادُ يَحْضُرُنِي، فَأَخْبَرَ الْغُلَامُ الرَّاهِبَ بِذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ الرَّاهِبُ: إِذَا قَالَ لَكَ الْكَاهِنُ: أَيْنَ كُنْتَ؟ فَقُلْ: عِنْدَ أَهْلِي، وَإِذَا قَالَ لَكَ أَهْلُكَ: أَيْنَ كُنْتَ؟ فَقُلْ: عِنْدَ الْكَاهِنِ، فَبَيْنَمَا الْغُلَامُ عَلَى ذَلِكَ إِذْ مَرَّ بِجَمَاعَةٍ مِنَ النَّاسِ كَثِيرَةٍ قَدْ حَبَسَتْهُمْ دَابَّةٌ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ تِلْكَ الدَّابَّةَ كَانَتِ الْأَسَدَ، فَأَخَذَ الْغُلَامُ حَجَرًا فَقَالَ: اللهُمَّ إِنْ كَانَ مَا يَقُولُ الرَّاهِبُ حَقًّا، فَأَسْأَلُكَ أَنْ أَقْتُلَ هَذِهِ الدَّابَّةَ، وَإِنْ كَانَ مَا يَقُولُ الْكَاهِنُ حَقًّا أَنْ لَا أَقْتُلَهَا، ثُمَّ رَمَاهَا فَقَتَلَ الدَّابَّةَ، فَقَالَ النَّاسُ: مَنْ قَتَلَهَا؟ فَقَالُوا: الْغُلَامُ. فَفَزِعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَقَالُوا: قَدْ عَلِمَ هَذَا الْغُلَامُ عِلْمًا لَمْ يَعْلَمْهُ أَحَدٌ، فَسَمِعَ بِهِ أَعْمَى فَجَاءَهُ، فَقَالَ لَهُ الْأَعْمَى: إِنْ أَنْتَ رَدَدْتَ عَلَيَّ بَصَرِي، فَإِنَّ لَكَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لَهُ الْغُلَامُ: لَا أُرِيدُ مِنْكَ هَذَا، وَلَكِنْ أَرَأَيْتَ إِنْ رَجَعَ إِلَيْكَ بَصَرُكَ أَتُؤْمِنُ بِالَّذِي رَدَّهُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَدَعَا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَرَدَّ عَلَيْهِ بَصَرَهُ، فَآمَنَ الْأَعْمَى. فَبَلَغَ الْمَلِكَ أَمْرُهُمْ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ، فَقَالَ: لَاقْتُلَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْكُمْ قِتْلَةً لَا أَقْتُلُهَا صَاحِبَهَا. فَأَمَرَ بِالرَّاهِبِ وَبِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ أَعْمَى فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ عَلَى مَفْرِقِ أَحَدِهِمَا، فَقُتِلَ وَقَتَلَ الْآخَرَ بِقِتْلَةٍ أُخْرَى، ثُمَّ أَمَرَ بِالْغُلَامِ، فَقَالَ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا، فَأَلْقُوهُ مِنْ رَأْسِهِ، فَلَمَّا انْطَلَقُوا بِهِ إِلَى ذَلِكَ الْجَبَلِ، وَانْتَهَوْا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أَرَادُوا جَعَلُوا يَتَهَافَتُونَ مِنَ الْجَبَلِ، وَيَتَرَدَّوْنَ مِنْهُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلَّا الْغُلَامُ، ثُمَّ رَجَعَ الْغُلَامُ فَأَمَرَ بِهِ الْمَلِكُ، فَقَالَ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى الْبَحْرِ فَأَلْقُوهُ فِيهِ، فَانْطَلَقُوا بِهِ إِلَى الْبَحْرِ، فَغَرَّقَ اللهُ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ، وَأَنْجَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ الْغُلَامُ: إِنَّكَ لَنْ تَقْتُلَنِي حَتَّى تَصْلُبَنِي، ثُمَّ تَرْمِيَنِي، وَتَقُولَ إِذَا رَمَيْتَنِي: بِسْمِ اللهِ رَبِّ هَذَا الْغُلَامِ - أَوْ قَالَ: بِسْمِ اللهِ رَبِّ الْغُلَامِ - فَأَمَرَ بِهِ فَصُلِبَ، ثُمَّ قَالَ: بِسْمِ اللهِ رَبِّ الْغُلَامِ، فَوَضَعَ الْغُلَامُ يَدَهُ عَلَى صُدْغِهِ، ثُمَّ مَاتَ، فَقَالَ النَّاسُ: لَقَدْ عَلِمَ هَذَا الْغُلَامُ عِلْمًا مَا عَلِمَهُ أَحَدٌ، فَإِنَّا نُؤْمِنُ بِرَبِّ هَذَا الْغُلَامِ، فَقِيلَ لِلْمَلِكِ: أَجَزِعْتَ أَنْ خَالَفَكَ ثَلَاثَةٌ؟ فَهَذَا النَّاسُ كُلُّهُمْ قَدْ خَالَفُوكَ، فَخَدَّ أُخْدُودًا أَلْقَى فِيهَا الْحَطَبَ وَالنَّارَ، ثُمَّ جَمَعَ النَّاسَ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ رَجَعَ إِلَى دِينِهِ تَرَكْنَاهُ، وَمَنْ لَمْ يَرْجِعْ أَلْقَيْنَاهُ فِي هَذِهِ النَّارِ فَجَعَلَ يُلْقِيهِمْ فِي تِلْكَ الْأُخْدُودِ "، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ، النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ} [البروج: ٥] حَتَّى بَلَغَ {الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ} [البروج: ٨] فَذُكِرَ أَنَّ الْغُلَامَ أُخْرِجَ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى صُدْغِهِ، كَمَا وَضَعَهَا حِينَ قُتِلَ
