حدیث نمبر: 5606
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ أَتَيَا خَيْبَرَ فِي حَاجَةٍ، فَتَفَرَّقَا فِي نَخْلِهَا، فَقُتِلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، فَأَتَى أَخُوهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَابْنَا عَمِّهِ مُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ، ابْنَا مَسْعُودٍ، فَبَدَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَتَكَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَبِّرِ الْكُبُرَ» ، يَقُولُ: يَبْدَأُ بِالْكَلَامِ الْأَكْبَرُ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَكْبَرَ مِنْ صَاحِبَيْهِ، فَتَكَلَّمَا فِي قَتْلِ صَاحِبِهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَحِقُّوا قَتِيلَكُمْ أَوْ صَاحِبَكُمْ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ» ، فَقَالُوا: قَوْمٌ كُفَّارٌ، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ سَهْلٌ: «فَأَدْرَكْتُ نَاقَةً مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ، فَرَكَضَتْنِي رَكْضَةً فِي مِرْبَدٍ لَهُمْ»
ترجمہ

…نبی کریم ﷺ کے پاس ان کا بھائی عبدالرحمن بن سہل، اور ان کے چچازاد بھائی محیصہ اور حویصہ، ابنائے مسعود، آئے۔ عبدالرحمن نے پہلے بولنا شروع کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بڑے کو بولنے دو۔“ یعنی سب سے بڑا شخص بات کا آغاز کرے، اور عبدالرحمن اپنے دونوں ساتھیوں سے بڑے تھے، تو دونوں چچازاد بھائیوں نے اپنے ساتھی کے قتل کے بارے میں بات کی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پچاس افراد کی قسموں سے اپنے مقتول کا خون یا اپنے ساتھی کا حق ثابت کرو۔“ انہوں نے عرض کیا: وہ (یہودی) کافر قوم ہیں۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون بہا ادا کیا۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”پھر میں ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی کے قریب گیا تو اس نے مجھے ان کے باڑے میں ایک لات ماری۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5606
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 100، حدیث 5627