المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سهل بن أبي حثمة الأنصاري " كان ينزل المدينة " باب: سیدنا سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ، مدینہ میں رہتے تھے
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي بَشِيرُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ: سَمِعَ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ يَقُولُ: وَجَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ قَتِيلًا فِي فَقِيرٍ أَوْ قَلِيبٍ مِنْ فُقُرِ، أَوْ قُلُبِ خَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَعَمَّاهُ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ، ابْنَا مَسْعُودٍ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْكُبُرَ الْكُبُرَ» ، فَتَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَذَكَرَ مَقْتَلَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا وَجَدْنَا عَبْدَ اللهِ بْنِ سَهْلٍ قَتِيلًا، وَإِنَّ الْيَهُودَ أَهْلُ كُفْرٍ وغَدْرٍ، وَهُمُ الَّذِينَ قَتَلُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا، وَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ أَوْ دَمَ صَاحِبِكُمْ» ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ نَحْلِفُ عَلَى مَا لَمْ نَحْضُرْ وَلَمْ نَشْهَدْ؟ قَالَ: «فَتَبْرَأُ إِلَيْكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا» ، قَالُوا: كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ مُشْرِكِينَ؟ فَوَدِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، قَالَ سَهْلٌ: «فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي بَكْرَةٌ مِنْهَا»…نبی کریم ﷺ کے پاس عبدالرحمن بن سہل، اس کے بھائی، اور اس کے دو چچا حویصہ اور محیصہ، ابنائے مسعود، آئے۔ عبدالرحمن بات کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بڑے کو بولنے دو، بڑے کو بولنے دو۔“ چنانچہ محیصہ نے بات کی اور عبداللہ بن سہل کے قتل کا ذکر کیا، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا، اور یہودی کفر اور دغابازی والی قوم ہیں، اور انہی نے اسے قتل کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو تم پچاس قسمیں کھاؤ گے، اور اپنے ساتھی کا حق یا اپنے ساتھی کا خون ثابت کرو گے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اس بات پر کیسے قسم کھائیں جس میں نہ ہم حاضر تھے اور نہ ہم نے دیکھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہودی تمہارے سامنے پچاس قسمیں کھا کر بری ہو جائیں گے۔“ انہوں نے عرض کیا: ہم مشرک قوم کی قسمیں کیسے قبول کریں؟ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے خون بہا ادا کیا۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”اس (خون بہا کے اونٹوں) میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔“