❮
❯
حدیث نمبر: 5608
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ، فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا، فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ: قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا؟ فَقَالُوا: مَا قَتَلْنَاهُ، وَلَا عَلِمْنَا، فَانْطَلَقُوا إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ، فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلًا، فَتَكَلَّمَ أَصْغَرُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْكُبُرَ الْكُبُرَ» ، فَقَالَ لَهُمْ: «تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَ» ، قَالُوا: مَا لَنَا مِنْ بَيِّنَةٍ، قَالَ: «فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ» ، قَالُوا: لَا نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ، فَكَرِهَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنْ يَبْطُلَ دَمُهُ، فَوَدَاهُ بمِائَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ
ترجمہ

بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی، جسے سہل بن ابی حثمہ کہا جاتا تھا، نے انہیں بتایا کہ ان کی قوم میں سے کچھ لوگ خیبر گئے، وہاں الگ الگ ہو گئے، تو انہوں نے اپنے میں سے ایک کو مقتول پایا۔ انہوں نے ان لوگوں سے کہا جن کے پاس وہ پایا گیا تھا: کیا تم نے ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہ ہم نے اسے قتل کیا، نہ ہمیں اس کا علم ہے۔ چنانچہ وہ نبی اللہ ﷺ کے پاس گئے اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم خیبر گئے تو ہم نے اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا۔ وفد میں سے سب سے چھوٹا شخص بولنے لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بڑے کو بولنے دو، بڑے کو بولنے دو۔“ پھر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم قاتل کے خلاف گواہ لاؤ۔“ انہوں نے عرض کیا: ہمارے پاس کوئی گواہ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو وہ (یہودی) تمہارے سامنے قسمیں کھا لیں؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم یہودیوں کی قسموں پر راضی نہیں۔ نبی اللہ ﷺ نے یہ بات ناپسند کی کہ اس (مقتول) کا خون رائیگاں جائے، چنانچہ آپ ﷺ نے صدقے کے سو اونٹوں سے اس کا خون بہا ادا کیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5608
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 100، حدیث 5629