قَالَ: فَكَانَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ الْآخَرِ قَالَ: " كَانَ مَلِكٌ مِنَ الْمُلُوكِ، وَكَانَ لِذَلِكَ الْمَلِكِ كَاهِنٌ يَتَكَهَّنُ لَهُ ، فَقَالَ ذَلِكَ الْكَاهِنُ: انْظُرُوا لِي غُلَامًا فَطِنًا، أَوْ قَالَ: لَقِنًا أُعَلِّمُهُ عِلْمِي هَذَا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ أَمُوتَ، فَيَنْقَطِعَ مِنْكُمْ هَذَا الْعِلْمُ، وَلَا يَكُونُ فِيكُمْ مَنْ يَعْلَمُهُ، فَنَظَرُوا لَهُ غُلَامًا عَلَى مَا وَصَفَ، وَأَمَرُوهُ أَنْ يَحْضُرَ ذَلِكَ الْكَاهِنَ، وَأَنْ يَخْتَلِفَ إِلَيْهِ قَالَ: وَكَانَ عَلَى طَرِيقِ الْغُلَامِ رَاهِبٌ فِي صَوْمَعَةٍ قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَحْسَبُ أَنَّ أَصْحَابَ الصَّوَامِعِ كَانُوا يَوْمَئِذٍ مُسْلِمِينَ، فَجَعَلَ الْغُلَامُ يَسْأَلُ ذَلِكَ الرَّاهِبَ كُلَّمَا مَرَّ بِهِ عَنْ دِينِهِ حَتَّى أَخْبَرهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَعْبُدُ اللهَ، وَجَعَلَ الْغُلَامُ يَمْكُثُ عِنْدَ الرَّاهِبِ، وَيُبْطِئُ عَلَى الْكَاهِنِ، فَأَرْسَلَ الْكَاهِنُ إِلَى أَهْلِ الْغُلَامِ أَنَّهُ لَا يَكَادُ يَحْضُرُنِي، فَأَخْبَرَ الْغُلَامُ الرَّاهِبَ بِذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ الرَّاهِبُ: إِذَا قَالَ لَكَ الْكَاهِنُ: أَيْنَ كُنْتَ؟ فَقُلْ: عِنْدَ أَهْلِي، وَإِذَا قَالَ لَكَ أَهْلُكَ: أَيْنَ كُنْتَ؟ فَقُلْ: عِنْدَ الْكَاهِنِ، فَبَيْنَمَا الْغُلَامُ عَلَى ذَلِكَ إِذْ مَرَّ بِجَمَاعَةٍ مِنَ النَّاسِ كَثِيرَةٍ قَدْ حَبَسَتْهُمْ دَابَّةٌ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ تِلْكَ الدَّابَّةَ كَانَتِ الْأَسَدَ، فَأَخَذَ الْغُلَامُ حَجَرًا فَقَالَ: اللهُمَّ إِنْ كَانَ مَا يَقُولُ الرَّاهِبُ حَقًّا، فَأَسْأَلُكَ أَنْ أَقْتُلَ هَذِهِ الدَّابَّةَ، وَإِنْ كَانَ مَا يَقُولُ الْكَاهِنُ حَقًّا أَنْ لَا أَقْتُلَهَا، ثُمَّ رَمَاهَا فَقَتَلَ الدَّابَّةَ، فَقَالَ النَّاسُ: مَنْ قَتَلَهَا؟ فَقَالُوا: الْغُلَامُ. فَفَزِعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَقَالُوا: قَدْ عَلِمَ هَذَا الْغُلَامُ عِلْمًا لَمْ يَعْلَمْهُ أَحَدٌ، فَسَمِعَ بِهِ أَعْمَى فَجَاءَهُ، فَقَالَ لَهُ الْأَعْمَى: إِنْ أَنْتَ رَدَدْتَ عَلَيَّ بَصَرِي، فَإِنَّ لَكَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لَهُ الْغُلَامُ: لَا أُرِيدُ مِنْكَ هَذَا، وَلَكِنْ أَرَأَيْتَ إِنْ رَجَعَ إِلَيْكَ بَصَرُكَ أَتُؤْمِنُ بِالَّذِي رَدَّهُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَدَعَا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَرَدَّ عَلَيْهِ بَصَرَهُ، فَآمَنَ الْأَعْمَى. فَبَلَغَ الْمَلِكَ أَمْرُهُمْ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ، فَقَالَ: لَاقْتُلَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْكُمْ قِتْلَةً لَا أَقْتُلُهَا صَاحِبَهَا. فَأَمَرَ بِالرَّاهِبِ وَبِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ أَعْمَى فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ عَلَى مَفْرِقِ أَحَدِهِمَا، فَقُتِلَ وَقَتَلَ الْآخَرَ بِقِتْلَةٍ أُخْرَى، ثُمَّ أَمَرَ بِالْغُلَامِ، فَقَالَ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا، فَأَلْقُوهُ مِنْ رَأْسِهِ، فَلَمَّا انْطَلَقُوا بِهِ إِلَى ذَلِكَ الْجَبَلِ، وَانْتَهَوْا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أَرَادُوا جَعَلُوا يَتَهَافَتُونَ مِنَ الْجَبَلِ، وَيَتَرَدَّوْنَ مِنْهُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلَّا