حدیث نمبر: 7286
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعِشَاءِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَيْنَا بِوَجْهِهِ ضَاحِكًا، فَقَالَ: «أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ ضَحِكْتُ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «عَجِبْتُ مِنْ قَضَاءِ اللهِ لِلْعَبْدِ الْمُسْلِمِ، إِنَّ كُلَّ مَا قَضَى اللهُ لَهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ أَحَدٌ كُلُّ قَضَاءِ اللهِ لَهُ خَيْرٌ إِلَّا الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ»
ترجمہ

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء کی دو نمازوں میں سے ایک پڑھی، تو جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو ہماری طرف مسکراتے ہوئے متوجہ ہوئے، اور فرمایا: ”کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں کیوں ہنسا؟“ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اللہ کے مسلمان بندے کے لیے فیصلے پر تعجب ہے، اللہ نے اس کے لیے جو بھی فیصلہ کیا وہ بھلائی ہے، اور مسلمان بندے کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کے لیے اللہ کا ہر فیصلہ بھلائی ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7286
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 40، حدیث 7317