الْغُلَامُ، ثُمَّ رَجَعَ الْغُلَامُ فَأَمَرَ بِهِ الْمَلِكُ، فَقَالَ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى الْبَحْرِ فَأَلْقُوهُ فِيهِ، فَانْطَلَقُوا بِهِ إِلَى الْبَحْرِ، فَغَرَّقَ اللهُ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ، وَأَنْجَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ الْغُلَامُ: إِنَّكَ لَنْ تَقْتُلَنِي حَتَّى تَصْلُبَنِي، ثُمَّ تَرْمِيَنِي، وَتَقُولَ إِذَا رَمَيْتَنِي: بِسْمِ اللهِ رَبِّ هَذَا الْغُلَامِ - أَوْ قَالَ: بِسْمِ اللهِ رَبِّ الْغُلَامِ - فَأَمَرَ بِهِ فَصُلِبَ، ثُمَّ قَالَ: بِسْمِ اللهِ رَبِّ الْغُلَامِ، فَوَضَعَ الْغُلَامُ يَدَهُ عَلَى صُدْغِهِ، ثُمَّ مَاتَ، فَقَالَ النَّاسُ: لَقَدْ عَلِمَ هَذَا الْغُلَامُ عِلْمًا مَا عَلِمَهُ أَحَدٌ، فَإِنَّا نُؤْمِنُ بِرَبِّ هَذَا الْغُلَامِ، فَقِيلَ لِلْمَلِكِ: أَجَزِعْتَ أَنْ خَالَفَكَ ثَلَاثَةٌ؟ فَهَذَا النَّاسُ كُلُّهُمْ قَدْ خَالَفُوكَ، فَخَدَّ أُخْدُودًا أَلْقَى فِيهَا الْحَطَبَ وَالنَّارَ، ثُمَّ جَمَعَ النَّاسَ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ رَجَعَ إِلَى دِينِهِ تَرَكْنَاهُ، وَمَنْ لَمْ يَرْجِعْ أَلْقَيْنَاهُ فِي هَذِهِ النَّارِ فَجَعَلَ يُلْقِيهِمْ فِي تِلْكَ الْأُخْدُودِ "، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ، النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ} [البروج: ٥] حَتَّى بَلَغَ {الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ} [البروج: ٨] فَذُكِرَ أَنَّ الْغُلَامَ أُخْرِجَ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى صُدْغِهِ، كَمَا وَضَعَهَا حِينَ قُتِلَ
ترجمہ
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ جب عصر کی نماز پڑھتے تو 'ہمس' فرماتے — اور 'ہمس' بعض کے قول میں یہ ہے کہ اپنے ہونٹوں کو اس طرح حرکت دینا جیسے کچھ کہہ رہے ہوں — تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے نبی! جب آپ عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو 'ہمس' فرماتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انبیاء میں سے ایک نبی کو اپنی امت پر خوشی ہوئی، تو انہوں نے کہا: ان کے لیے کون کھڑا ہو گا؟ تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی کی کہ انہیں اختیار دو، یا تو میں ان سے انتقام لوں، یا ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دوں، تو انہوں نے انتقام کو چن لیا، تو ان پر موت مسلط کر دی گئی، تو ان میں سے ایک دن میں ستر ہزار فوت ہو گئے۔“
راوی کہتے ہیں: تو آپ ﷺ جب یہ حدیث بیان فرماتے تو یہ دوسری حدیث بھی بیان فرماتے، فرمایا: ”بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا، اور اس بادشاہ کا ایک کاہن تھا جو اس کے لیے کہانت کرتا تھا، تو اس کاہن نے کہا: میرے لیے ایک ذہین لڑکا تلاش کرو، یا کہا: سمجھدار، تاکہ میں اسے اپنا یہ علم سکھاؤں، کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ میں مر جاؤں گا تو یہ علم تم میں سے منقطع ہو جائے گا، اور تم میں کوئی ایسا نہ رہے گا جو اسے جانتا ہو۔ تو انہوں نے اس کی بتائی ہوئی صفت والا ایک لڑکا تلاش کیا، اور اسے حکم دیا کہ وہ اس کاہن کے پاس حاضر ہوا کرے اور اس کے پاس آیا جایا کرے۔ راوی کہتے ہیں: اور لڑکے کے راستے میں ایک عبادت خانے میں ایک راہب رہتا تھا — معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں: اور میرا خیال ہے کہ اس وقت عبادت خانوں والے مسلمان ہوا کرتے تھے — تو لڑکا جب بھی راہب کے پاس سے گزرتا تو اس سے اس کے دین کے بارے میں پوچھتا، یہاں تک کہ اس نے اسے بتا دیا، تو اس نے کہا: میں تو صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں، تو لڑکا راہب کے پاس ٹھہرنے لگا، اور کاہن کے پاس دیر سے جانے لگا، تو کاہن نے لڑکے کے گھر والوں کو پیغام بھیجا کہ وہ میرے پاس مشکل سے حاضر ہوتا ہے، تو لڑکے نے یہ بات راہب کو بتائی، تو راہب نے اس سے کہا: جب کاہن تم سے پوچھے: کہاں تھے؟ تو کہو: اپنے گھر والوں کے پاس، اور جب تمہارے گھر والے تم سے پوچھیں: کہاں تھے؟ تو کہو: کاہن کے پاس۔ تو لڑکا اسی حال میں تھا کہ اس کا گزر لوگوں کے ایک بڑے مجمع کے پاس سے ہوا جنہیں ایک جانور نے روک رکھا تھا، تو کچھ لوگوں نے کہا: وہ جانور شیر تھا۔ تو لڑکے نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا: اے اللہ! اگر راہب کی بات حق ہے تو میں تجھ سے یہ جانور مارنے کی درخواست کرتا ہوں، اور اگر کاہن کی بات حق ہے تو میں اسے نہ ماروں۔ پھر اسے مارا تو جانور مر گیا، تو لوگوں نے کہا: اسے کس نے مارا؟ تو انہوں نے کہا: لڑکے نے۔ تو لوگ اس کے پاس گھبرا کر آئے، اور کہا: اس لڑکے نے ایسا علم سیکھ لیا ہے جو کسی نے نہیں سیکھا۔ تو ایک اندھے نے یہ بات سنی، تو وہ اس کے پاس آیا، تو اندھے نے اس سے کہا: اگر تم میری بینائی لوٹا دو تو تمہیں فلاں فلاں چیز ملے گی۔ تو لڑکے نے اس سے کہا: مجھے تم سے یہ نہیں چاہیے، لیکن یہ بتاؤ اگر تمہاری بینائی تمہیں واپس مل جائے تو کیا تم اس ذات پر ایمان لاؤ گے جس نے یہ واپس دی؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ تو اس نے اللہ عزوجل سے دعا کی، تو اس کی بینائی واپس آ گئی، تو اندھا ایمان لے آیا۔ تو یہ بات بادشاہ تک پہنچی، تو اس نے انہیں بلایا، تو انہیں لایا گیا، تو اس نے کہا: میں تم میں سے ہر ایک کو ایسی موت دوں گا جس سے دوسرے کو نہ ماروں گا۔ تو اس نے راہب اور اس شخص کے بارے میں حکم دیا جو اندھا تھا، تو ایک کے سر کے بیچ پر آرا رکھا گیا، تو وہ قتل ہو گیا، اور دوسرے کو دوسری طرح قتل کیا، پھر لڑکے کے بارے میں حکم دیا، تو کہا: اسے فلاں فلاں پہاڑ کی طرف لے جاؤ، اور اسے اس کی چوٹی سے گرا دو۔ تو جب وہ اسے اس پہاڑ کی طرف لے گئے، اور اس جگہ پہنچے جو انہوں نے چاہی، تو وہ خود پہاڑ سے گرنے لگے اور اس سے لڑھکنے لگے، یہاں تک کہ لڑکے کے سوا کوئی باقی نہ رہا، پھر لڑکا واپس آیا، تو بادشاہ نے اس کے بارے میں حکم دیا، تو کہا: اسے سمندر کی طرف لے جاؤ اور اسے اس میں ڈال دو، تو وہ اسے سمندر کی طرف لے گئے، تو اللہ نے ان لوگوں کو غرق کر دیا جو اس کے ساتھ تھے، اور اسے نجات دی، تو لڑکے نے کہا: تم مجھے قتل نہیں کر سکتے یہاں تک کہ تم وہ کرو جو میں تمہیں حکم دوں، پھر مجھے پھانسی دو، پھر مجھے تیر مارو، اور جب مجھے تیر مارو تو کہو: 'اللہ کے نام سے، اس لڑکے کے رب کی قسم' — یا کہا: 'اللہ کے نام سے، لڑکے کے رب کی قسم' — تو اس کے بارے میں حکم دیا گیا تو اسے سولی پر چڑھایا گیا، پھر کہا: 'اللہ کے نام سے، لڑکے کے رب کی قسم'، تو لڑکے نے اپنا ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھا، پھر مر گیا، تو لوگوں نے کہا: اس لڑکے نے ایسا علم سیکھا جو کسی نے نہیں سیکھا، پس ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لاتے ہیں۔ تو بادشاہ سے کہا گیا: کیا تم بے چین ہوئے کہ تین لوگوں نے تمہاری مخالفت کی؟ اب تو یہ سب لوگ تمہاری مخالفت کر چکے۔ تو اس نے ایک خندق کھودی، اس میں لکڑی اور آگ ڈالی، پھر لوگوں کو جمع کیا، پھر کہا: جو اپنے دین کی طرف لوٹ آئے، ہم اسے چھوڑ دیں گے، اور جو نہ لوٹے، ہم اسے اس آگ میں ڈال دیں گے۔ تو وہ انہیں اس خندق میں ڈالنے لگا۔“ اور یہی اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ”ہلاک ہو جائیں خندق والے، جلتی آگ والے“ [سورۃ البروج: 4-5] یہاں تک کہ ”عزیز و حمید“ [سورۃ البروج: 8] تک۔ اور ذکر کیا گیا ہے کہ وہ لڑکا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نکالا گیا، اس حال میں کہ اس کا ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھا تھا، جیسے اس نے قتل کیے جانے کے وقت رکھا تھا۔
راوی کہتے ہیں: تو آپ ﷺ جب یہ حدیث بیان فرماتے تو یہ دوسری حدیث بھی بیان فرماتے، فرمایا: ”بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا، اور اس بادشاہ کا ایک کاہن تھا جو اس کے لیے کہانت کرتا تھا، تو اس کاہن نے کہا: میرے لیے ایک ذہین لڑکا تلاش کرو، یا کہا: سمجھدار، تاکہ میں اسے اپنا یہ علم سکھاؤں، کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ میں مر جاؤں گا تو یہ علم تم میں سے منقطع ہو جائے گا، اور تم میں کوئی ایسا نہ رہے گا جو اسے جانتا ہو۔ تو انہوں نے اس کی بتائی ہوئی صفت والا ایک لڑکا تلاش کیا، اور اسے حکم دیا کہ وہ اس کاہن کے پاس حاضر ہوا کرے اور اس کے پاس آیا جایا کرے۔ راوی کہتے ہیں: اور لڑکے کے راستے میں ایک عبادت خانے میں ایک راہب رہتا تھا — معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں: اور میرا خیال ہے کہ اس وقت عبادت خانوں والے مسلمان ہوا کرتے تھے — تو لڑکا جب بھی راہب کے پاس سے گزرتا تو اس سے اس کے دین کے بارے میں پوچھتا، یہاں تک کہ اس نے اسے بتا دیا، تو اس نے کہا: میں تو صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں، تو لڑکا راہب کے پاس ٹھہرنے لگا، اور کاہن کے پاس دیر سے جانے لگا، تو کاہن نے لڑکے کے گھر والوں کو پیغام بھیجا کہ وہ میرے پاس مشکل سے حاضر ہوتا ہے، تو لڑکے نے یہ بات راہب کو بتائی، تو راہب نے اس سے کہا: جب کاہن تم سے پوچھے: کہاں تھے؟ تو کہو: اپنے گھر والوں کے پاس، اور جب تمہارے گھر والے تم سے پوچھیں: کہاں تھے؟ تو کہو: کاہن کے پاس۔ تو لڑکا اسی حال میں تھا کہ اس کا گزر لوگوں کے ایک بڑے مجمع کے پاس سے ہوا جنہیں ایک جانور نے روک رکھا تھا، تو کچھ لوگوں نے کہا: وہ جانور شیر تھا۔ تو لڑکے نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا: اے اللہ! اگر راہب کی بات حق ہے تو میں تجھ سے یہ جانور مارنے کی درخواست کرتا ہوں، اور اگر کاہن کی بات حق ہے تو میں اسے نہ ماروں۔ پھر اسے مارا تو جانور مر گیا، تو لوگوں نے کہا: اسے کس نے مارا؟ تو انہوں نے کہا: لڑکے نے۔ تو لوگ اس کے پاس گھبرا کر آئے، اور کہا: اس لڑکے نے ایسا علم سیکھ لیا ہے جو کسی نے نہیں سیکھا۔ تو ایک اندھے نے یہ بات سنی، تو وہ اس کے پاس آیا، تو اندھے نے اس سے کہا: اگر تم میری بینائی لوٹا دو تو تمہیں فلاں فلاں چیز ملے گی۔ تو لڑکے نے اس سے کہا: مجھے تم سے یہ نہیں چاہیے، لیکن یہ بتاؤ اگر تمہاری بینائی تمہیں واپس مل جائے تو کیا تم اس ذات پر ایمان لاؤ گے جس نے یہ واپس دی؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ تو اس نے اللہ عزوجل سے دعا کی، تو اس کی بینائی واپس آ گئی، تو اندھا ایمان لے آیا۔ تو یہ بات بادشاہ تک پہنچی، تو اس نے انہیں بلایا، تو انہیں لایا گیا، تو اس نے کہا: میں تم میں سے ہر ایک کو ایسی موت دوں گا جس سے دوسرے کو نہ ماروں گا۔ تو اس نے راہب اور اس شخص کے بارے میں حکم دیا جو اندھا تھا، تو ایک کے سر کے بیچ پر آرا رکھا گیا، تو وہ قتل ہو گیا، اور دوسرے کو دوسری طرح قتل کیا، پھر لڑکے کے بارے میں حکم دیا، تو کہا: اسے فلاں فلاں پہاڑ کی طرف لے جاؤ، اور اسے اس کی چوٹی سے گرا دو۔ تو جب وہ اسے اس پہاڑ کی طرف لے گئے، اور اس جگہ پہنچے جو انہوں نے چاہی، تو وہ خود پہاڑ سے گرنے لگے اور اس سے لڑھکنے لگے، یہاں تک کہ لڑکے کے سوا کوئی باقی نہ رہا، پھر لڑکا واپس آیا، تو بادشاہ نے اس کے بارے میں حکم دیا، تو کہا: اسے سمندر کی طرف لے جاؤ اور اسے اس میں ڈال دو، تو وہ اسے سمندر کی طرف لے گئے، تو اللہ نے ان لوگوں کو غرق کر دیا جو اس کے ساتھ تھے، اور اسے نجات دی، تو لڑکے نے کہا: تم مجھے قتل نہیں کر سکتے یہاں تک کہ تم وہ کرو جو میں تمہیں حکم دوں، پھر مجھے پھانسی دو، پھر مجھے تیر مارو، اور جب مجھے تیر مارو تو کہو: 'اللہ کے نام سے، اس لڑکے کے رب کی قسم' — یا کہا: 'اللہ کے نام سے، لڑکے کے رب کی قسم' — تو اس کے بارے میں حکم دیا گیا تو اسے سولی پر چڑھایا گیا، پھر کہا: 'اللہ کے نام سے، لڑکے کے رب کی قسم'، تو لڑکے نے اپنا ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھا، پھر مر گیا، تو لوگوں نے کہا: اس لڑکے نے ایسا علم سیکھا جو کسی نے نہیں سیکھا، پس ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لاتے ہیں۔ تو بادشاہ سے کہا گیا: کیا تم بے چین ہوئے کہ تین لوگوں نے تمہاری مخالفت کی؟ اب تو یہ سب لوگ تمہاری مخالفت کر چکے۔ تو اس نے ایک خندق کھودی، اس میں لکڑی اور آگ ڈالی، پھر لوگوں کو جمع کیا، پھر کہا: جو اپنے دین کی طرف لوٹ آئے، ہم اسے چھوڑ دیں گے، اور جو نہ لوٹے، ہم اسے اس آگ میں ڈال دیں گے۔ تو وہ انہیں اس خندق میں ڈالنے لگا۔“ اور یہی اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ”ہلاک ہو جائیں خندق والے، جلتی آگ والے“ [سورۃ البروج: 4-5] یہاں تک کہ ”عزیز و حمید“ [سورۃ البروج: 8] تک۔ اور ذکر کیا گیا ہے کہ وہ لڑکا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نکالا گیا، اس حال میں کہ اس کا ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھا تھا، جیسے اس نے قتل کیے جانے کے وقت رکھا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ اللَّاحِقِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: " كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مَلِكٌ لَهُ سَاحِرٌ، فَلَمَّا كَبِرَ السَّاحِرُ، قَالَ لِلْمَلِكِ: إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ، فَادْفَعْ إِلَيَّ غُلَامًا أُعَلِّمْهُ السِّحْرَ، فَدَفَعَ إِلَيْهِ غُلَامًا، وَكَانَ يُعَلِّمُهُ السِّحْرَ، وَكَانَ بَيْنَ الْمَلِكِ وَبَيْنَ السَّاحِرِ رَاهِبٌ، فَسَمِعَ الْغُلَامُ مِنْ كَلَامِهِ فَأَعْجَبَهُ نَحْوَهُ وَكَلَامَهُ، فَكَانَ إِذَا أَتَى السَّاحِرَ جَلَسَ عِنْدَ الرَّاهِبِ، فَإِذَا أَتَى السَّاحِرَ ضَرَبَهُ يَقُولُ: مَا حَبَسَكَ؟ وَإِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ قَعَدَ عِنْدَ الرَّاهِبِ، فَإِذَا ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ يَقُولُونَ: مَا يَحْبِسُكَ؟ فَيَضْرِبُونَهُ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى الرَّاهِبِ، وَقَالَ: إِذَا أَرَادَ السَّاحِرُ أَنْ يَضْرِبَكَ، فَقُلْ: حَبَسَنِي أَهْلِي، وَإِذَا أَرَادَ أَهْلُكَ أَنْ يَضْرِبُوكَ، فَقُلْ: حَبَسَنِي السَّاحِرُ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ، فَأَتَى يَوْمًا عَلَى دَابَّةٍ عَظِيمَةٍ قَدْ حَبَسَتِ النَّاسَ أَنْ يَجُوزُوهَا، فَقَالَ: الْيَوْمَ أَعْلَمُ أَمْرُ السَّاحِرِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ، أَوْ أَمْرُ الرَّاهِبِ، فَأَخَذَ حَجَرًا فَقَالَ: بِسْمِ اللهِ اللهُمَّ، إِنْ كَانَ أَمْرُ الرَّاهِبِ أَحَبَّ إِلَيْكَ وَأَفْضَلَ، فَاقْتُلْ هَذِهِ الدَّابَّةَ فَرَمَاهَا فَقَتَلَهَا، وَذَهَبَ النَّاسُ، فَبَلَغَ الرَّاهِبَ، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، أَنْتَ أَفْضَلُ مِنِّي، وَإِنَّكَ سَتُبْتَلَى، فَإِنِ ابْتُلِيتَ فَلَا تَدُلَّ عَلَيَّ، وَكَانَ الْغُلَامُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ، وَالْأَبْرَصَ، وَهَذِهِ الْأَدْوَاءَ، وَكَانَ لِلْمَلِكِ جَلِيسٌ، فَعَمِيَ فَسَمِعَ بِهِ فَأَتَاهُ بِهَدَايَا كَثِيرَةٍ، فَقَالَ: اشْفِنِي وَلَكَ مَا هَهُنَا، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَشْفِي أَحَدًا، إِنَّمَا يَشْفِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ آمَنْتَ بِاللهِ شَفَاكَ، فَآمَنَ بِهِ فَدَعَا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَبَرَأَ، فَأَخَذَ الْأَعْمَى، فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبُهُ حَتَّى دَلَّهُ عَلَى الْغُلَامِ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ: أَلَكَ رَبٌّ غَيْرِي؟ فَقَالَ: نَعَمْ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللهُ. فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى دَلَّهُ عَلَى الرَّاهِبِ فَأَخَذَهُ بِالْعَذَابِ، فَقَالَ: ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ. فَأَبَى فَأَمَرَ بِالْمِنْشَارِ فَوُضِعَ عَلَى مَفْرِقِ رَأْسِهِ فَشَقُّوهُ، وَقَالَ لِلْأَعْمَى: ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ فَأَبَى فَوَضَعَ الْمِنْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ عَلَى الْأَرْضِ، فَقِيلَ لِلْغُلَامِ: ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ فَأَبَى فَبَعَثَ بِهِ فِي نَفَرٍ إِلَى جَبَلٍ، فَقَالَ: اصْعَدُوا بِهِ جَبَلَ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا بَلَغَ ذُرْوَتَهُ، فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ، وَإِلَّا فَدَهْدِهُوهُ ". قَالَ: " فَذَهَبَ بِهِ إِلَى الْجَبَلِ، فَلَمَّا بَلَغَ ذُرْوَتَهُ قَالَ: اللهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ، فَزَحَقَ بِهِمُ الْجَبَلُ، فَذَهَبُوا أَجْمَعُونَ، وَجَاءَ الْغُلَامُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى الْمَلِكِ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ؟ قَالَ؟ كَفَانِيهِمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَبَعَثَ بِهِمْ فِي نَفَرٍ فِي قُرْقُورَةٍ، فَقَالَ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى الْبَحْرِ، فَإِذَا تَوَسَّطْتُمْ بِهِ الْبَحْرَ، فَإِنْ رَجَعَ، وَإِلَّا فَغَرِّقُوهُ، فَذَهَبُوا بِهِ، فَلَمَّا لَجَجُوا بِهِ قَالَ: اللهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ، فَغَرِقُوا أَجْمَعُونَ، وَجَاءَ الْغُلَامُ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ؟ فَقَالَ: كَفَانِيهِمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ. فَقَالَ لِلْمَلِكِ: إِنَّكَ لَسْتَ بِقَاتِلِي حَتَّى تَفْعَلَ مَا آمُرُكَ بِهِ، فَإِنْ أَنْتَ فَعَلْتَ قَتَلْتَنِي. قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: تَجْمَعُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ تَأْخُذُ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِكَ، فَتَقُولُ: بِسْمِ اللهِ رَبِّ الْغُلَامِ، ثُمَّ تَرْمِينِيهِ، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ سَتَقْتُلُنِي، فَفَعَلَ فَوَضَعَ السَّهْمَ، فَقَالَ: بِسْمِ اللهِ رَبِّ الْغُلَامِ، فَوَقَعَ السَّهْمُ فِي صُدْغِهِ، فَوَضَعَ الْغُلَامُ يَدَهُ فِي مَوْضِعِ السَّهْمِ، فَمَاتَ الْغُلَامُ، فَقَالَ النَّاسُ: آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ ثَلَاثًا، فَقِيلَ لَهُ: أَرَأَيْتَ مَا كُنْتَ تَحْذَرُ، فَقَدْ وَاللهِ نَزَلَ بِكَ قَدْ آمَنَ النَّاسُ كُلُّهُمْ، فَأَمَرَ بِأَفْوَاهِ السِّكَكِ فَخُدَّتْ فِيهَا الْأُخْدُودُ، فَقَالَ: مَنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ، وَإِلَّا فَأَقْحِمُوهُ فِيهَا "
ترجمہ
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم سے پہلے کے لوگوں میں ایک بادشاہ تھا، اس کا ایک جادوگر تھا، تو جب جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا: میں بوڑھا ہو گیا ہوں، تو میرے پاس ایک لڑکا بھیج دو تاکہ میں اسے جادو سکھاؤں۔ تو اس نے ایک لڑکا اس کے حوالے کیا، اور وہ اسے جادو سکھانے لگا، اور بادشاہ اور جادوگر کے درمیان ایک راہب تھا، تو لڑکے نے اس کی باتیں سنیں تو اس کا انداز اور اس کی باتیں اسے پسند آئیں، تو جب بھی وہ جادوگر کے پاس جاتا تو راہب کے پاس بیٹھتا، تو جب وہ جادوگر کے پاس دیر سے جاتا تو وہ اسے مارتا اور کہتا: تمہیں کس چیز نے روکا؟ اور جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاتا تو راہب کے پاس بیٹھتا، تو جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس جاتا تو وہ کہتے: تمہیں کس چیز نے روکا؟ اور اسے مارتے، تو اس نے اس بات کی شکایت راہب سے کی، تو راہب نے کہا: جب جادوگر تمہیں مارنا چاہے تو کہو: مجھے میرے گھر والوں نے روکا، اور جب تمہارے گھر والے تمہیں مارنا چاہیں تو کہو: مجھے جادوگر نے روکا۔ کہتے ہیں: تو وہ اسی حال میں تھا کہ ایک دن اس کا گزر ایک بڑے جانور سے ہوا جس نے لوگوں کو گزرنے سے روک رکھا تھا، تو اس نے کہا: آج مجھے معلوم ہو جائے گا کہ جادوگر کا معاملہ اللہ کو زیادہ محبوب ہے یا راہب کا؟ تو اس نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا: اللہ کے نام سے، اے اللہ! اگر راہب کا معاملہ تجھے زیادہ محبوب اور بہتر ہے تو اس جانور کو مار دے، تو اسے مارا تو وہ مر گیا، اور لوگ چلے گئے، تو یہ بات راہب کو پہنچی، تو اس نے کہا: بیٹا، تم مجھ سے بہتر ہو، اور تمہیں ضرور آزمائش میں ڈالا جائے گا، تو اگر تمہیں آزمایا جائے تو میرا پتا نہ بتانا۔ اور لڑکا اندھے اور کوڑھی کو اور ان جیسی بیماریوں والوں کو شفا دینے لگا، اور بادشاہ کا ایک ہم نشین تھا، تو وہ اندھا ہو گیا، تو اس نے سنا، تو وہ بہت سے تحفے لے کر اس کے پاس آیا، اور کہا: مجھے شفا دو، اور جو کچھ یہاں ہے وہ تمہارا ہے۔ تو اس نے کہا: میں کسی کو شفا نہیں دیتا، صرف اللہ عزوجل شفا دیتا ہے، تو اگر تم اللہ پر ایمان لاؤ تو وہ تمہیں شفا دے گا۔ تو وہ اس پر ایمان لے آیا، تو اللہ عزوجل نے اسے شفا دی، تو وہ صحت یاب ہو گیا، تو بادشاہ نے اندھے کو پکڑا، اور اسے مسلسل تکلیف دیتا رہا یہاں تک کہ اس نے لڑکے کا پتا بتا دیا، تو بادشاہ نے اس سے کہا: کیا میرے سوا تمہارا کوئی اور رب ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میرا اور تمہارا رب اللہ ہے۔ تو وہ اسے مسلسل تکلیف دیتا رہا یہاں تک کہ اس نے راہب کا پتا بتا دیا، تو اسے عذاب میں پکڑا، تو کہا: اپنے دین سے پھر جاؤ۔ تو اس نے انکار کیا، تو اس نے آرا منگوایا، تو اسے اس کے سر کے بیچ پر رکھا گیا تو اسے چیر ڈالا، اور اندھے سے کہا: اپنے دین سے پھر جاؤ، تو اس نے انکار کیا، تو آرا اس کے سر کے بیچ پر رکھا یہاں تک کہ اس کے دونوں حصے زمین پر آ گرے۔ تو لڑکے سے کہا گیا: اپنے دین سے پھر جاؤ، تو اس نے انکار کیا، تو اسے کچھ لوگوں کے ساتھ ایک پہاڑ کی طرف بھیجا، کہا: اسے فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھاؤ، تو جب اس کی چوٹی پر پہنچو تو اگر وہ اپنے دین سے پھر جائے (تو اسے چھوڑ دو)، ورنہ اسے لڑھکا دو۔ کہتے ہیں: تو وہ اسے پہاڑ کی طرف لے گئے، تو جب اس کی چوٹی پر پہنچے تو لڑکے نے کہا: اے اللہ! جیسے تو چاہے مجھے ان سے بچا لے۔ تو پہاڑ ان کے ساتھ لرز گیا، تو وہ سب گر گئے، اور لڑکا آیا یہاں تک کہ بادشاہ کے پاس داخل ہوا، تو اس نے کہا: تمہارے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: اللہ عزوجل نے مجھے ان سے بچا لیا۔ تو اس نے اسے کچھ لوگوں کے ساتھ ایک کشتی میں بھیجا، کہا: اسے سمندر لے جاؤ، تو جب سمندر کے بیچ پہنچو تو اگر وہ پھر جائے (تو ٹھیک) ورنہ اسے غرق کر دو۔ تو وہ اسے لے گئے، تو جب وہ بیچ سمندر پہنچے تو لڑکے نے کہا: اے اللہ! جیسے تو چاہے مجھے ان سے بچا لے۔ تو وہ سب غرق ہو گئے، اور لڑکا آیا، تو اس نے کہا: تمہارے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: اللہ عزوجل نے مجھے ان سے بچا لیا۔ تو اس نے بادشاہ سے کہا: تم مجھے قتل نہیں کر سکتے یہاں تک کہ تم وہ کرو جس کا میں تمہیں حکم دوں، اگر تم نے ایسا کیا تو مجھے قتل کر دو گے۔ اس نے کہا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: تم لوگوں کو ایک ہی میدان میں جمع کرو، پھر اپنے ترکش سے ایک تیر لو، پھر کہو: 'اللہ کے نام سے، لڑکے کے رب کی قسم'، پھر مجھے مارو، تو اگر تم نے ایسا کیا تو مجھے قتل کر دو گے۔ تو اس نے ایسا کیا، تیر رکھا، پھر کہا: 'اللہ کے نام سے، لڑکے کے رب کی قسم'، تو تیر اس کی کنپٹی میں لگا، تو لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر کی جگہ پر رکھا، تو لڑکا مر گیا، تو لوگوں نے کہا: ہم لڑکے کے رب پر ایمان لائے — تین بار۔ تو بادشاہ سے کہا گیا: کیا تم دیکھتے ہو جس چیز سے تم ڈرتے تھے، اللہ کی قسم! وہی تم پر نازل ہوا، سب لوگ ایمان لے آئے۔ تو اس نے راستوں کے سروں پر خندقیں کھدوائیں، تو کہا: جو اپنے دین سے پھر جائے، ورنہ اسے اس میں دھکیل دو۔“